BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت:
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’جیش المسلمین کے سربراہ گرفتار‘
 
ان کارکنان کو اکتوبر میں کابل سے اغوا کیا گیا تھا
پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک شدت پسند گروہ کے سربراہ کو گرفتار کیا ہے جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے تین کارکنان کے اغوا میں ملوث تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ جیش المسلمین نامی گروہ کے سربراہ سید ا کبر آغا کو کراچی سے گرفتار کیا گیا۔ا کبر آغا کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب ایک اطلاع پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک فلیٹ پر چھاپہ مارا۔

پاکستان کے وزیِر اطلاعات شیخ رشید احمد نے بتایا ہے کہ فلیٹ میں موجود
ا کبر آغا کے خاندان والوں کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ
افعان نژاد ا کبر آغا سے پاکستانی قانون نافذ کرنے والے ادارے تفتیش کر رہے ہیں اور اس بات کی امید نہیں کہ انہیں افغانستان کے حوالے کر دیا جائے گا۔

حکام نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ تفتیش کے دوران اکبر آغا نے بتایا ہے کہ وہ پاکستانی کی جنوب مغربی سرحد عبور کر کے ملک میں داخل ہوئے تھے۔

اقوامِ متحدہ کے تین کارکنان کو اکتوبر میں کابل سے اغوا کیا گیا تھا اور نومبر کے اواخر میں ان کی رہائی عمل میں آئی تھی۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد کی رہائی کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں تھی۔ اغوا ہونے والوں میں شمالی آئر لینڈ کی انیتا فلینیگن، فلپائن کے انجیلیٹو نایان اور کوسوو کی شقپ حبیبی شامل تھے۔

جیش المسلمین نامی یہ گروہ طالبان کے منتشر ہونے والے ارکان پر مشتمل ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ ا کبر آغا کی گرفتاری تنظیمی اختلافات کے نتیجے میں کی جانے والی مخبری کا نتیجہ ہے۔ جیش المسلمین کے کچھ اراکین نےان پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے مغویوں کی رہائی کے لیے پندرہ لاکھ ڈالر وصول کیے ہیں۔ تاہم پاکستانی حکام نے اس اطلاع پر تبصرہ کرنے گریز کیا ہے۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد