پاکستان میں ’عورت مارچ‘ کے مقبول نعرے اور مطالبات

پاکستان کے مختلف شہروں میں عورت مارچ کے لیے تیار کردہ خصوصی پلے کارڈز اور پوسٹرز کی تصاویر جن کے ذریعے خواتین نے اپنے خیالات اور مطالبات کی ترجمانی کی۔

،تصویر کا کیپشنپشاور میں منعقدہ عورت مارچ ریلی میں خواتین نے پلے کارڈز کے ذریعے صنفی مساوات اور خواتین کی معاشرے میں مثبت انداز میں نمائندگی ہر آواز اٹھائی
،تصویر کا کیپشنعورت مارچ میں شریک ایک خاتون نے معاشرے میں عورت کے احترام پر توجہ دلانے کی کوشش کی
،تصویر کا کیپشنکوئٹہ میں عورت مارچ ریلی میں شریک خواتین کارکنوں نے عورتوں کو درپیش مسائل کی نشاندہی کی
،تصویر کا کیپشنکوئٹہ میں عورت مارچ ریلی میں شرکا نے جبری گمشدگیوں پر بھی آواز اٹھائی
،تصویر کا کیپشنلاہور میں عورت مارچ کے موقع پر ان خواتین کی نمائندگی بھی کی گئی جو مختلف جرائم، بالخصوص گھریلو تشدد کے باعث جان کی بازی ہار گئیں
،تصویر کا کیپشنعورت مارچ میں شریک ایک کارکن اپنی والدہ سے نسبت کا اظہار کرتے ہوئے
،تصویر کا کیپشنعورت مارچ میں شریک ایک خاتون عورت اور مرد کے لیے قدرت کی عطا کردہ مساوات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے
،تصویر کا کیپشنعورت مارچ کے شرکا نے پاکستانی خواتین کے پیریئڈز یا ماہواری سے متعلق آگاہی کے پلے کارڈز اٹھا رکھے ہیں
،تصویر کا کیپشنعورت مارچ میں خواتین کو لے کر معاشرتی رویے کا بھی اظہار کیا گیا
،تصویر کا کیپشنعورت مارچ میں شریک ایک بچی نے نظرِيہ حقوقِ نسواں سے متعلق پلے کارڈ اٹھا رکھا ہے
،تصویر کا کیپشنعورت مارچ میں مردوں کی جانب سے بھی عورتوں کے حق میں نعرے اور مطالبات سامنے آئے
،تصویر کا کیپشنعورت مارچ میں کچھ مرد بھی ایسے پلے کارڈز اٹھائے نظر آئے جن پر مرد مخالف نعرے درج تھے
،تصویر کا کیپشنعورت مارچ میں شامل ایک پوسٹر پر خواتین پر گھریلو تشدد کے خلاف درج نعرہ
،تصویر کا کیپشنعورت مارچ کے لیے بنائے گئے ایک پوسٹر پر ’جو تم کر سکتے ہو ہم بھی کر سکتے ہیں‘ کا نعرہ
،تصویر کا کیپشنعورت مارچ میں شامل پلے کارڈز پر پدر شاہی سے متعلق نعرے بھی درج تھے
،تصویر کا کیپشنعورت مارچ میں طلاق یافتہ خواتین کو معاشرے میں درپیش مسائل پر بھی پلے کارڈز بنائے گئے
،تصویر کا کیپشنعورت مارچ میں شریک ایک نوجوان لڑکی کا مطالبہ