 |
|
| قومی مصالحتی آرڈیننس پر بعض حلقوں نے شدید ردِ عمل ظاہر کیا تھا |
قومی مفاہمتی آرڈیننس یا این آر او جو بینظیر بھٹو اور مشرف حکومت کے درمیان بات چیت کےنتیجے میں جاری ہوا تھا، اس کی مدت ختم
ہو گئی ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا صدر پرویز مشرف نے اس پھر سے جاری کرنے کے لیے منظوری دی ہے یا نہیں۔
گزشتہ سال پانچ اکتوبر کو عمل میں آنے والے اس آرڈیننس کے بارے میں اٹارنی جنرل ملک قیوم نے حال ہی میں یہ کہا تھا کہ اگر صدر
نے اس میں توسیع نہ کی تو اس کی مدت پانچ فروری کو ختم ہو جائے گی۔ تاہم پیپلز پارٹی کے وکلاء نے اس موقف کی تردید کی تھی اور
کہا تھا کہ یہ موقف قانونی طور پر درست نہیں ہے۔
فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے اس آرڈیننس پر دستخط کیے ہیں یا نہیں۔
قومی مصالحتی آرڈیننس بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے سے پہلے احتساب بیورو کی جانب سے عوامی اور سرکاری عہدے رکھنے والوں کے خلاف
عدالتوں میں زیرِ التواء مقدمات کے خاتمے کے لیے جاری کر دیا گیا تھا۔ اس آرڈیننس کے نفاذ سے قبل گزشتہ برس چوبیس سے چھبیس ستمبر تک اور بعد میں ستائیس سے تیس ستمبر تک اسلام آباد میں مذاکرات کے متعدد
راؤنڈ ہوئے تھے۔
|