BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 16 April, 2004, 03:08 GMT 08:08 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
سعودی عرب سے امریکی انخلاء
 
کولن پاول کا کہنا ہے کہ انخلاء کا حکم سلامتی کی صورتحال کے پیش نظر دیا گیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ ولن پاول نے کہا ہے کہ انہوں نے لازمی عملے کے سوا تمام امریکی سفارتکاروں کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ حکم سلامتی سے متعلق خدشات کے پیش نظر دیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کے اس حکم کا اطلاق دارالحکومت ریاض واقع امریکی سفارتخانے اور جدہ اور دہران کے قونصل خانوں میں تعینات امریکی سفارتی عملے کے اہل خانہ پر بھی ہوگا۔

منگل کو دارالحکومت ریاض میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مبینہ شدت پسندوں کے درمیان ہونے والی ایک جھڑپ میں چھ افراد ہلاک ہوئے تھے اور حکام نے دھماکہ خیز مواد سے لدی دو گاڑیوں کو قبضے میں لے لیا تھا۔

سعودی صحافی راشد حسین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ امریکی سفارتکاروں کے انخلاء کی خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی حکام اور انتہا پسندوں کے درمیان متوتر مقابلوں کی خبریں آ رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سوموار، منگل اور بدھ کو سعودی سیکیورٹی کے اہلکاروں اور انتہا پسندوں کے درمیان مقابلوں میں چھ اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں اور اب تک کوئی گرفتاری ممکن نہیں ہو سکی۔

راشد حسین کا کہنا ہے دو روز قبل امریکی شہریوں کو مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ اپنے ارد گرد پر نظر رکھیں اور ہوشیار رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت کی کوششوں کے برخلاف امریکی مخالفت بڑھتی جا رہی ہے۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد