BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 17 September, 2007, 13:08 GMT 18:08 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
مجید ملک: استعفیٰ اور اختلافات
 

 
 
تمام معاملات پر کوئی شنوائی نہیں
 گو وہ پارٹی کے سینئر ترین رکن ہیں لیکن اس کے باوجود ان تمام معاملات پر ان کی کوئی شنوائی نہیں تھی لہذا انہوں نے یہی مناسب سمجھا کہ پارٹی عہدے سے مستعفی ہو جائیں
 
مجید ملک

حال ہی میں پاکستان مسلم لیگ کے سینئر نائب صدر کے عہدے سے استعفی دینے والے جنرل ریٹائرڈ مجید ملک نے کہا ہے کہ وہ صدر مشرف کے موجودہ اسمبلیوں سے باوردی انتخاب کے خلاف اور تمام سیاسی رہنماؤں بشمول بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے ساتھ سیاسی مفاہمت کے حق میں ہیں۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے مجید ملک نے کہا کہ گو وہ پارٹی کے سینئر ترین رکن ہیں لیکن اس کے باوجود ان تمام معاملات پر ان کی کوئی شنوائی نہیں تھی لہذا انہوں نے یہی مناسب سمجھا کہ پارٹی عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔

’میں مسلم لیگ کا پرانا ورکر ہوں اور عمر کے لحاظ سے سب سے سینئر لیڈر ہوں۔ لیکن اب میں سمجھتا ہوں کہ پارٹی کا جو فیصلہ ہے اور موجوہ ملکی صورتحال کے حوالے سے جو میرے خیالات ہیں وہ بالکل مختلف ہیں لہذا میں نے یہ سمجھا کہ میں اس عہدے سے معذرت کرلوں۔ تاہم میں ورکنگ کمیٹی اور پارٹی کا ممبر رہوں گا۔

مجید ملک کا کہنا تھا کہ انہوں نے پارٹی سے باقاعدہ درخواست کی تھی کہ صدر صاحب وردی کے بغیر انتخابات میں حصہ لیں اور آئندہ اسمبلیوں کے ذریعے منتخب ہوں۔ ان کی رائے میں اس طرح صدر مشرف آرام سے دوبارہ منتخب بھی ہو سکتے ہیں جب کہ اس کے برعکس کوئی قدم ملکی مفاد میں نہ ہو گا۔

اس کے علاوہ مجید ملک کے مطابق ان کا مسلم لیگ قاف کو یہ بھی مشورہ تھا کہ آجکل کی ابتر صورتحال میں بے نظیر، نوازشریف اور الطاف حسین کو وطن واپس آنا چاہیے۔

صدر وردی کے بغیر انتخابات لڑیں
 پارٹی سے باقاعدہ درخواست کی تھی کہ صدر صاحب وردی کے بغیر انتخابات میں حصہ لیں اور آئندہ اسمبلیوں کے ذریعے منتخب ہوں۔ ان کی رائے میں اس طرح صدر مشرف آرام سے دوبارہ منتخب بھی ہو سکتے ہیں جب کہ اس کے برعکس کوئی قدم ملکی مفاد میں نہ ہو گا
 
مجید ملک

’اگر کیسز کی معافی دینی ہے تو سب کو دیں اور ایک اتفاق رائے پیدا کریں۔ کیونکہ آئے دن پاکستان میں حالات خراب ہو رہے ہیں اور اگر اتفاق رائے نہیں ہو گا توآپ جتنی مرضی فوجیں لگاتے رہیں حالات ٹھیک نہیں ہوں گے‘۔

’سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آرمی وہ طاقت تھی جو اللہ کے بعد ملک کی حفاظت کرتی ہے۔ لیکن اب اس کے خلاف عوام میں کیا رائے بن رہی ہے۔ میں نے خود ایس ایس جی کو کمانڈ کیا ہوا ہے۔ ان پر حملے کے بعد سے میں سخت دکھی ہوں۔ میرا یقین ہے کہ اس طرح کے انتہائی سنجیدہ مسائل کا حل صرف اتفاق رائے کے ذریعے ممکن ہے‘۔

مجید ملک کا کہنا تھا کہ وہ نہ تو سازش پر یقین رکھتے ہیں اور نہ ہی گروپ بنانے میں۔

’میں عمر کے اس حصے میں ہوں جہاں مجھے نہ تو سینیٹر شپ چاہیے نہ مجھے ایم این اے بننا ہے اور نہ ہی ٹکٹ کی ضرورت ہے۔ میرا صرف اور صرف ایک نظریہ ہے جس میں پاکستان، پاکستان مسلم لیگ اور فوج تین بنیادی چیزیں ہیں۔ اور اگر میں ان کی بہتری کے لیے حصہ نہیں لے سکتا تو میں نے یہی بہتر سمجھا کہ معذرت کرلوں‘۔

 
 
اسی بارے میں
باوردی صدر: سماعت پانچ کو
03 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد