رفعت اللہ اورکزئی بی بی سی اردو ڈاٹ کام ،پشاور
|
 |
 |
|
| شہر کے تمام اہم علاقوں میں سکیورٹی فورسز کا سخت پہرہ ہوتا ہے |
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں سکیورٹی فورسز نے کرفیو کی مبینہ خلاف ورزی پر ایک خاتون کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا ہے جبکہ
دو سرکاری اہلکاروں کو عسکریت پسندوں کے ساتھ تعلق کے شبہ میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سوات سے ملنے والی اطلاعات میں پولیس کا کہنا ہے کہ اتوار کی رات تحصیل مٹہ میں کرفیو کے دوران ایک گاڑی سڑک پر جارہی تھی کہ چپریال
کے علاقے میں سکیورٹی فورسز نے گاڑی کو روکنے کا اشارہ کیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق فوجی اہلکاروں کے اشارے کے بعد ڈرائیور سے اچانک گاڑی بند ہوگئی جس پر اہلکاروں نے اسے مشکوک سمجھ کر اس
پر اندھادھند فائرنگ کردی۔
ایک پولیس اہلکار نے تصدیق کی کہ فائرنگ سے گاڑی میں سوار ایک حاملہ خاتون ہلاک ہوگئی جنہیں ہسپتال لیجایا جارہا تھا۔ سوات میں
امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث رات کے وقت کرفیو نافذ رہتا ہے جبکہ شہر کے تمام اہم علاقوں میں سکیورٹی فورسز کا سخت
پہرہ ہوتا ہے۔
ادھر دوسری طرف سوات میں سکیورٹی فورسز نے مبینہ مقامی طالبان کے ساتھ شبہ میں ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے ایک انسپکٹر سمیت دو اہلکاروں
کو گرفتار کرلیا ہے۔
سرکاری ذرائع نے تصدیق کی کہ سوات میں ایکسائز ڈپارٹمنٹ کے انسپکٹر عدالت خان اور کلرک ابراہیم کوگزشتہ روز ان کےگھر اور دفتر
سے حراست میں لیا گیا۔
سکیورٹی فورسز نے سرچ اپریشن کے دوران سکول کے کچھ استاتذہ کو بھی عسکریت پسندوں کے ساتھ تعلق کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ حکام
کے مطابق گرفتار اہلکاروں کو تفتیش کےلیے کسی نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔
سوات میں عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائیوں میں اب تک سینکڑوں مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
|