BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 19 October, 2007, 01:10 GMT 06:10 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
آرمی افسر ذمہ دار ہیں: زرداری
 
سکیورٹی نا مناسب تھی
 جس سکیورٹی میں ایک حملہ ہو اور اس میں ڈیڑھ سو آدمی ہلاک اور پانچ سو زخمی ہو جائے اسے آپ مناسب کیسے کہہ سکتے ہیں
 
آصف زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بینظیر کے شریکِ حیات آصف زرداری نے بی بی سی سےگفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے بینظیر سے دھماکوں کے بعد بات کی ہے اور بہتر حال میں ہیں کیونکہ وہ مضبوط اعصاب کی خاتون ہیں اور وہ اس سے پہلے بھی خاصے دشوار حالات کا سامنا کر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ بھٹو خاندان پر حملہ ہوا ہے۔

بینظر بھٹو کے شوہر نے کہا کہ ’انہوں نے اپنے والد کا قتل دیکھا ہے، اپنے بھائیوں کا قتل دیکھا ہے اور اپنے شوہر کو گیارہ سال تک جیل کاٹتے دیکھا ہے اور جنوبی ایشیا اور خاص طور پر اگر سیاست کرنی ہے تو اس کی بڑی قیمت دینا پڑتی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے بہت سے دوست زخمی ہوئے ہیں، ڈیڑھ سو کے قریب بچے شہید ہو چکے ہیں اور پانچ سو کے قریب زخمی ہیں اس کے پولیس اہلکار اور ایک صحافی بھی شہید ہو گیا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ بینظر نے روانگی سے پہلے جنرل مشرف کو ایک خط کے ذریعے کہا تھا کہ اگر انہیں کچھ ہوا تو کس کس کو اس کا ذمہ دار سمجھیں گی۔ جب ان سے ان لوگوں کے ناموں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اب تک ان لوگوں کے نام ظاہر نہیں کیے اس لیے وہ بھی ابھی ان کے نام نہیں لیں گے۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ شدت پسندوں کو خطرہ نہیں سمجھتے بلکہ ان کے پیچھے موجود ان لوگوں کو پاور سمجھتے ہیں جو انہیں کٹھ پتلیوں کی طرح چلا رہے ہیں اور ان میں کچھ سابق آرمی آفیسر ہیں اور کچھ حاضر انٹیلیجنس آفیسر ہیں۔ میں انہیں اس کا الزام دیتا ہوں۔

ذمہ داروں کے نام
 بینظر نے روانگی سے پہلے جنرل مشرف کو ایک خط کے ذریعے کہا تھا کہ اگر انہیں کچھ ہوا تو کس کس کو اس کا ذمہ دار سمجھیں گی۔ جب ان سے ان لوگوں کے ناموں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اب تک ان لوگوں کے نام ظاہر نہیں کیے اس لیے وہ بھی ابھی ان کے نام نہیں لیں گے
 
آصف زرداری

ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کو بینظیر ہی سے نہیں ہر اس آدمی سے خطرہ ہے جو جمہوریت کی بات کرتا ہے اور پھر الیکشن سر پر ہے اور حکومت کو بھی خطرہ ہو گا کہ انکوائریاں ہوں گی اور پتہ لگ سکتا ہے کہ یہ سب کون کر رہا ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ اس کا تعلق بینظیر بھٹو کے اس بیان سے تو نہیں ہو سکتا جو انہوں نے شدت پسندوں کے خلاف اور امریکہ کو پاکستان میں کارروائی کرنے بارے میں دیا تھا آصف زرداری نے کہا ’نہیں ابھی تو ہم اقتدار میں نہیں اور اس بات پر کوئی ری ایکٹ نہیں کر سکتا کہ کل کیا پالیسی ہو گی اس کا بہانہ بنا کر کوئی اور ری ایکٹ کر رہا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ جس سکیورٹی میں ایک حملہ ہو اور اس میں ڈیڑھ سو آدمی ہلاک اور پانچ سو زخمی ہو جائے اسے آپ مناسب کیسے کہہ سکتے ہیں۔

 
 
بینظیربینظیر کی سیکورٹی
خطرہ کون، طالبان یا ’جہادی‘ اسٹیبلشمنٹ ؟
 
 
لوگ کیا کہتے ہیں
’ہم جمہوریت چاہتے ہیں کرپشن نہیں‘
 
 
ہزارہا لوگ منتظر
بینظیر کا دبئی کراچی سفر اور استقبال
 
 
’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘
اس استقبال کے بعد یہ نعرہ عجیب نہیں لگا
 
 
بے نظیر کی آمد
استقبالیہ پوسٹروں اور بینروں کی بھرمار
 
 
بی بی اور میڈیا
بینظیر کا پنجاب پر بیان اخبارات میں چھایا رہا
 
 
اسی بارے میں
بینظیر کی سکیورٹی کا مسئلہ
18 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد