BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 18 July, 2005, 10:41 GMT 15:41 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
تین ’بمبار‘ پاکستان گئے تھے
 

 
 
تنویر اور حسیب
تنویر اور حسیب نے پاکستان میں تین ماہ قیام کیا تھا
پاکستان کے امیگریشن حکام نے پیر کو اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ لندن بم دھماکوں کے چار میں سے تین مبینہ ملزم شہزاد تنویر،محمد صدیق خان اور حسیب حسین گزشتہ برس پاکستان آئے تھے۔

پاکستان میں ان کی مصرفیات کے بارے میں ابھی معلومات نہیں ہیں۔ ان اطلاعات کی بھی تصدیق نہیں ہوئی کہ شہزاد تنویر لاہور اور فیصل آباد گئے تھے۔ تنویر کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک مدرسے میں گئے تھے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے حکام کے مطابق ان افراد کی تصاویر پاکستان آنے پر کراچی ہوائی اڈے پر پائسز کمپیوٹر کے ذریعے لی گئی تھیں۔

کمپیوٹر کے ریکارڈ کے مطابق شہزاد تنویر اور صدیق خان دونوں ترک فضائی کمپنی کی پرواز ٹی کے 1056 سے انیسں نومبر دو ہزار چار کو کراچی پہنچے تھے اور تقریباً تین ماہ قیام کے بعد وہ آٹھ فروری دو ہزار پانچ کو ترک فضائی کمپنی کی پرواز ٹی کے 1057 کے ذریعے کراچی سے لندن واپس چلے گئے تھے۔

تنویر بھی کراچی گئے تھے

حسیب حسین سعودی عرب کے شہر ریاض سے گزشتہ برس پندرہ جولائی کو کراچی آئے تھے۔ تاہم ان کے جانے کے بارے میں کراچی ہوائی اڈے پر کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے اور خیال یہی ہے کہ وہ اسلام آباد یا لاہور سے لندن واپس گئے تھے۔
 
 
66لندن میں دھماکے
ٹرانسپورٹ نظام نشانے پر: تصویروں میں
 
 
66دھماکوں کا خمیازہ
لیڈز کے بمبار اور ایشائیوں کی پریشانیاں
 
 
66’وہ ایسا تو نہ تھا‘
حسیب کے خاندان نے کہا ہے کہ ان بیٹاایسا نہ تھا
 
 
لندن یا لندنستان
’لندن دہشت گردوں کا چوراہا بن چکا ہے‘
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد