گوادر کے ساحل پر سینڈ آرٹ مقابلہ: ریت کے فن پاروں میں چھپے پیغام

ضلع گوادر میں اپنی نوعیت کے دوسرے سینڈ آرٹ مقابلے کے دوران سمندری حیات کو لاحق خطرات کے موضوع پر فن پارے بنائے گئے۔

،تصویر کا ذریعہMehrab Taj and Bahram Baloch

،تصویر کا کیپشنریت کے ذرات سے شاہکار تخلیق کرنے والے آرٹسٹ ایک مرتبہ پھر گوادر کے ساحل پر جمع ہوئے ہیں جہاں انھوں نے ’سینڈ آرٹ‘ یعنی ریت سے بننے والے مختلف فن پارے بنائے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMehrab Taj and Bahram Baloch

،تصویر کا کیپشنضلع گوادر میں یہ اپنی نوعیت کا دوسرا سینڈ آرٹ مقابلہ تھا جس میں 19 ٹیموں نے شرکت کی جن میں سے زیادہ تر کا تعلق ضلع گوادر کے علاقے پسنی سے تھا۔

،تصویر کا ذریعہMehrab Taj and Bahram Baloch

،تصویر کا کیپشنگوادر کے ساحل پر سینڈ آرٹ مقابلوں کا اہتمام ضلعی انتظامیہ اور بامسار نامی تنظیم نے کیا۔

،تصویر کا ذریعہMehrab Taj and Bahram Baloch

،تصویر کا کیپشناس مقابلے میں گوادر سمیت بلوچستان بھر سے آئے فن کاروں نے حصہ لیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہMehrab Taj and Bahram Baloch

،تصویر کا کیپشنیہاں مکران اور ضلع لسبیلہ کے ساحلی علاقے گڈانی سے بھی کئی آرٹسٹ آئے تھے جن کے فن پاروں کو سراہا گیا۔

،تصویر کا ذریعہMehrab Taj and Bahram Baloch

،تصویر کا کیپشنمقابلے کے شرکا میں خواتین آرٹسٹوں کے علاوہ طلبا اور طالبات بھی شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہMehrab Taj and Bahram Baloch

،تصویر کا کیپشنمقابلوں کے منتظم عقیل احمد نے بتایا کہ سینڈ آرٹ کے مقابلے کے انعقاد کا مقصد یہاں کے فنکاروں کی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے لانا ہے۔

،تصویر کا ذریعہMehrab Taj and Bahram Baloch

،تصویر کا کیپشنبلوچستان جہاں معدنی وسائل سے مالا مال ہے وہیں یہاں کے لوگوں میں صلاحیت کی بھی کوئی کمی نہیں ہے، جس کا اندازہ اس سینڈ آرٹ کے مقابلے سے لگایا جاسکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہMehrab Taj and Bahram Baloch

،تصویر کا کیپشنعقیل احمد نے بتایا کہ اس مقابلے کے دوران دو چیزوں کو فوکس کیا گیا جن میں سے ایک تعلیم تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے علاقے میں خواتین کی تعلیم کی راہ میں بہت ساری رکاوٹیں ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہMehrab Taj and Bahram Baloch

،تصویر کا کیپشنمقابلے کا ایک دوسرا منفرد پہلو یہ تھا کہ ملک بھر میں سمندری حیات کو لاحق خطرات کے مسئلے کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہMehrab Taj and Bahram Baloch

،تصویر کا کیپشنعقیل احمد کا کہنا تھا کہ یہاں فنکاروں نے پانی کی کمی کے مسئلے پر بھی فن پارے بنائے ہیں۔