BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 09 June, 2005, 23:59 GMT 04:59 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’بیرون ملک مقیم احتیاط کریں‘
 

 
 
صوبہ سرحد کی حکومت نے لاعلاج مرض ایڈز سے متعلق متحدہ عرب امارات میں مقیم صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں کے افراد میں اس بیماری سے بچاؤ کی آگاہی پھیلانے کی خاطر ایک خصوصی ورکشاپ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بات صوبہ سرحد میں ایڈز کنٹرول پروگرام کے صوبائی سربراہ ڈاکٹر محمد ظفر نے پشاور میں صحافیوں سے بات چیت میں بتائی۔

صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں ایڈز کے اکثر مریض متحدہ عرب امارات یا دیگر خلیجی ممالک سے واپس لوٹنے والے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد کا اپنے خاندان سے دور ملازمت کے لئے برسوں رہنا بتائی جاتی ہے۔

صوبہ میں بہت سے کیس ایسے بھی پائے گئے ہیں جن میں یہ ایڈز سے متاثرہ لوگ یہ مرض اپنی بیوی کو منتقل کر دیتے ہیں۔

یہ ورکشاپ اقوام متحدہ کی تنظیم یونیسف کے تعاون سے منعقد کی جائے گی جس میں ان افراد کو ایڈز سے بچاؤ کی تدابیر سے آگاہ کیا جائے گا۔

صوبہ سرحد میں اب تک سرکاری اعداوشمار کے مطابق چار سو کے لگ بھگ ایذز یا ایچ آئی وی پازٹو کے مریض موجود ہیں۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد