BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 02 May, 2004, 02:32 GMT 07:32 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
مقدونیا ہلاکتوں کی مذمت
 
کئی غیرقانونی تارکین وطن یورپ کے ترقیافتہ ممالک تک پہنچنے کے لئے مختلف راستے اختیار کرتے ہیں
پاکستان نے ان خبروں کے بعد کہ سن دوہزار دو میں مقدونیا میں جن سات پاکستانیوں کو دہشت گرد قرار دے کر ہلاک گیا تھا ہو سکتا ہے کہ پولیس نے انہیں قتل کیا ہو شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے اس کارروائی کو ایک گھناؤنے جرم سے تعبیر کیا۔

اس قتل کا الزام مقدنیا کے سابق وزیر داخلہ اور چھ دوسرے پولیس اہلکاروں پر عائد کر دیا گیا ہے۔ سابق وزیر نے الزام کی تردید کی ہے۔

تاہم استغاثہ کے حکام کا کہنا ہے کہ گیارہ ستمبر کے بعد مقدونیہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی نظر میں اپنی ساکھ بڑھانے کے لئے ان پاکستانیوں کو ہلاک کیا تھا۔

مسعود خان نے کہا کہ پاکستان مقدونیا کی حکومت کے اس اقدام کو سراہتا ہے کہ اس نے اس گھناؤنے فعل کا انکشاف کیا اور ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی۔

اس سے قبل مقدونیائی حکام نے دو ہزار دو میں سات پاکستانیوں کو غلط طور پر شدت پسند قرار دے کر ہلاک کرنے کا اعتراف کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ پاکستانی غیر قانونی تارکینِ وطن تھے جنہیں شدت پسند قرار دے کر انتہائی بہیمانہ طریقے سے گولیوں کا نشانہ بنا دیا گیا۔

جب یہ واقعہ پیش آیا تھا تو اس وقت مقدونیہ کی وزارتِ داخلہ نے کہا تھا کہ یہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب مقتولین نے دارالحکومت سکوپئے میں حملہ کر کے پولیس والوں کو ہلاک کرنے کی کوشش کی۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد