BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 October, 2005, 00:09 GMT 05:09 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
احمدی مسجد پر حملے کی مذمت
 
حملے میں آٹھ افراد ہلاک اور انیس زخمی ہوگئے تھے
حملے میں آٹھ افراد ہلاک اور انیس زخمی ہوگئے تھے
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز نے ضلع منڈی بہاؤالدین کے قصبے مونگ میں احمدیہ جماعت کی مسجد پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے۔

نماز فجر کے دوران جمعہ کے روز نامعلوم افراد کی جانب سے کیے جانے والے حملے میں آٹھ افراد ہلاک اور لگ بھگ بیس زخمی ہوگئے تھے۔

دونوں پاکستانی رہنماؤں نے ہلاک ہونے والوں کے رشتہ داروں سے تعزیت کی ہے اور حکومتی اہلکاروں سے کہا ہے کہ وہ اس حملے کی فوری تفتیش کریں تاکہ اس کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاسکے۔

احمدیوں کو انیس سو تہتر میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں غیر مسلم قرار دے دیا گیا تھا اور پاکستانی ریاست میں اب ان کو اقلیت کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔

احمدیہ جماعت سے تعلق رکھنے والے لوگ اور ان کی عبادت گاہیں اس سے قبل بھی متعدد بار انتہا پسند مسلمانوں کے حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ احمدیہ برادری کے لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستان میں امتیازی سلوک کا سامنا رہا ہے۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد