BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت:
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
شدت پسندی سے دور رہنے کی تلقین
 

 
 
گزشتہ سال دسمبر میں جنرل مشرف پر دو مرتبہ قاتلانہ حملہ ہوا
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے ’روشن خیال اعتدال پسند، نظریہ کے بارے مں ایک مضمون لکھا ہے جو امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے علاوہ بدھ کے روز بیشتر پاکستانی اخبارات میں بھی نمایاں طور پر شائع کیا گیا ہے۔

اس مضمون میں صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ 80 کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف مغرب کی حمایت سے افغانستان میں کارروائیوں سے اسلامی دنیا میں عسکریت پسندی کو فروغ ملا ورنہ اس سے قبل اسلامی دنیا میں تشویش اور بے چینی کا باعث صرف مسئلہ فلسطین تھا۔

سوویت یونین کے خلاف جہاد افغانستان کے بعد یہ سلسلہ چیچنیا، بوسنیا اور دیگر ممالک تک پھیل گیا۔

جنرل مشرف لکھتے ہیں کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد عسکریت پسند گروہوں کو ختم کرنا چاہیے تھا لیکن نوے کی دہائی میں انہیں کھلی چھٹی دی گئی اور افغانستان میں دنیا بھر کے جنگجو جمع ہوگئے۔

جنرل مشرف نے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’ نشاۃ ثانیہ کی گھڑی آن پہنچی ہے، حیات نو کا راستہ وہ ہے جو روشن خیالی، اور جو تمام توانائیاں غربت کے خاتمے عدل و انصاف کے مثالی نظام کے فروغ کی طرف جاتا ہے وہ اپنانا ہوگا۔‘

انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ وہ کشمکش اور شدت پسندی کو مسترد کردیں، اسلام کے نام پر ایسی کارروائیوں کی مخالفت کی جائے کیونکہ اسلام کا انتہا و شدت پسندی سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے زور دیا ہے کہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کو فعال بنا کر اس کے ذریعے نئے راستے پر چلنے کو ممکن بنایا جا سکتا ہے لیکن اس کے لئے تمام اسلامی ممالک کو آگے آنا ہوگا۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد