پھول کھلے کہساروں پر

بلتستان اور ہنزہ میں موسمِ بہار کے مناظر کی تصویری جھلکیاں۔

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے بیشتر میدانی علاقے اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، لیکن گلگت بلتستان میں بہار نے ابھی ابھی قدم رکھا ہے۔
،تصویر کا کیپشنہنزہ میں برف پوش پہاڑوں کے دامن میں خوبانی کے شگوفے۔
،تصویر کا کیپشنہنزہ میں التت قلعے وسیع سبزہ زار میں پیڑ شگوفوں سے لدے کھڑے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنہنزہ کے دو باسی پھولوں کی سیر کے مزے لوٹتے ہوئے۔
،تصویر کا کیپشنخوبانی کے سفید پھول شاخوں پر برف کے گالوں کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنزاغ ابلق نامی یہ مقامی پرندہ ایک پیڑ پر کھڑا وادی کے نظاروں لے رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنصرف خوبانی نہیں، بلکہ چیری کے درخت بھی بہار کی آمد کے ساتھ ہی بھرپور جوبن میں دکھائی دیتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپھولوں کی پتیوں نے گر گر کر سبزہ زار کے فرش کو بھی گل رنگ کر دیا۔
،تصویر کا کیپشنیہ شگوفے جلد ہی پھلوں کا روپ دھار لیں گے اور اگست تک خوبانی کی فصل پک کر تیار ہو جائے گی۔
،تصویر کا کیپشنالتت قلعے کے اندر قائم ’خا بسی کیفے‘ سے وادیِ نگر کا ایک منظر۔
،تصویر کا کیپشن25550 فٹ بلند راکاپوشی کی برف پوش چوٹی۔
،تصویر کا کیپشنوادیِ شگر جسے بلتستان کی سب سے زرخیز وادی کہا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنسکردو سے 50 کلومیٹر دور سرمِک گاؤں کے باسی اپنی ٹوپیوں میں پھول لگا کر بہار کی آمد کا جشن مناتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنسکردو اور سدپارہ جھیل کے درمیان درختوں کی ایک رنگین قطار۔ (تحریر و تصاویر ظفر سید)