BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 July, 2007, 14:44 GMT 19:44 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
لال مسجد: تفصیلی رپورٹ طلب
 

 
 
سپریم کورٹ (فائل فوٹو)
 اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر چوہدری محمد علی نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت ایک سو بارہ افراد پولیس کی تحویل میں ہیں جن میں سے باسٹھ افراد کو آج رہا کیا جا رہا ہے
 
سپریم کورٹ نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کیس میں جمعرات کو اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ پمز ہسپتال میں زیر علاج لال مسجد آپریشن کے ان زخمیوں کی سکیورٹی ختم کردیں جو مجرمانہ پس منظر نہیں رکھتے۔

جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس نواز عباسی پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے ضلعی انتظامیہ سے کہا کہ وہ اس آپریشن میں جاں بحق، لاپتہ اور گرفتار ہونے والے افراد کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔

اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر چوہدری محمد علی نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت ایک سو بارہ افراد پولیس کی تحویل میں ہیں جن میں سے باسٹھ افراد کو آج رہا کیا جا رہا ہے۔ ڈی ایس پی سٹی سرکل ملک ممتاز نے بتایا کہ جمعرات کو اکاون افراد کو رہا کرکے انہیں ان کے ورثاء کے حوالے کیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کے پاس اٹھاون افراد کی فہرست ہے جو اس آپریشن کے دوران ہلاک ہوگئے تھے لیکن ان کی شناخت ہونا باقی ہے۔

عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو حکم دیاکہ لاپتہ افراد کے ورثاء کی ہر ممکن معاونت کریں

اڈیالہ جیل کے سپرٹنڈنٹ شاہد سلیم بیگ نے عدالت کو بتایا کہ لال مسجد آپریشن کے بعد مولانا عبدالعزیز، ان کی اہلیہ اور ان کی دو بیٹیوں سمیت چھ سو بیس افراد کو جیل بھیج دیا گیا جن میں سے پانچ سو آٹھ افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا عبدالعزیز، ان کی اہلیہ اور بیٹیوں کو سملی ڈیم ریسٹ ہاؤس رکھا گیا ہے جسے سب جیل قرار دے دیا گیا ہے۔

لاپتہ افراد کے ورثاء نے عدالت کو بتایا کہ ان کے رشتہ داروں کے نام اس فہرست میں شامل نہیں ہیں جو ضلعی انتظامیہ نے سپورٹس کمپلکس میں آویزاں کی
ہے۔ عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو حکم دیاکہ وہ ان لاپتہ افراد کے ورثاء کی ہر ممکن معاونت کریں۔

وزارت داخلہ کے نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کے سربراہ جاوید اقبال چیمہ نے عدالت کو بتایا کہ اس آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے افراد اور ان کے ورثاء کے ڈی این اے ٹیسٹ لیے جا چکے ہیں اور اس بارے میں کراس میچنگ رپورٹ منگل کو عدالت میں پیش کردی جائے گی۔

انہوں نے کہاکہ جامعہ حفصہ کے ریکارڈ کے مطابق وہاں پر 1717 طالبات زیر تعلیم تھیں، جن میں سے پندرہ سو بیس طالبات جامعہ حفصہ کے اندر ہی قیام پذیر تھیں۔

 انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے چینی باشندوں کے اغواء کے مقدمے میں نامزد ملزم مولانا عبدالعزیز کو عدالت میں پیش نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سماعت چار اگست تک ملتوی کر دی
 

انہوں نے کہاکہ جامعہ حفصہ کی تمام طالبات کو ان کے گھر بھجوا دیا گیا ہے اور صوبائی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ اپنے اپنے علاقوں میں رہائش پذیر ان طالبات کے گھروں میں جاکر چھان بین کریں۔

عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا کہ مولانا عبدالعزیز کی بہنوں کو ان سے اور ان کے بیوی بچوں سے ملنے دیا جائے۔

عدالت نے اس مقدمے کی سماعت یکم اگست تک ملتوی کر دی۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چوہدری محمد علی نے بتایا کہ سٹی مجسٹریٹ فراست علی خان کی سربراہی میں ایک چار رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے جس میں ایک ڈی ایس پی اور دو وکلاء شامل ہیں جو جامعہ حفصہ کی پرنسپل ام حسان سے طالبات کے ریکارڈ کی بابت تحقیقات کرے گی۔

ادھر اِنسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے چینی باشندوں کے اغواء کے مقدمے میں نامزد ملزم مولانا عبدالعزیز کو عدالت میں پیش نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سماعت چار اگست تک ملتوی کر دی۔

 
 
حشمت حبیب ایڈوکیٹمعاملہ دب سکتا ہے
لال مسجد معاملے کے از خود نوٹس پر خدشات
 
 
صوبہ سرحد میں نامعلوم نقاب پوش آپریشن کے بعد
لال مسجد آپریشن کے بعد حملوں کا سلسلہ
 
 
لال مسجد: لاپتہ طلباء
لاپتہ ہونے والے طلباء کے والدین پریشان
 
 
فوجآپریشن لال مسجد
ایک طویل کشمکش کا ابتدائی مرحلہ؟
 
 
عاصمہ جہانگیر’لال مسجد آپریشن‘
تاخیری حربوں، ہلاکتوں کی تحقیقات کا مطالبہ
 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد