والی سوات کی قدیمی رہائش گاہ کو عجائب گھر میں بدلنے کا منصوبہ کیوں ترک کر دیا گیا؟

والی سوات

،تصویر کا ذریعہMian Gul Sheharyar

،تصویر کا کیپشنوالی سوات کی قدیمی رہائش گاہ
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

خیبر پختونخوا حکومت نے ریاست سوات کے آخری حکمران کے تاریخی مکان کو خرید کر وہاں ایک عجائب گھر بنانے کا ارادہ کیا تھا لیکن پھر اچانک یہ منصوبہ ترک کر دیا گیا۔

پاکستان بننے سے پہلے سوات ایک آزاد اور خود مختار ریاست تھی اور اس ریاست کے حکمران کو والی سوات کہا جاتا تھا۔ اس حکمران خاندان کی ایک نشانی وہ مکان ہے جہاں والی سوات رہائش پذیر رہے۔

محکمہ آثار قدیمہ خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹر عبدالصمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک صوبے میں 28 ایسی عمارتیں خریدی ہیں، جو ایک سو سال پرانی ہیں اور ان کی تاریخی اہمیت ہے ان میں دلیپ کمار اور راج کپور کے مکانات بھی شامل ہیں۔

سوات

،تصویر کا ذریعہMian Gul Sheharyar

اُنھوں نے کہا کہ والی سوات کا مکان بھی تاریخی عمارت ہے اور یہ معلوم ہوا کہ کوئی اس کو خرید کر یہاں پلازا بنانا چاہتا ہے، اس لیے محکمہ آثار قدیمہ نے بھی اس کو خریدنے کا ارادہ کیا تھا اور یہ محکمے کی کوشش ہو گی کہ اس عمارت کو اصل حالت میں بحال کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بڑا مکان ہے اور میوزیم یا کسی اور تاریخی حوالے سے اسے بحال کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ عام طور پر قانون کے تحت ایسی کسی بھی عمارت کو حکومت ڈپٹی کمشنر کے ذریعے سیکشن فور نافذ کر کے خرید سکتی ہے۔

ان کے مطابق صوبے میں کوئی 28 مقامات بھی اسی طریقے سے خریدے گئے ہیں جو ڈیرہ اسماعیل خان سے چترال تک مختلف علاقوں میں واقع ہیں جو آثار قدیمہ کے زمرے میں آتے ہیں۔ ان میں دلیپ کمار اور راج کپور کی حویلی بھی شامل ہے جسے محکمہ آثار قدیمہ نے خریدا ہے۔

خیال رہے کہ والی سوات کی یہ قدیمی رہائش گاہ اب اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے خاندان کی ملکیت میں ہے۔

میاں گل حسن اورنگزیب

،تصویر کا ذریعہMian Gul Sheharyar

’فنڈز کی کمی کے باعث عمارت خریدنے کا ارادہ ترک کیا‘

عبدالصمد خان نے بتایا کہ خواہش کے باوجود اس وقت محکمے کے پاس اتنا بجٹ نہیں ہے کہ والی سوات کی قدیمی رہائش گاہ کو خرید سکے۔ انھوں نے بتایا کہ فنڈز کی کمی کی وجہ سے اس کی خریداری کا ارادہ ترک کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اس وقت جہاں متعدد مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں وہیں ان کے پاس وزیر اعظم عمران خان کو ملنے والے تحائف کی تفصیلات ظاہر کرنے سے متعلق ایک مقدمہ بھی زیر سماعت ہے۔

شاید یہی وجہ تھی کہ سوشل میڈیا پر صارفین نے محکمہ آثار قدیمہ کے اس فیصلے کو ایک انتقامی کارروائی سے بھی جوڑا ہے اور کہا ہے کہ جس جج نے تحائف کی تفصیل مانگتے ہوئے ان تحائف کو میوزیم میں رکھنے کے بارے میں ریمارکس دیے ہیں اب ان کے اپنے گھر کو حکومت میوزیم میں بدلنے جا رہی ہے۔

میاں گل شہریار

،تصویر کا ذریعہMian Gul Sheharyar

والی سوات کے خاندان کا مؤقف کیا ہے؟

سوات کے اس شاہی خاندان کا مؤقف جاننے کے لیے آخری والی سوات میاں گل عبدالحق جہانزیب کے پوتے میاں گل شہریار امیر زیب کے ساتھ رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ مکان خاندان کے تمام افراد کی مشترکہ جائیداد ہے اور اس کا فیصلہ خاندان کے تمام افراد مل کر کریں گے۔

ان کے مطابق کسی ایک فرد کو اس بارے میں فیصلہ کرنے کا حق نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھیں معلوم ہوا تھا کہ ڈپٹی کمشنر سوات کو خط لکھا گیا ہے، جس میں اس عمارت کو میوزیم اور ایک تاریخی ورثہ قرار دینے کے لیے کہا گیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان سے اس بارے میں ابھی تک کسی نے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔

یہ مکان سنہ 1960 تک والی سوات کی سرکاری رہائش گاہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا جبکہ سنہ 1987 تک یہ مکان ان کی نجی رہائش گاہ رہا ہے۔

میاں گل شہر یار

،تصویر کا ذریعہMian Gul Sheharyar

میاں گل شہریار نے بتایا کہ یہ مکان ایک سادہ لیکن نہایت خوبصورت ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس مکان میں 20 کمرے ہیں اور اس مکان میں اہم شخصیت آ چکی ہیں، جن میں ملکہ برطانیہ اور شہزادہ فلپ، پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان، سابق وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین، سابق گورنر جنرل اِسکندر مرزا، سابق صدر ایوب خان اور پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو شامل ہیں۔

اس مکان میں آخری والی سوات اور ان کے بچے رہتے تھے۔ اس مکان کا بڑا صحن اور پھر اس کے چھوٹے چھوٹے حصے ہیں جن میں مہمان خانہ بھی شامل ہے۔ اس مہمان خانے کے ساتھ ایک صحن بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

یہ مکان فن تعمیر کا ایک بہترین نمونہ قرار دیا جاتا ہے، جس میں سوات کی اپنی تہذیب کے علاوہ یورپی اور مغل طرز تعمیر کے آثار بھی ملتے ہیں۔

والی سوات کی وفات کے بعد یہ مکان ان کے چار بیٹوں اور بیٹی کے حصے میں آیا ہے۔

اس مکان کا کچھ حصہ پھر بھائیوں نے چچا کے بچوں کو دیا جو اُن کے والد کی زندگی میں وفات پا گئے تھے، جبکہ کچھ حصہ والی سوات نے اپنی دوسری بیوی کے نام کیا تھا۔

میاں گل شہر یار

،تصویر کا ذریعہMian Gul Sheharyar

میاں گل شہریار نے بتایا کہ انھوں نے کچھ عرصہ پہلے سنا تھا کہ وہ شاید اپنا حصہ بیچنا چاہتی ہیں تو اس کے لیے یہ فیصلہ ہوا تھا کہ خاندان کے اندر ہی یہ حصہ خرید لیا جائے۔

اب ایک بار ذکر پھر سوشل میڈیا پر ہونے والی اس بحث کا جہاں صارفین اس مکان کی خریداری اور یہاں میوزیم یا اسے تاریخی ورثہ قرار دینے کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے ساتھ جوڑ رہے ہیں کیونکہ والی سوات کے خاندان سے تعلق رکھنے والے اس جج کی عدالت میں اس وقت وزیر اعظم اور دیگر اعلیٰ حکام کو ملنے والے تحائف کا کیس زیر سماعت ہے۔

ڈائریکٹر آثار قدیمہ عبدالصمد خان اور والی سوات کے پوتے میاں گل شہریار نے اس کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا کہ اس معاملے کا ہائی کورٹ کے جج کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

میاں گل شہریار نے کہا کہ یہ ان کے خاندان کی مشترکہ جائیداد ہے اور وہ خود اس بارے میں فیصلہ کریں گے۔