BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 26 September, 2004, 14:38 GMT 19:38 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
پیار کی شادی، ایک اور قتل
 

 
 
محبت کی شادی کرنے والا ایک جوڑا خاندان کے جبر کے خلاف پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے مظاہرہ کیا ہے
حیدرآباد سندھ میں ہفتے کے روز اپنی پسند سے شادی کرنے والی سترہ سالہ خدیجہ کلادی کو خاندان کے لوگوں نے ایک پولیس افسر کے گھر میں گھس کر قتل کر دیا۔

خدیجہ کلادی جس کی عمر سترہ سال بتائی جاتی ہے ،نے اپنی مرضی کے ساتھ غلام عباس کلاچی کے ساتھ شادی کر لی تھی جس پر خاندان کے لوگوں کو اعتراض تھا۔

غلام عباس کلاچی محکمہ پولیس میں وائرلیس آپریٹر ہے۔

اطلاعات کے مطابق خدیجہ کلادی نے پولیس افسر غلام محمد ہاکڑو کے گھر میں پناہ لے رکھی تھی۔ لیکن خاندان کے لوگ ہفتے کے روز غلام محمد ہاکڑو کے گھر میں گھس گئے ۔ڈاکٹروں کے مطابق خدیجہ کو کم از کم آٹھ گولیاں ماری گئیں۔

غلام محمد نے قتل کی رپورٹ میں لڑکی کے دو چچوں غلام نبی، شبیر اور دیگر لوگوں کو ملزمان نامزد ہے۔
پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے لیکن غلام نبی اور شبیر کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

حکومت نے اس واقعے کےنتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر ڈی ایس پی نیاز چانڈیو اور ایس ایچ آو کو معطل کر دیا ہے۔

اس واقعے کے بعد عام لوگوں میں خوف ہراس پایا جاتا ہے ان کا کہنا ہے کہ اب لوگ تھانے کی حدود میں بھی غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ خدیجہ کا قتل پولیس کے بعض ذمہ دار افراد کے ساتھ ساز باز کے بعد عمل میں آیا ہے۔

خدیجہ کی لاش رات گئے اس کی رشتہ دار بوڑھی خواتین نے وصول کی اور علاقے کے لوگوں نے اس کی تدفین کرائی ۔

خدیجہ کے گھرانے کے تمام مرد گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہو گئے ہیں۔ پولیس کو خدیجہ کے قتل کے نتیجے میں کلادی اور کلاچی قبائل کے درمیان تصادم کا خدشہ بھی ہے۔

اخبار نویسوں کا کہنا ہے کہ اس قتل سے صرف آدھے گھنٹے قبل کلاچی قبیلے کے بعض با اثر افراد نے تھانے کے لاک اپ میں خدیجہ کے شوہر غلام عباس کلاچی سے زبردستی طلاق نامے پر دستخط کرائے تھے۔

ضلع گھوٹکی اور بالائی سندھ کے دیگر اضلاح میں پسند کی شادی کرنے والی لڑکیوں اور لڑکوں کے قتل کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد