BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 October, 2004, 21:55 GMT 02:55 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’عراق میں ممنوعہ ہتھیار نہ تھے‘
 
چارلس ڈیولفراس سال جنوری سے سروے گروپ کے سربراہ ہیں
عراق میں جنگ کے خاتمے کے بعد ملک میں ممنوعہ ہتھیار تلاش کرنے والے عراق سروےگروپ نے اپنی حتمی رپورٹ پیش کر دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حملے کے وقت صدام حسین کے پاس حیاتیاتی، کیمیکل یا جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کے کوئی شو اہد نہیں ملے۔

تاہم ہتھیار تلاش کرنے والے اس عراقی سروے گروپ نے اپنی مفصل رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی بات ماننے سے انکار کرتے ہوئے صدام حسین کا ایسے ممنوعہ ہتھیار بنانے کا منصوبہ تھا۔

بدھ کے روز ہتھیاروں کے انسپکٹرز کے سربراہ چارلس ڈیولفر نے اپنی رپورٹ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ صدام نے حملے کے وقت ہتھیار ذخیرہ کر رکھے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے تمام ہتھیاروں کو انیس سو اکیانوے کی خلیجی جنگ کے بعد تلف کر دیا گیا تھا۔

گزشہ ماہ اس رپورٹ کا مسودہ خفیہ طور پر منظرِ عام پر آنے کے بعد رپورٹ کی تفصیلات کے بارے میں پہلے ہی لوگوں کو اندازہ تھا۔

توقع کی جارہی تھی کہ ہتھیاروں کے انسپکٹرز کے سربراہ امریکہ میں سینیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیش ہوکر اس بات کی بھی تصدیق کریں گے کہ جب مارچ دو ہزار تین میں عراق پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے حملہ کیا تھا، عراق کے پاس وسیع تباہی کے ہتھیار نہیں تھے۔

ادھر امریکی انتظامیہ کہ اہلکاروں نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ اس رپورٹ میں اس بات کی نئی شہادت ہوگی کہ صدام حسین ممنوعہ ہتھیاروں کی تیاری کا منصوبہ رکھتے تھے۔

امریکی حکام کہتے ہیں کہ رپورٹ میں یہ ذکر بھی ہوگا کہ عراق نے کس طرح اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی پروا نہ کرنے کا ارادہ کر رکھا تھا۔

رپورٹ میں کہا جائے گا کہ عراق نے حیاتیاتی اور کیمیاوی ہتھیاروں کے ذریعے لوگوں کو قتل کرنے کے لیے کس خفیہ طور پر لیبارٹریاں بنانے کی کوشش کی۔

بی بی سی کے نامہ نگار نک چائلڈز کا کہنا ہے کہ ایک ہزار صفحات کی یہ رپورٹ عراق کے ہتھیاروں کے پروگرام کے بارے میں اب تک بننے والی تمام رپورٹوں میں سب سے معتبر سمجھی جا رہی ہے۔

نامہ نگار کے مطابق امریکہ میں صدارتی انتخاب کی اہمیت اور ہر مباحثے میں مرکزی کردار عراق کو حاصل ہے لہذا اب دونوں صدارتی امیدواروں کے کیمپ رپورٹ میں سے اپنی اپنی مرضی کے حصے اٹھائیں گے اور انتخابی مہم میں انہیں استعمال کریں گے۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد