فیب انڈیا: انڈیا کے مشہور کپڑے کا برانڈ دائیں بازو کے لیے پریشانی کا باعث کیوں؟

- مصنف, سوتک بسواس
- عہدہ, بی بی سی نامہ نگار، انڈیا
انڈیا کے کپڑوں کا ایک مشہور برانڈ ’فیب انڈیا‘ جو اپنے ثقافتی ملبوسات کے لیے جانا جاتا ہے، اکثر ملک کے سخت گیر دائیں بازو کی جماعتوں اور گروہوں کے غصے کا نشانہ بنتا ہے۔ مگر مقامی روایات سے جُڑے اس برانڈ کو قوم پرستوں کی طرف سے تنقید کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے؟
حال ہی میں ’کشمیر فائلز‘ فلم بنانے والے وویک اگنی ہوتری، حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے حامی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ گذشتہ اکتوبر میں انھوں اسی برانڈ یعنی دستکاری کی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی فیب انڈیا کے خلاف ایک غصے والا پیغام دیا تھا۔ اس پیغام کا پس منظر یہ تھا کہ اُسی مہینے کمپنی نے دائیں بازو کے ہندو گروپوں کے شدید ردعمل کو دیکھ کر ہندو تہوار دیوالی سے متعلق ایک نئے اشتہار کو واپس لے لیا تھا۔
’فیب انڈیا‘ پر الزام تھا کہ انھوں نے ہندوؤں کے تہوار دیوالی پر کپڑوں کی ایک کلیکشن کے اشتہار میں اُردو زبان کا استعمال کیا ہے۔
کپڑوں کی اس کلیکشن کو ’جشن رواج‘ کہا گیا ہے لیکن اس اشتہار کے منظرِ عام پر آنے کے بعد ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے بعض افراد نے یہ الزام لگایا ہے کہ اس سے ان کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔
ناقدین کا کہنا تھا کہ ’فیب انڈیا‘ جو فرنیچر سے لے کر کپڑے اور کھانے پینے تک کی چیزیں فروخت کرتا ہے، دراصل اپنے اس اشتہار میں ہندوؤں کے تہوار کا استعمال کر رہا ہے۔ تاہم ’فیب انڈیا‘ کے ایک ترجمان نے اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ کو وضاحت دی کہ ’جشن رواج‘ ان کی دیوالی کلیکشن نہیں۔
مگر وویک اگنی نے پانچ ٹویٹ والے ایک تھریڈ میں فیب انڈیا پر الزام لگایا کہ (اسے پہننے والے) انڈیا کے غیر ثقافتی شیمپین پینے والے لبرلز ہیں جو اپوزیشن جماعت کانگریس سے منسلک ہیں۔
انھوں نے چھ دہائیوں پرانی اس کمپنی کے غیر ملکی تعلق کو بھی اجاگر کیا۔ ان کے مطابق فیب انڈیا کی بنیاد سنہ 1960 میں ایک امریکی تاجر جان بسل نے رکھی تھی، جو فورڈ فاؤنڈیشن کے پیسوں پر انڈیا آئے تھے۔ خیال رہے کہ اس کمپنی کی انڈیا کے 123 شہروں میں 300 سے زیادہ دکانیں ہیں اور فیب انڈیا بین الاقوامی سطح پر 11 سٹور چلا رہی ہے۔
مگر وویک اگنی ہوتری کی طرح اس کمپنی کے خلاف غصے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ 2012 میں مصنف چیتن بھگت نے ٹویٹ کیا کہ فیب انڈیا پہننے سے آپ کوئی آپ کو دانشور نہیں بنا دیتا۔ جب سے سنہ 2014 میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست پارٹی اقتدار میں آئی ہے، تب سے انڈیا کے لبرلز سوشل میڈیا پر تنقید کے نشانے پر رہے ہیں۔
فیب انڈیا کے ہاتھ سے بُنے ہوئے اور ہاتھ سے پرنٹ کردہ ثقافتی کپڑے پہننے والوں کو کبھی گالیاں دی جا رہی ہیں تو کبھی مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ اور یہ ایک منقسم ملک عکاسی کرتا ہے۔
دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح، انڈیا میں بھی دائیں بازو والے ’لبرل ازم‘ کے خلاف جنگ کر رہے ہیں۔ ان کے خیال میں بائیں بازو والے انھیں لیکچر دیتے ہیں، ان کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کی توہین کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
یہ ایک پریشان کن خیال ہے۔
کتاب دی فیبرک آف آور لائیوز: دی سٹوری آف فیب انڈیا کی مصنفہ رادھیکا سنگھ کا کہنا ہے کہ جب فیب انڈیا شروع ہوا تو یہ ایک ایلیٹ برانڈ تھا۔ ‘اس برانڈ کو سنہ 1960 میں ایک برآمدی کاروبار کے طور پر شروع کیا گیا تھا، جس نے گاؤں والوں کے ساتھ روایتی قالین بنانے کے کنریکٹ کر رکھے تھے۔‘
دلی کے ایک گودام سے یہ برانڈ مقامی افراد کو فروخت کیا گیا۔ اس برانڈ کا پہلا سٹور 1974 میں دلی میں کھلا۔
اس برانڈ کے ہاتھ سے بنے ہوئے اور ہاتھ سے پرنٹ شدہ کپڑے اور ڈیزائن مقامی دستکاری اور روایت کے مطابق تھے۔ اس کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وہ انڈیا بھر سے 55,000 سے زیادہ کاریگروں کے روزگار میں مدد کرتی ہے۔
اس کمپنی پر تحقیق کرنے والی امریکہ کی ییل یونیورسٹی کی ماہر بشریات (انتھروپالوجسٹ) جین لنچ کے مطابق دوسرے لفظوں میں فیب انڈیا کی شکل ڈیزائنروں، خریداروں اور کاریگروں کے ساتھ کئی دہائیوں کے مکالمے کے بعد تیار کی گئی ہے۔
فیب انڈیا کے کپڑے کپاس سے بنے ہوتے ہیں جو پہننے میں آسان اور ہلکے ہوتے ہیں۔ سماجی ادارے بن داس کولیکٹو کی شریک بانی میتا مستانی کہتی ہیں کہ ان میں روایت سے واقفیت اور ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے۔
اب فیب انڈیا کمپنی نے اپنے کام میں توسیع کر دی ہے۔ یوں اب اس کمپنی نے فرنیچر، صوفہ سازی، قالین اور آرگینک فوڈ کی فروخت بھی شروع کر دی ہے۔
فیب انڈیا خود کو روایتی تکنیکوں، مہارتوں اور دستکاری پر مبنی عمل سے تیار کردہ مصنوعات کے لیے انڈیا کے سب سے بڑے نجی پلیٹ فارم کے طور پر متعارف کراتا ہے۔
انڈیا کے میگزین اور اخبارات اب اسے لائف سٹائل ریٹیل برانڈ کے طور پر پکارتے ہیں۔ اکانومسٹ میگزین نے ایک بار اسے فینسی کپڑوں اور دستکاریوں کا برانڈ قرار دیا تھا۔
جین لنچ کو فیب انڈیا پر تحقیق کے دوران یہ معلوم ہوا کہ لوگ اکثر خود کو ایک فیب انڈیا شخص کے طور پر متعارف کراتے ہیں یا پوچھتے ہیں کہ کیا وہ ان میں سے ایک ہیں۔ ڈاکٹر لنچ کا کہنا ہے کہ یہ ایک شہری متوسط طبقے کی شناخت تھی جس کی جڑیں ملک کے کاریگروں اور ورثے کے بارے میں فکر مند رہتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ فیب انڈیا کے کپڑوں کی انڈیا کے احتجاجی فیشن کے طور پر کبھی بھی شناخت نہیں کی گئی ہے۔ اگر کھادی کو کوئی امتیاز حاصل ہے تو ہاتھ سے کاتا ہوا کپڑا تحریک آزادی کے دوران اس علامت کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا کہ انڈیا کپاس پر خود انحصار کرسکتے ہیں۔ اور یہ کہ وہ انگریزوں کے فروخت کیے جانے والے سامان اور کپڑوں کے محتاج نہیں ہیں۔
وویک اگنی ہوتری کی بات پر جائیں تو وہ کہتے ہیں کہ ’اچھے‘ لوگ آج بھی کھادی پہنتے ہیں اور ’دکھاوا کرنے والے‘ تو فیب انڈیا کی طرف دیکھتے ہیں۔
دائیں بازو والوں کو غصہ دلانا بالکل بھی مشکل کام نہیں ہے۔ فیب انڈیا کے ساتھ ایلیٹ کا ٹیگ اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ اور ملکیت کا مسئلہ، یقیناً اس میں ایک کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا برانڈ ہے جسے تخلیق کیا گیا ہے اور اسے 'غیر دیسی' یا غیر مقامی لوگوں کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ شوبھا ڈی جو کہ انڈیا کی سب سے مقبول مصنفین میں سے ایک ہیں، وہ بھی حیرت سے یہ پوچھتے ہیں کہ کیا یہ برانڈ واقعی ہماری نمائندگی کرتا ہے؟
شوبھا ڈی کا خیال ہے کہ فیب انڈیا ایک ایسا برانڈ ہے جو اونچی ایڑھی کے ’جھولے والوں‘ کی ضرورت پوری کرتا ہے۔
کالم نگار سنتوش دیسائی کا کہنا ہے کہ ایک اور انداز میں کہا جائے تو فیب انڈیا کے کپڑے ’جھولے والوں‘ کے جہیز نظریہ اور جدید دور کی سرمایہ داری کے درمیان ایک تعلق کی نمائندگی کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یونیورسٹی کالج لندن میں سماجیات کے پروفیسر سنجے سریواستو کا کہنا ہے کہ فیب انڈیا کا تعلق دستکاری کی ایک تحریک سے ہے، جس کی سرپرستی کانگریس پارٹی نے اپنے اقتدار کے عروج پر کی تھی۔ اور یہ کپڑے پہننے والوں میں مخصوص قسم کے تعلیمی، خاص طور پر سماجی علوم والے جو وزیراعظم مودی کے ناقد بھی رہے ہیں شامل ہیں۔
لہٰذا فیب انڈیا ایک پرانے متوسط طبقے سے متعلق لباس رہا ہے، جس میں انڈین پن کا ہائبرڈ احساس ہے اور معاشی اشرافیہ کے بارے میں اتنا نہیں ہے۔
پروفیسر سریواستو کا کہنا ہے کہ یہ مصنوعات میٹروپولیٹن ثقافتی اشرافیہ کی ضروریات کو پورا کرتی ہیں۔ انڈیا میں غیر میٹروپولیٹن شہروں کی بڑھتی ہوئی اہمیت۔۔۔ بڑی تعداد میں وہاں سے نوکریوں کے لیے بڑے شہروں تک نقل مکانی، جہاں بی جے پی کی حمایت بڑھ گئی ہے، اس وجہ سے یہ بھی فیب انڈیا کو ایک اہم علامتی ہدف بنا سکتا ہے۔
اس کے باوجود تمام فیب انڈیا پہننے والے لوگوں کو بدحواسی سے جوڑنا، وزیراعظم مودی کی پارٹی اور اس کے نظریے کے مخالف لبرل سے اس کا تعلق بتانا حقائق سے منافی ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر لنچ کا کہنا ہے کہ جو لوگ اس کے سٹورز پر خریداری کرتے ہیں وہ ایک واحد یا خاص سیاسی اور اخلاقی نقطہ نظر کی نمائندگی نہیں کرتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ فیب انڈیا جزوی طور پر بہت دلچسپ ہے کیونکہ یہ کس طرح سماجی مقامات پر لوگوں کو اکٹھا کرتی ہے۔
بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ حیران ہیں کہ وزیراعظم مودی کے حامی ایک ایسی فرم کو مشہور کرنے کا انتخاب کیوں کریں گے، جس کی مصنوعات دور دراز کے دیہاتوں میں ہزاروں کاریگروں سے حاصل کی جاتی ہیں۔
خود وزیر اعظم نے میک ان انڈیا کو اپنے صنعتی پروگرام کا سنگ بنیاد قرار دیا ہے۔ فیب انڈیا اس سال کے آخر میں اسٹاک مارکیٹ میں قدم رکھنے پر کاریگروں اور کسانوں کو 700,000 سے زیادہ شیئرز تحفے میں دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔
یہ ایک بڑے پیمانے پر برانڈ ہے۔ اس کے کپڑے بھی نان کنفارمسٹ کی وردی بن گئے ہیں۔ یہ آزاد خیال رکھنے والوں کے لیے ایک آسان علامت بن گیا ہے۔






















