افغانستان میں افیون کی فیکٹریاں، ہزاروں کا روزگار

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال افغانستان میں افیون کی کاشت میں 43 فیصد اضافہ ہوا ہے اور کاشت کاری کے بہتر طریقہ کار سے فی ہیکٹر پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ صوبہ ہلمند کی یہ تصاویر افیوں کی پیداوار کے چند مناظر پیش کر رہی ہیں۔

،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال افغانستان میں افیون کی کاشت میں 43 فیصد اضافہ ہوا ہے اور کاشت کاری کے بہتر طریقہ کار سے فی ہیکٹر پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔
،تصویر کا کیپشنہلمند ان صوبوں میں سے ایک ہے جہاں افیون کی پیداوار ایک صنعت کی شکل اختیار کر رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنہلمند سے لی گئی یہ تصاویر بتاتی ہیں کہ افیون کی پیداوار، تیاری اور تجارت سے بہت سے لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔
،تصویر کا کیپشنطالبان کے زیر کنٹرول جنوبی صوبے ہلمند میں تقریباً 80 ہزار ہیکٹر رقبے پر پوست کاشت کی گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنمگر یہ حالات صرف ہلمند میں ہی نہیں۔ افغانستان میں حکومت نے ریاستی سطح پر پوست کی کاشت ختم کرنے کی پالیسی نافذ کی ہے لیکن اس کے باوجود بھی حکومتی زیر کنٹرول علاقوں میں افیون کی کاشت میں اضافہ ہو رہا ہے اور حکام نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپوست کے پودوں سے حاصل ہونے والی افیون کا استعمال درد کُش ادویات بنانے میں ہوتا ہے۔ اگرچہ کئی ممالک ادویات کی تیاری کے لیے پوست خود کاشت کرتے اور افغانستان سے حاصل ہونے والی پوست کی فضل زیادہ تر منشیات بنانے میں استعمال ہوتی ہے۔