BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 February, 2005, 15:28 GMT 20:28 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
سات برطانوی فوجیوں پر مقدمہ
 
اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ ایک عراقی شہری کے قتل کے الزام میں برطانیہ کے سات فوجیوں پر مشترکہ طور پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ ان فوجیوں پر پُرتشدد بدنظمی کا الزام بھی ہے۔

یہ فردِ جرم گیارہ مئی دو ہزار تین کو عراق کے جنوب میں العزیرہ کے مقام پر سڑک کے کنارے ندیم عبداللہ کے قتل سلسلے میں عائد کی گئی ہے۔

ان سات ملزمان میں کاپورل سکاٹ ایونز، پرائیویٹ ولیم نرنی اور ڈینیئل ہارڈنگ کے علاوہ دیگر کے نام انہیں الزامات سے آگاہ کرنے کے بعد واضح کیے جائیں گے۔

اٹارنی جنرل لارڈ گولڈ سمتھ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جبکہ حکومت اور مسلح افواج کے لیے کڑی گھڑی ہے۔

عدالت کے حکم پر حکومت اس بات پر مجبور ہو گئی ہے کہ وہ عراقی شہری باہا موسیٰ کے قتل کی آزادانہ چھان بین کرائے۔ باہا موسیٰ ہوٹل میں کام کرنے والے اُن چھ محنت کشوں میں سے ایک تھے جنہیں جنوبی عراق میں گرفتار کیا گیا تھا۔

دوسری جانب ایک برطانوی فوجی کے خلاف عراقی قیدیوں کو جبراً برہنہ کرنے کے الزامات خارج کر دیئے گئے ہیں۔

 
 
’کرائے کے فوجی‘
پرائیویٹ فوجیوں پر کونسا قانون لاگو؟
 
 
ابو غریب جیلابو غریب جیل
عراقی قیدیوں فوجیوں کے ہاتھوں پر تشدد ٹی وی پر
 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد