BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 August, 2004, 07:47 GMT 12:47 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
شفاء بخش چشمے خشک
 

 
 
الیاس مسجد پر عقیدت مند دور دور سے آتے ہیں۔
الیاسی مسجد پر عقیدت مند دور دور سے آتے ہیں۔
صوبہ سرحد کا شمالی شہر ایبٹ آباد اپنے خوشگوار موسم، بہترین تعلیمی اداروں کے علاوہ ایک مسجد کے لیے بھی مشہور ہے۔ الیاسی مسجد کی خصوصیت یہاں پھوٹنے والا ایک چشمہ ہے۔ لوگ دور دور سے اس چشمے کے پانی سے نہا کر صحتیاب ہونے کے لیے آتے ہیں لیکن گزشتہ چند برسوں سے یہ چشمہ سوکھ ساگیا ہے۔

پانی قدرت کی نعمت ہے، زندگی ہے اور تازگی ہے۔ تقریبا ستر برس پرانی ایبٹ آباد کی الیاسی مسجد میں پھوٹنے والے قدرتی چشموں کے پانی کو لوگ تبرک اور بیماریوں سے شفاء دلانے والی

مسجد سیاحوں کی توجہ کا بھی مرکز رہی ہے
خصوصیات کا حامل سمجھتے ہیں۔ اسی لیے دور دور سے اس پانی سے نہانے کے لیے لوگ آتے ہیں۔

عبدالقدوس سانگھڑ سے آئے ہوئے تھےاور نہانے کے لیے ایک لمبی قطار میں اپنےنمبر کا انتظار کر رہے تھے۔

ان سے پوچھا کہ اتنے سرد پانی سے نہا کر وہ کیا شفاء حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بھی اس مسجد کے بارے میں کافی عرصے سے سنا ہوا تھا لہذا اب کی بار جب ایبٹ آباد آئے تو ادھر بھی آگئے۔ ’سنا ہے اس پانی سے صحت ملتی ہے اسی لیے نہا رہا ہوں۔‘

خواتین کے لیے الگ استفادہ کرنے کی باپردہ جگہ بنائی گئی ہے۔ لیکن وہ بھی آج کل اجڑی پڑی ہے۔

اس مسجد کے خطیب مولانا محبوب الرحمان سے پوچھا کہ آیا واقعی یہ پانی اچھی تاثیر رکھتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ سائنسی طور پر تو اسے ابھی تک ثابت نہیں کیا گیا ہے لیکن یہ پانی دیگر ٹیوب ویلوں کے پانی سے مختلف ضرور ہے۔

مسجد ایبٹ آباد میں ایک بلند مقام پر قائم ہے

مسجد کے باہر ایک بڑا تالاب بھی خشک پڑا ہے۔ کسی زمانے میں اس میں لوگ کشیاں چلایا کرتے تھے لیکن اب نہیں۔

ملک کے دیگر حصوں کی طرح بارشوں کی کمی سے اس مسجد کا چشمہ بھی تقریبا سوکھ گیا ہے۔ پہلے چشمے کا پانی کبھی کبھی ختم ہوجاتا تھا لیکن اب اس کے غائب رہنے کا عرصہ کافی طویل ہوگیا ہے۔

اس تالاب میں گرمیوں میں سیاح پاؤں ڈالے بیٹھے رہتے تھے

اس مشکل کا حل مسجد کی انتظامیہ نے تین انچ کے ٹیوب ویل نصب کرنے سے نکالا ہے۔ لیکن کئی زائرین اب بھی اس سے بے نیاز کہ یہ سرد پانی اصلی چشمے کا ہے یا نہیں اس سے نہاتے نظر آتے ہیں۔

محبوب الرحمان کا کہنا تھا کہ اس مسجد کے ساتھ مدرسہ بھی ہے پھر نمازیوں کے وضو اور اردگرد کے لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ٹیوب ویل لگانا انتہائی ضروری تھا۔

مسجد کے منتظمین اور زائرین کو امید ہے کہ یہ قدرتی چشمے ضرور ایک مرتبہ پھر بھر آئیں گے جس سے یہ مسجد اپنی انفرادیت بھی برقرار رکھ سکے گی۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد