BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 April, 2005, 05:39 GMT 10:39 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
بسوں کا سفر شروع
 
بھارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی مسافر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا
ستاون برس کے تعطل کے بعد سرینگر سے چلنے والی پہلی بس مقامی وقت کے مطابق صبح گیارہ بجے مظفر آباد کے لیے روانہ ہو گئی ہے۔

بس اپنے مقررہ وقت پر شیرِ کشمیر کرکٹ سٹیڈیم سے انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان روانہ ہوئی۔ اس کے بعد ایک اور بس بھی مظفر آباد کی طرف چل پڑی۔

امن کا کارواں روانہ
 امن کا کارواں چل پڑا ہے جسے کوئی نہیں روک سکتا۔
 
بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ

ہمارے نامہ نگار الطاف حسین نے سرینگر سے بتایا ہے کہ مسافروں کو الوداع کہنے کے لیے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ اور کانگریس پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی بھی وہیں موجود تھیں۔

سرینگر میں بارش کے باوجود بس کی روانگی کا منظر دیکھنے کی غرض سے ڈھائی ہزار افراد موجود تھے جنہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بحالی کی اس اہم ترین علامت خیر مقدم کیا۔

اس موقع پر بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ نے کہا ’امن کا کارواں چل پڑا ہے جسے کوئی نہیں روک سکتا۔‘

گزشتہ روز شدت پسندوں کے حملے اور بس کے مسافروں کو مسلسل ملنے والی ان دھمکیوں کے پیش نظر کہ بس کو ’تابوت‘ بنا دیا جائے گا، شیرِ کشمیر کرکٹ سٹیڈیم میں سکیورٹی کے ایسے انتظامات کیے گئے تھے جن کی حالیہ ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق دونوں بسوں میں چوبیس مسافر سوار ہیں۔ مظفرآباد جانے والی اِن بسوں کو مالاؤں سے سجایا گیا ہے۔

اس سے قبل سرینگر میں حملے کے باوجود انڈیا اور پاکستان دونوں نے بسوں کے چلانے جبکہ مسافروں نے سفر کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

 
 
بس ڈرائیور پرویزتاریخی بس چلاؤں گا
میں بچھڑے ہوئے لوگوں کو آپس میں ملاؤں گا‘
 
 
کشمیرکشمیر، شرح و معیار
شرح خواندگی اور معیار میں باہمی اتفاق نہیں
 
 
غلام فاطمہ مظفر آباد جانے کی تیاری میںخوابوں کا سفر
کشمیری خوابوں کے سفر کی تیاری میں
 
 
پناہ گزین کیمپپناہ گزینوں کی سوچ
پاکستان میں کشمیری بناہ گزین کیا سوچتے ہیں؟
 
 
کشمیر’کامسر‘ مہاجر کیمپ
کمشیر کاحل، مہاجر بھی متفق نہیں
 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد