BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 04 February, 2005, 12:34 GMT 17:34 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
قانون سے بالاتر کوئی نہیں: عنان
 
پال والکر
پال والکر کو گزشتہ اپریل میں تحقیقات کا ذمہ سونپا گیا تھا
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے عراق کے لیے پروگرام تیل برائے خوراک کے ذمہ دار بنون سیوان کے خلاف انضباطی کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔

یہ فیصلہ اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں بنون سیوان پر اقوامِ متحدہ کے وقار کا خیال نہ رکھنے اور غیر اخلاقی رویہ اپنانے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

کو فی عنان نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اپنے اس وعدے پر قائم ہیں کہ قانون شکنی کرنے والے کسی بھی فرد کو قانونی کارروائی سے بچایا نہیں جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجرمانہ الزمات کے بعد وہ اپنے عملے کے کسی بھی رکن کے سفارتی استحقاق کو ختم کر سکتے ہیں۔

کوفی عنان نے کہا کہ بنون سیوان اور سکیورٹی کونسل کے معاملات کے سربراہ جوزف ہینیڈس کے خلاف انضباطی کارروائی پہلے ہی شروع کی جا چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بنکاری اور معائنہ کار کمپنیوں کے معاملات کی درستگی کے لیے بھی کام شروع کر دیا گیا ہے۔

تقتیشی ٹیم کے سربراہ پال والکر نے کہا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ سیوان نے بارہا عراقیوں کو تیل ایک مخصوص کمپنی کو بیچنے کو کہا تھا۔

تیل برائے خوراک پروگرام کا مقصد عراقیوں کی مدد کرنا تھا

ابتدائی تفتیشی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیوان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے عراق نے ان کی بات مان لی تھی تاکہ وہ تیل کی تنصیبات کی تعمیر سے متعلق ان کی حمایت حاصل کر سکے۔

پال والکر نے نیویارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بنون سیوان کے طرزِ عمل کو اخلاقی طور پر غلط قرار دیا۔

پال والکر کو گزشتہ اپریل میں رشوت ستانی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے مقرر کیا گیا تھا اور ان کی مکمل رپورٹ جون 2005 میں آنے کی توقع ہے۔

بنون سیوان نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔

عراق کو تیل برائے خوراک پروگرام کے تحت اجازت دی گئی تھی کہ وہ
بین الاقوامی پابندیوں کے دوران تیل فروخت کر کے اس رقم سے ادویات اور خوراک خرید سکتا ہے۔

یہ پروگرام 1996 سے 2003 تک جاری رہا تھا۔

اس پروگرام سے متعلق یہ الزام بھی لگایا جاتا رہا ہے کہ صدام حسین نے اس پروگرام کے تحت حاصل ہونے والی رقم کا کچھ حصہ ذاتی طور پر استعمال کیا تھا۔

اس سلسلے میں عراقی حکومت اور امریکی سینیٹ بھی اپنے طور پر تفتیش کر رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور ان کے بیٹے کے سلسلے میں ایک علیحدہ رپورٹ بھی مستقبل میں شائع کی جائے گی۔ کوفی عنان کے بیٹے کوجو عنان تیل برائے خوراک پروگرام سے متعلقہ ایک کمپنی میں کام کرتے رہے ہیں۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد