مبشر زیدی بی بی سی اردو ڈاٹ کام،اسلامآباد |  |
 |  صحافت کے عالمی دن کے موقع پرصحافیوں کی پکڑ دھکڑ |
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں صحافیوں نے بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا اور قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ان کا دھرنا منگل کو اسلام آباد میں آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر نکالے گئے ایک جلوس پر پولیس کے لاٹھی چارج اور تیس سے زائد صحافیوں کی گرفتاری کے خلاف تھا۔ اس موقع پر پاکستان فیڈریشن آف یونین آف جرنلسٹس کے صدر پرویز شوکت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ صحافیوں کی آزادی کو سلب کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر کی صحافتی تنظیمیں جمعرات کو اس واقعے کے خلاف یوم سیاہ منائیں گی۔ اس دھرنے کے اردگرد بڑی تعداد میں پولیس کو تعینات کیا گیا ہے۔ صحافیوں نے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک پارلیمنٹ کی کارروائی کا بائیکاٹ کریں گے جب تک حکومت صحافیوں کی گرفتاری پر معذرت نہیں کرتی اور صحافیوں کی گرفتاری کے احکامات دینے والے افراد کو سزا نہیں دیتی۔ آج پاکستان کے تمام اخبارات نے منگل کے واقعے کی خبر نمایاں طور پر شائع کی۔ پی ایف یو جے کے صدر پرویز شوکت کا کہنا ہے کہ حکومت صحافیوں کی ویج ایوارڈ کے نفاذ کی تحریک اور ان کی حزب اختلاف کے رہنماؤوں کی کوریج سے نالاں ہے جس پر وہ صحافیوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ ادھر کل رات قومی اسمبلی کے اجلاس میں متفقہ طور پر اس واقعے کی تحقیقات کرانے کی قرارداد منظور کی گئی تھی۔ |