BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 March, 2004, 15:54 GMT 20:54 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
القاعدہ سے متعلق دعویٰ واپس
 
پاکستان اس دعوٰی سے دستبردار ہوگیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ دنوں جنوبی وزیرستان میں طالبان اور القاعدہ اور انہیں پناہ دینے والے قبائلیوں کے خلاف کیے گئے فوجی آپریش کے دوران القاعدہ کے انٹیلیجنس چیف ہلاک ہوگئے ہیں۔

فوجی ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص ایک مقامی شدت پسند تھا نہ کہ القاعدہ کا بین الاقوامی انٹیلیجنس سربراہ۔ شوکت سلطان نے اس شخص کا نام عبداللہ بتایا ہے جو وانا کا رہنے والا تھا اور مقامی سطح پر سرگرم تھا۔

یہ وضاحت ایسے وقت میں کی گئی ہے جب جنوبی وزیرستان میں ان دو سرکاری اہلکاروں کی لاشیں برآمد ہوئیں ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ انہیں مشتبہ شدت پسندوں نے یرغمال بنانے کے بعد ہلاک کر دیا ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے دوران مجموعی طور پر تقریباً ایک سو افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں چھیالیس فوجی اور تریسٹھ مشتبہ جنگجو شامل ہیں۔

فوج کے مطابق ایک سو تریسٹھ مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ تقریباً دو ہفتے تک جاری رہنے والی اس کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کر دیا گیا ہے۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد