 | | | کانفرنس میں پاکستانی وفد میں سینیٹ چیئرمین محمد میاں سومرو اور اقتصادی امور پر وزیر اعظم کے مشیر سلمان شاہ شامل تھے |
اقوام متحدہ نے پاکستان اور کشمیر میں زلزلے کے متاثرین کی امداد کے لیے جنیوا میں بلائی گئی کانفرنس پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ قدرتی آفات میں امدادی کارروائیوں کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ افسر یان ایگلین کے مطابق کانفرنس میں اگرچہ وعدہ تو 58 کروڑ ڈالر کا ہوا لیکن اقوام متحدہ کو صرف ڈیڑھ کروڑ ڈالروصول ہوئے ہیں۔ انہوں نے امداد دینے والے ملکوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے وعدؤں کو جلد از جلد عملی شکل دیں تاکہ امداد فوری طور پر زلزلے کے متاثرین تک پہنچائی جا سکے۔ ’میری امداد دینے والے ملکوں اور اداروں سے اپیل ہے کہ وہ دِنوں بلکہ گھنٹوں میں اپنے اعلانات کو امدادی رقومات کی شکل دیں۔‘ ’ہم نے انہیں بتا دیا ہے کہ ہم امدادی رقم کے لیے ہفتوں انتظار نہیں کر سکتے۔ کیونکہ اس وقت تک متاثرہ علاقوں میں برف باری شروع ہو چکی ہو گی اور ہم امداد زلزلہ زدگان تک نہیں پہنچا سکیں گے۔‘  | | | یان ایگلین خود پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرچکے ہیں | ’اپیل یہ ہے کہ اِن اعلانات کو حقیقی امداد میں فوری طور پر تبدیل کریں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہمارے کچھ اداروں کے پاس اگلے تین ہفتوں میں امدادی رقم ختم ہو جائے گی اور اقوام متحدہ کا امدادی پروگرام جو چھ ماہ کے لیے تیار کیا گیا ہے صرف پانچ ہفتے بعد بند کرنا پڑے گا۔‘یان ایگلین کے مطابق کانفرنس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اس میں ساٹھ ملکوں نے شرکت کی اور اٹھاون کروڑ ڈالر کی امدادی رقم کا وعدہ کیا۔ ان وعدوں کے بعد پاکستان اور کشمیر میں زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے اعلان کردہ رقم ایک ارب اور ساڑھے انتیس کروڑ ڈالر ہو گئی ہے۔ جنیوا میں موجود بی بی سی اردو سروس کے ثقلین امام کے مطابق بدھ کے روز وصول ہونے والے ایک کروڑ اٹھاون لاکھ ڈالر کے بعد اقوام متحدہ کے پاس زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے موجود رقم ساڑھے گیارہ کروڑ ڈالر ہو گئی ہے جبکہ اپنے امدادی پروگرام کے لیے اِسے پچپن کروڑ ڈالر کی رقم کی ضرورت ہے۔ کانفرنس کے موقع پر اپنے خطاب میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا کہ یہ المیہ ہمارے بھیانک ترین تصورات سے بھی بالا تر ہے۔ ’دسیوں ہزاروں ہلاک ہو چکے ہیں، ستر ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ تیس ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے میں تمام ضروری بنیادی ڈھانچے تباہ ہو چکے ہیں۔ ہم یہاں آج اس لیے مل اکٹھے ہوئے ہیں کہ موت کی دوسری لہر کو روکا جا سکے‘۔ ا  | | | حکومت کو خدشہ ہے کہ اب تک زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 79,000 تک پہنچ چکی ہے | نہوں نے کہا کہ ہم میں سے کسی کے پاس اتنی طاقت نہیں ہے کہ زلزلے کو روک سکتے لیکن ہم اگلی لہر (موت) کو روک سکتے ہیں۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ صورتحال بہت خراب ہے۔ ’آپ پاکستان میں زلزلہ زدگان کی صورتحال کےلیے وقت کےخلاف جنگ کی اصطلاح سن رہے ہیں۔ درحقیقت صورتحال ایسی ہی ہے۔ کچھ ہی ہفتوں میں برفباری کے بعد شدید سردی شروع ہوجائے گی اور متاثرہ علاقوں میں بہت سے لوگ کھلے آسمان تلے پڑے ہوں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم امداد ان تک پہنچائیں۔ امدادی ادارے ان لوگوں کی مدد کے لیے زبردست محنت کررہے ہیں لیکن ان لوگوں کو آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ ہمیں مدد چاہیے حکومتوں سے، عام لوگوں سے نجی اداروں سے اور ہر اس فرد سے جو ایک یورو، ایک ڈالر یا ایک پاؤنڈ بھی دے سکے‘۔ اجلاس میں شریک پاکستانی حکومت کے نمائندے سلمان شاہ نے جو اقتصادی امور کے لیے وزیرِ اعظم کے مشیر بھی ہیں، کہا کہ حکومت کو چھ ماہ کے اندر امدادی کارروائیوں کے لیے دو بلین ڈالر کی ضرورت ہے جس میں سے پچپن کروڑ اقوام متحدہ نے فراہم کرنے کا ذمہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیرِ نو کے لیے بہت زیادہ رقم کی ضرورت ہے اور اس کے لیے اسلام آباد میں عالمی مالیاتی اداروں اور امداد فراہم کرنے والوں کی ایک علیحدہ کانفرنس بلائی جائے گی۔ صوبہ سرحد اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومتوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اب تک زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 79,000 تک پہنچ چکی ہے۔ |