بابری مسجد کے انہدام کی کہانی، تصویروں کی زبانی

بابری مسجد کی تباہی کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مسجد کو ایک گہری سازش کے تحت گرایا گیا۔

،تصویر کا ذریعہPRAVEEN JAIN/BBC

،تصویر کا کیپشنفوٹوگرافر پروین جین نے بابری مسجد کو گرانے سے پہلے ایک دن پہلے کی جانے والی مشقوں کی تصاویر بنائیں۔ ان مشقوں میں آر ایس ایس کے ہزاروں کارکنوں نے شرکت کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہPRAVEEN JAIN/BBC

،تصویر کا کیپشنکارکنوں نے مٹی کے ٹیلے زمین پر گرا دیے تھے اور اگلے دن چھ دسمبر 1992 کو یہ عمل دہرایا گیا۔

،تصویر کا ذریعہPRAVEEN JAIN/BBC

،تصویر کا کیپشنچھ دسمبر کو، پولیس اہلکار بھی وہاں نعرے لگا رہے رہے تھے. دوپہر کے بعد بھیڑ پرتشدد ہو گئی اور مسجد کی حفاظت کے لیے تعینات پولیس اور کارکنوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہPRAVEEN JAIN/BBC

،تصویر کا کیپشنبابری مسجد کے انہدام کے بعد فسادات میں تقریباً دو ہزار افراد ہلاک ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہPRAVEEN JAIN/BBC

،تصویر کا کیپشنبابری مسجد کو گرانے میں نہ صرف کارکنان بلکہ عمارت گرانے والے پیشہ ور افراد بھی شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکچھ ہندوؤں کا خیال ہے کہ اس متنازع جگہ پر ہندو دیوتا شری رام کی جائے پیدائش ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنتباہ ہونے والی بابری مسجد کو 16 ویں صدی میں تعمیر کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبابری مسجد کی تباہی کی تحقیقات کرنے والے جسٹس لبرہان کمیشن نے 2009 میں اپنی رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ مسجد کو ایک گہری سازش کے تحت گرایا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجس کے بعد لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اما بھارتی سمیت بہت سے افراد کے خلاف مجرمانہ سازش کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناس سلسلے میں دو مقدمات چل رہے ہیں، ایک سازش کرنے کا اور دوسرا زمین کے مالکانہ حقوق کا۔