BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 March, 2004, 08:58 GMT 13:58 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
کشمیر: مجوزہ قانون سکونت پر اشتعال
 
مجوزہ قانون کی وجہ سے وادی کی مسلم اکثریت میں اختلاف پیدا ہوگیا ہے
بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں متنازعہ مسودہ قانون پر بحث کے موقع پر جمعرات کو احتجاجی ہڑتال کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

مجوزہ مسودہ قانون کے تحت اگر کوئی کشمیری عورت ریاست سے باہر کسی شخص سے شادی کرے گی تو وہ ریاست میں اپنے سکونتی حق سے محروم قرار پائے گی۔

ریاست میں اس بل کے خلاف ہڑتال بی جے پی اور دوسری مقامی سیاسی جماعتوں کے علاوہ حقوق انسانی سے متعلق خواتین کی تنظیموں کی اپیل پر کی جا رہی ہے۔

ہڑتال کا زیادہ اثر جموں میں دیکھنے میں آیا ہے۔ جموں کے علاقے میں دکانیں اور بازار بند ہیں اور آمد و رفت کا نظام معطل ہے۔

اگرچہ ریاستی سطح پر اس مسودہ قانون کو سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے تاہم قومی سطح پر حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس اس بل کی مخالفت کر رہے ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے عام انتخابات کے دوران یہ بل ایک اہم انتخابی مسئلہ کے طور پر سامنے آئے گا۔

یہ بل ریاست کی حکمران جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے متعارف کروایا ہے اور ریاستی اسمبلی پہلے ہی اس کی منظوری دے چکی ہے۔

اب اس بل پر ریاست کے ایوان بالا یا سٹیٹ لیجسلیٹیو کونسل میں بحث ہوگی جس کے بعد اس کی منظوری کے لئے رائے شماری ہوگی۔

بھارتی آئین کی شق تین سو ستّر کے تحت ریاست جموں کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل ہے جس کی رو سے وہ خود قانون سازی کر سکتی ہے۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد