BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 April, 2004, 15:41 GMT 20:41 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
افغانستان کی خاتونِ اول
 
۔
افغانستان کی خاتونِ اول زینت کرزئی اپنی زندگی کے پہلے انٹرویو میں افغان ثقافت اور چالیس سال بعد افغانستان میں ہونے والے الیکشن کے بارے میں بات کرتی ہیں۔

افغانستان کے صدر کی بیوی ہونے کے باوجود زینت کرزئی اس قدر گمنامی کی زندگی گزار رہی ہیں کہ بہت سے لوگ ان کی موجودگی کے بارے میں بھی نہیں جانتے۔ حامد کرزئی کے قریبی رفقاء بھی ان کی بیوی کا نام تک نہیں جانتے۔

افغان عوام اپنی خاتون اول کے بارے میں اس قدر لاعلم ہیں کہ اکثر وہ کابل کے بازاروں میں خریداری کے لیے تنہا چلی جاتی ہیں۔ زینت کرزئی جن کے شوہر سولہ امریکی محافظوں اور سخت حفاظتی اقدامات کے بغیر اپنے محل سے ایک قدم باہر نہیں جاسکتے شہر میں تنہا گھومتی پھرتی ہیں۔

کابل میں صدارتی محل تک پہنچنے

کے لیے چار چیک پوائنٹس سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد دو جگہوں پر جسمانی تلاشی لی جاتی ہے اور آخر میں محل میں داخل ہونے پر خفیہ الفاظ یا ’پاس ورڈز‘ پوچھے جاتے ہیں اور اس کے بعد کوئی ذی روح محل میں داخل ہوسکتا ہے۔

اس حفاظتی حصار کے بعد محل میں چونتیس سالہ زینت کرزئی رہتی ہیں۔ گندمی رنگ والی شانوں تک سیاہ زلفیں پھیلائے سرخ ریشمی اسکارف اوڑھے زینت کرزئی کو انٹرویو کرنے والی حمیدہ غفور نے ایک فصیح اور صاحب رائے خاتون پایا۔

دو سال قبل کابل آنے والی زینت کرزائی آھستہ آھستہ اپنے پر کشش شوہر کے ساتھ ساتھ ایک عوامی شخصیت بنتی جا رہی ہیں۔

گزشتہ ہفتے زینت کرزئی کا نام جو تعلیم کے اعتبار سے ایک گائناکالوجسٹ ہیں کابل میں ایک ووٹر کی حیثیت سے درج کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے دفتر میں جہاں ان کے ووٹ کا اندراج کیا گیا کیمرے یا ٹیپ ریکارڈر کو سیکیورٹی کے پیش نظر لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

گزشتہ ہفتے زینت کرزئی نے اسلام آباد

پاکستان میں منعقد ہونے والی ایشیا اور بحرالکاہل کے ممالک سے تعلق رکھنے والی خاتون اول کی ایک کانفرنس میں شرکت کی جہاں انھوں نے طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد افغان خواتین کی بہتری کے لیے کئے جانے والے اقدامات کو تفصیل سے بیان کیا۔

انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ لوگ ان کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ایک قدامت پسند معاشرہ ہے اور وہ اس کی اقدار سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔ انہوں نے کہا انھیں احتیاط کے ساتھ قدم اٹھانا ہوں گے ورنہ وہ بہت سے لوگوں کو ناراض کر لیں گی۔

حامد کرزئی اس معاملے میں بہت محتاط ہیں۔ افغانستان کے سابق بادشاہ ظاہر شاہ نے انیس سو پچاس واشنگٹن اور مغرب کی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے اپنی بیوی کو عوامی اجتماعات اور سرکاری تقریبات میں لے جانا شروع کر دیا تھا جس سے قدامت پسند پختوں معاشرے میں شدید غصہ پیدا ہو گیا تھا۔

اس سال خزاں میں ہونے والے انتخابات

میں اگر حامد کرزئی جیت گئے اور جس کا قوی امکان ہے تو زینت کرزئی خطے کے دوسرے ملکوں کی خواتین اول کی طرح کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

بیگم کرزئی نے کہا کہ ان پر عائد پابندیوں سے وہ زیادہ پریشان نہیں ہیں۔ ان پابندیوں کے باعث انھیں اپنا طب کا مقدس پیشہ بھی چھوڑنا پڑا۔ وہ پڑوسی ملک پاکستان کے شہر کوئٹہ میں گائناکالوجسٹ کی حیثیت سے کام کر رہی تھیں۔

وہ آج بھی فارغ اوقات میں طب کی کتابوں کا مطالعہ کرتی ہیں اور شام کو ان کے شوہر محل کے لان میں ٹینس کھیلتے ہیں۔دونوں میاں بیوی راسخ العقیدہ مسلمان ہیں اور وہ سر پر چادر اوڑھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ زندگی گزارنے کا انہوں نے خود فیصلہ کیا اور وہ افغانستان میں ہی رہنا چاہتی ہیں اور اسے کبھی چھوڑنا نہیں چاہتیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ افغان خواتین کی مدد کرنا چاہتی ہیں لیکن اپنی حیثیت کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کر سکتیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ افغان عوام کی تعلیم

اور صحت کے شعبوں میں خدمت کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کولندن سے شائع ہونے والے انگریمی اخبار ٹیلیگرف میں شائع ہونے والے انٹرویو میں کہا ہے کہ افغان خواتین کی زندگیوں میں گزشتہ دو سالوں میں مثبت تبدیلی آئی ہے۔

انہوں نے کہا اب خواتین اپنی روزی کما سکتی ہیں چاہیے وہ قالین بافی میں مزدوری کریں چاہیے وہ کابل کی سڑکوں پر۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کے دورے حکومت میں تو وہ گھروں سے بھی نہیں نکل سکتی تھیں۔

زینت کرزئی کے والد قندھار میں ایک سرکاری ملازم تھے جو انیس سو ترانوے میں پاکستان کے شہر کوئٹہ چلے گئے تھے۔ زینت کرزئی نے اس وقت کابل یونیورسٹی سے ڈاکٹری کی سند حاصل کی تھی۔

زینت کرزئی نے کہا کہ ہم اللہ کے سہارے

پاکستان چلے گئے تھے اور ہمیں کچھ معلوم نہیں تھا کہ ہمارے ساتھ کیا حالات پیش آنے والے ہیں۔

حامد کرزئی ان کے دور کے رشتہ دار تھے اور ان کی شادی گھروالوں کی مرضی سے انجام پائی تھی۔ حامد کرزئی کی عمر اس وقت چالیس سال تھی۔

ان کے کوئی اولاد نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ انھیں باوجود سماج پابندیوں کے بہت سے فلاحی کام سرانجام دینے کا وقت مل جاتا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب وہ اپنے محل میں افغان خواتین کے مختلف وفود سے ملاقاتیں نہیں کرتی ہوں جس میں دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والی ناخواندہ خواتین سے لے کر پڑھی لکھی اور زندگی کے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے والی خواتین بھی شامل ہیں۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد