BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 November, 2004, 06:42 GMT 11:42 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
توہین رسالت کی سزا کالعدم
 

 
 
پشاور ہائی کورٹ
استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ ملزم نے یہ خط جان بوجھ کر شائع کیا تھا(عدالت)
پشاور ہائی کورٹ نے ایک صحافی کو توہین رسالت کے مقدمے میں ملنے والی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے دی ہے۔

پشاور سے شائع ہونے والے انگریزی روزنامے دی فرنٹیر پوسٹ کے سب ایڈیٹر منور محسن علی کو گزشتہ برس جولائی میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت نے اخبار میں ایک خط کی اشاعت پر توہین رسالت کا مرتکب پایا تھا اور انہیں عمر قید اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

اس فیصلے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی جس پر دو رکنی بنچ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ ملزم نے یہ خط جان بوجھ کر شائع کیا تھا۔

یہ خط دی فرنٹیر پوسٹ کے انتیس جنوری 2001 کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔ خط کی اشاعت کے خلاف ایک مشتعل ہجوم نے اخبار کے دفاتر پر حملہ کیا اور اسے آگ لگا دی تھی۔

منور محسن اس کے بعد سے پشاور جیل میں حراست میں ہیں اور اخبار بھی کئی ماہ تک بند رہا۔

منور محسن کے وکیل بیرسٹر ظہورالحق نے بتایا کہ اخبار میں کسی قابل اعتراض چیز کی اشاعت کا ذمہ دار اس کا مدیر، پبلشر اور پرنٹر ہوتا ہے نہ کہ ایک سب ایڈیٹر۔ انہوں نے کہا کہ محسن ذہنی مریض بھی ہیں اور نشے کے عادی بھی اور اس سے اس خط کی اشاعت ہوش و حواس میں نہیں ہوئی تھی۔

اس کیس کی ایک ہائی کورٹ کے جج نے بھی تحقیقات کی تھی اور اس کا بھی یہی کہنا تھا کہ خط غلطی سے شائع ہوا تھا۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد