
یہ متفقہ قرادادیں اسلام مخالف فلم اور لاہور اور کراچی میں دو کارخانوں میں آتشزدگی پر تھیں۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی قانون ساز اسمبلی نے اسلام مخالف فلم اور آتشزدگی کے دوہرے واقعات پر مذمتی قراردادیں متفقہ طور پر منظور کرلیں۔
ان متفقہ قراداوں میں سے ایک اسلام مخالف فلم کے بارے میں تھی جب کہ دوسری قرادادیں لاہور اور کراچی میں دو کارخانوں میں آتشزدگی پر تھیں۔
آج لاہور میں ہونے والا پنجاب اسمبلی کا یہ اجلاس حزب اختلاف کی درخواست پر بلایا گیا تھا۔
معمول کی کاروائی کو معطل کر کے متنازعہ فلم پر قرارداد مسلم لیگ ق کے پارلیمانی لیڈر چوہدری ظہیر الدین نے پیش کی۔
اس قراداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ مہذب دنیا کے تمام ممالک بین المذاہب ہم آہنگی کے داعی ہیں لیکن اس دعوے کے برعکس انہی ملکوں کے اخبارات اور میڈیا تسلسل سے مسلمانوں کی توہین مذہب کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
اسی طرح اس قراداد میں کہا گیا کہ یہ مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے کی سازش ہے۔
قرارداد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کی دل آزاری کا یہ سلسلہ فی الفور بند کیا جائے۔
کراچی اورلاہور میں آتشزدگی کے واقعات سے متعلق قرارداد وزیرقانون رانا ثنا اللہ نے پیش کی۔
قرارداد میں دنوں واقعات میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا گیا اور ان واقعات کو انسانی المیہ اور قومی سانحہ قرار دیا گیا۔ پنجاب اسمبلی کے ارکان نے جاں بحق ہونے والوں کے خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔
یہ دونوں قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں۔
قراردادوں کی منظوری کے بعد اجلاس میں حکومتی رکن اصغر منڈا کی جانب سے کورم کی نشاندہی کردی گئی۔
اس نشاندہی پر پنجاب اسمبلی کا اجلاس کورم پورا نہ ہونے کے باعث غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔






























