BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 April, 2004, 14:44 GMT 19:44 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
شدت پسند عرفات کے دفتر سے باہر
 
اسرائیل کو مطلوب بیس فلسطینی شدت پسندوں کو یاسر عرفات کے صدر دفتر سے زبردستی باہرنکال دیاگیا ہے۔

یہ بیس افراد غربِ اردن کے شہر رملہ میں اس عمارت میں پناہ لئے ہوئے تھے جہاں فلسطینی رہنما یاسر عرفات قیام پذیر ہیں۔

اسرائیل کی طرف سے حالیہ ہفتوں میں بہت زیادہ دباؤ تھا کہ ان بیس شدت پسندوں کو اس کے حوالے کیا جائے۔

اس خدشہ کا بھی اظہار کیا جا رہا تھا کہ یاسر عرفات کے صدر دفتر میں ان شدت پسندوں کی موجودگی کے باعث کہیں اسرائیل کو وہاں دھاوا بول دینے کا موقع نہ مل جائے۔

یاسر عرفات کے صدر دفتر سے معلوم ہوا ہے کہ یاسر عرفات کے عملے نے ان بیس شدت پسندوں کو صاف صاف کہہ دیا کہ وہ پناہ کی غرض سے عمارت کو مزید استعمال نہیں کر سکتے۔

جعمرات کو صبح سویرے یہ افراد رملہ کی گلیوں میں نکل گئے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اب اسرائیلی حکام انہیں تلاش کر رہے ہوں گے۔

ان بیس افراد میں سے اکثر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ العقصیٰ برگیڈ کے رکن ہیں جس کا تعلق یاسر عرفات کی الفتح تحریک سے جوڑا جاتا ہے۔

یاسر عرفات کے صدر دفتر کی عمارت کو دو سال قبل اسرائیلی فوج نے کافی نقصان پہنچایا تھا اور فلسطینی رہنما یہاں ایک قیدی کی طرح رہتے ہیں۔

اسرائیلی کی طرف سے کئی دفعہ یا عندیہ دیا گیا ہے کہ وہ اس عمارت کو مطلوبہ شدت پسندوں کی پناہ گاہ نہیں بننے دیں گے۔

باور کیا جاتا ہے کہ اس عمارت میں چھپے ہوئے اکثر شدت پسند از خود چلے گئے تھے تاہم باقی ماندہ بیس کو یاسر عرفات کی ٹیم نے جانے کے لئے کہا۔

اسرائیل نے حالیہ عرصے میں واضح کر دیا ہے کہ وہ فلسطینی قیادت کے خلاف سخت ترین فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔

گزشتہ ماہ اسرائیل نے حماس تنظیم کے دو اہم ترین رہنماؤں کو نشانہ بنا کر ہلاک کیا ہے۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد