BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 September, 2005, 13:26 GMT 18:26 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’ہمیں ویزے نہیں عزت چاہیے‘
 

 
 
مشرف کے بیان پر مظاہرے
حقوق نسواں کی خواتین نے کراچی میں مظاہرہ کیا
عورتوں اور بچوں پر بڑھتے ہوئے تشدد کے خلاف حقوق نسواں کی تنظیموں کی جانب سے بدھ کے روز کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
اس مظاہرے میں سندھ کے شہروں کے علاوہ دیہات کی خواتین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔

مظاہرے کے بعد مارچ کیا گیا۔ جس میں خواتین نے ’ویزے نہیں تحفظ چاہیے‘، ’صدر مشرف ہائے ہائے‘، ’ ڈاکٹر شازیہ ہم تمہارے ساتھ ہیں‘ کے نعرے لگائے۔

اس سے قبل مظاہرے میں شامل ٹھٹہ کی ایک عورت شبانہ نے بتایا کہ اس کی آٹھ سالہ بیٹی لبنیٰ کو اغوا کرنے کے بعد ریپ کیا گیا، بعد میں گردن اور ٹانگیں توڑ کر لاش پھینک دی گئی ۔ اس کے مطابق اب تک قاتل گرفتار نہیں ہوسکے ہیں۔

اس نے آنسو بہاتے ہوئے کہا کہ میری معصوم بیٹی کو کیا معلوم تھا کہ اس دنیا میں درندے بھی ہوتے ہیں۔

سسرال اور شوہر کے تشدد کی شکار ہونے والی ٹنڈو جام کی رہائشی امبرین نے بتایا کہ اس کے سسرال والوں اور شوہر نے اس پر تشدد کیا اور اس کے جسم کو جلا ڈالا۔ بعد میں بیٹے سمیت گھر سے نکال دیا۔

نوشہرو فیروز کی ایک خاتون نے بتایا کہ اس کا رشتہ نہ ملنے پر اس کا ریپ کیا گیا مگر پولیس نے ملزمان کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا۔ جبکہ ملزمان نے ان کے گھر کو بھی جلا ڈالا ہے۔

بدین کی رہائشی عورت نے بتایا کہ اس کی چھ سالہ بیٹی کو گزشتہ ماہ قتل کر دیا گیا مگر پولیس ملزمان کو گرفتار نہیں کرسکی ہے۔

قمبر شہر کی رہائشی ایک بزرگ عورت نے بتایا کہ زمین کے تنازعہ پر اس کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کی ٹانگیں توڑ دی گئیں اور سر کے بل مونڈے گئے۔

احتجاج کے دوران شیما کرمانی اور ان کے گروپ نے جنسی تشدد پر ایک تنقیدی کھیل پیش کیا۔

مظاہرے میں ایک پٹیشن پر مظاہرین کے دستخط لئے گئے جس میں صدر مشرف سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ریمارکس پر خواتین سے معافی مانگیں اور ملک میں خواتین پر بڑھتے ہوئے تشدد کے سدباب کے لئے اقدمات کیے جائیں۔

 
 
66’شدید دکھ پہنچا‘
صدر کے بیان پرمختاراں مائی رنجیدہ
 
 
66عورت پر تشدد
پاکستان میں عورت پر تشدد کے واقعات
 
 
66غیرت کے نام پر
چھ سال میں چار ہزار افراد سے زائد ہلاک
 
 
66جرگے کے فیصلے
’قتل بھائی نے کیا اور تاوان میں بہن دے دی‘
 
 
66خواتین کا عالمی دن
پورے پاکستان میں عورتوں کے دن پر تقریبات
 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد