BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 July, 2005, 23:22 GMT 04:22 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
بحرالکاہل میں دھوئیں کا بادل
 
آخری مرتبہ ایسا واقعہ انیس سو چھیاسی میں ہوا تھا اور علاقے میں دھوئیں کا بادل چھا گیا تھا
جاپان میں حکام نے خیال ظاہر کیا ہے کہ بحرِالکاہل کے اوپر بھاپ کا جو بادل سا دکھائی دے رہا ہے یہ غالباً زیرِ آب آتش فشاں ہے۔

جاپان میں ساحلی محافظوں نے تین ہزار دو سو اسی فٹ لمبا چوڑا بادل دیکھنے کے لیے ہیلی کاپٹروں کی مدد حاصل کی تاکہ بھاپ کے اس بادل کے بارے میں مزید پتہ چلایا جا سکے۔

یہ بادل جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے جنوب مشرق میں سات سو میل دور ہے۔ سمندری جہازوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس علاقے سے دور رہیں۔

ماہرین کی ٹیم نے کہا ہے کہ جہاں جہاں بادل ہے وہاں علاقے اور فضا کی رنگت سرخی مائل ہے۔

ساحلی محافظوں کے ترجمان شیجیوکی ساتو کا کہنا ہے کہ ’بہت زیادہے امکان ہے کہ یہ بادل در اصل پانی کے نیچے آتش فشاں کے پھٹنے کے باعث سامنے آیا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ پہلے بھی ایسا ہو چکا ہے۔

ایو جیما کے جزیرے پر متعین جاپان کے فوجیوں نے پہلی بار اس بادل کو ہفتے کے دن دیکھا تھا۔

ٹیلی وژن پر دکھائی جانے والی فلم میں نظر آ رہا ہے کہ پانی سے جس کا رنگ ویسا ہی سرخ ہے جیسے اینٹوں کا ہوتا ہے، سفید دھواں آسمان کی طرف اٹھتا جا رہا ہے۔

ساحلی محافظوں کے ایک اور ترجمان نے بتایا کہ ’ہمیں شبہہ ہے کہ زیرِ آب جوالا مکھی نہ صرف موجود ہے بلکہ اس میں جان بھی ہے۔‘

آخری بار اسی علاقے میں زیرِ آب آتش فشاں انیس سو چھیاسی میں پھٹا تھا۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد