 |  پاکستانی حکومت نے سفیر یونس خان کو اردن منتقل کر دیا ہے |
بغداد میں ہونے والے حملے کے بعد پاکستانی سفیر یونس خان اب اردن چلے گئے ہیں۔ عراق میں تعینات سینیر پاکستانی سفارتکار پر حملہ منگل کے روز کیا گیا۔ بی بی سی اردو سروس کے پرگرام ’سیربین‘ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا: ’ شہر کے منصور ڈسٹرکٹ میں ہمارا آفس بھی ہے اور رہائش بھی۔ میں دفتر سے گھر آ رہا تھا تو دو گاڑیوں نے ہم پر حملہ کیا۔ خوش قسمتی یہ تھی کہ میرے پاس اسکارٹ تھا۔ حملہ آوروں کو دو گولیاں لگیں۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ ان کو اغوا کرنے کی کوشش تھی تو انہوں نے کہا: ’یہ کہنا مشکل ہے ، سب کچھ اچانک ہی ہوا، بس اللہ تعلیٰ نے بچا لیا۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے لیے بغداد میں کیا حفاظتی انتظامات ہیں تو انہوں نے کہا کہ ’ہماری حکومت نے گارڈز دیے ہوئے ہیں‘ لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ گارڈز کون ہیں اور کیا یہ پاکستانی فوجی ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتے۔ پاکستانی سفیر پر حملہ اسی روز ہوا جس روز بحرین کے سفارتکار ایک حملے میں زخمی ہوئے۔ اس سے تین روز پہلے عراق میں مصر کے سفیر کو بغداد سے اغوا کیا گیا تھا۔ |