پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کے جلسے پر خودکش حملے میں مرنے والوں کی تدفین

پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار ہارون بلور پر خود کش حملے میں مرنے والوں کی تدفین کر دی گئی۔ اس حملے میں 20 افراد ہلاک ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے انتخابی جلسے میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں پارٹی کے رہنما ہارون بلور سمیت 20 افراد ہلاک اور 50 سے زائد افراد زخمی ہو گئے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشندھماکے میں ہلاک ہونے والے دیگر کئی افراد کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کی ہے اور ایک بیان میں عوام کو اے این پی کے دفاتر اور ان کے جلسوں اور کارنر میٹنگ سے دور رہنے کی دھمکی دی ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشندھماکہ منگل کی رات گئے یکہ توت کے علاقے میں ہوا جہاں پر عوامی نیشنل پارٹی کی انتخابی مہم کے حوالے سے جلسے کا انعقاد کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنایڈیشنل آئی جی بم ڈسپوزل سکواڈ شفقت ملک نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے جلسے کو خودکش حملے میں نشانہ بنایا گیا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنعینی شاہدین نے بتایا کہ جلسے کے دوران جیسے ہی ہارون بلور کو تقریر کے لیے سٹیج پر بلایا گیا تو ساتھ ہی دھماکہ ہو گیا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشندھماکے کے نتیجے میں صوبائی حلقہ پی کے 78 سے عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار ہارون بلور سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے جنھیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ہسپتال میں جب ہارون بلور کو لایا گیا تو ان کی حالت تشویشناک تھی، کچھ دیر بعد ہارون بلور کے خاندان اور پارٹی ذرائع نے ان کی ہلاکت کی تصدیق کر دی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنہارون بلور عوامی نیشنل پارٹی کے سینیئر رہنما بشیر بلور کے بیٹے ہیں جو ستمبر 2012 میں پشاور میں ہی پارٹی کے ایک جلسے پر ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہو گئے تھے
،تصویر کا کیپشنپشاور مںی دھماکے کے مقام پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد اب بھی موجود ہے