اعجاز مہر بی بی سی اردو ڈاٹ کام ،اسلام آباد |  |
 |  زیر حراست فوجیوں میں سے ایک کے بچے کا حکومت سے سوال’ میرے والد کا قصور کیا ہے‘ |
پاکستان آرمی کے القاعدہ سے تعلقات کے شبہ میں کئی ماہ سے گرفتار چھ حاضر سروس افسران کے اہل خانہ نے منگل کے روز پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا بھی دیا۔ مظاہرے میں گرفتار ہونے والے افسران کے بوڑھے والدیں، بیگمات اور بچے بھی شامل تھے جو اللہ اکبر اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ صدر پرویز مشرف اور حکومت کے خلاف نعرے بھی لگا رہے تھے۔ مظاہرے میں شریک بچوں کے سروں پر بندھی ہوئی پٹیوں اور اٹھائے ہوئے کتبوں پر لکھا ہوا تھا کہ ’ہمارے ابو کہاں ہیں‘۔  |  تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی احتجاجی میں شرکت کی | قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے گرفتار فوجی افسران کے اہل خانہ کے ہمراہ اخباری کانفرنس میں حکومت پر کڑی تنقید کی اور الزام لگایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف امریکہ کی خوشامد کی خاطر اپنے ہی شہریوں کے خلاف فوجی کاروائی کر رہے ہیں اور ان کے بقول بیگناہ افراد کو جھوٹے مقدمات میں گرفتار کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر گرفتار افسران میں سے کسی کے خلاف حکومت کے پاس ثبوت ہیں تو انہیں عدالت میں پیش کرے۔ عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ڈیڑھ سال سے فوجی افسران کو حراست میں رکھنا انہیں اغوا کرنے کے مترادف ہے۔  |  مظاہرے میں گرفتار ہونے والے فوجی افسروں کے اہل خانے حکومت پر شدید تنقید کی | یاد رہے کہ گرفتار فوجیوں کی رہائی کے لیے ان کے اہل خانہ نے سپریم کورٹ میں اپیلیں بھی دائر کر رکھی ہیں۔اپیل کندگان کے وکیل چودھری اکرام نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ یہ اپیلیں لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئیں ہیں۔ وکیل کے مطابق القاعدہ سے تعلقات کے شبہ میں حکومت نے دو کرنل کے عہدے والے فوجی افسران خالد عباسی اور غفار بابر، تین میجر، روہیل فراز، عطاءاللہ اور عادل فردوس جبکہ ایک کیپٹن، عثمان کو کئی ماہ سے حراست میں لے رکھا ہے۔ واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اختر شبیر اور جسٹس تنویر بشیر انصاری پر مشتمل بینچ نےفوجی افسران کی گرفتاری کے متعلق درخواستیں یہ کہہ کر نمٹا دیں تھیں کہ یہ فوجی معاملہ ہے اور وہ عدالت کے دائرہ سماعت سے باہر ہے۔ |