پی ٹی آئی کا احتجاج اور انتظامیہ کی تیاریاں

پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے سینکڑوں کارکنوں کو حراست میں لیا اور موٹروے کو رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔

،تصویر کا کیپشنتحریک انصاف کے کارکنوں کو اسلام آباد آنے سےروکنے کے لیے موٹروے پر حضرو کے مقام پر کنٹینر اور ریت کے ڈھیر لگا کر راستے بند کر دیے گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنراستے میں حائل رکاوٹیں ہٹانے کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے خوب تیاری کی ہے اور وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی قیادت میں آنے والے قافلے کے ساتھ کرینز بھی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنخیبر پختوانخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے جس قافلے نے پیر کو صوابی سے اسلام آباد آنا ہے، اس میں شامل ہونے کے لیے پی ٹی آئی کے کارکنوں کی بڑی تعداد موٹروے کے انٹرچینج پر پہنچ رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنعمران خن نے اپنے کارکنوں کو پیر کو بنی گالا پہنچنے کی ہدایت کی ہے جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے دو نومبر کو دارالحکومت میں دھرنے سے متعلق تمام درخواستوں پر سماعت مکمل کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے احتجاج کو مقرر کردہ جگہ تک محدود رکھے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کرپشن کے الزامات کا جواب دیں یا مستعفی ہوں۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حکومت کی جانب سے ان کی جماعت کے دو نومبر کے احتجاجی دھرنے کو روکنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو بار بار تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
،تصویر کا کیپشنخیال رہے کہ جمعے کو اسلام آباد اور راولپنڈی کی انتظامیہ نے شہر میں دفعہ 144 نافذ کی تھی جس کے تحت پانچ سے زیادہ افراد کے اجتماع کے علاوہ لاؤڈسپیکر کے استعمال پر پابندی عائد تھی۔
،تصویر کا کیپشنحضرو کے مقام پر ان رکاوٹوں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں پولیس اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنصوبہ پنجاب میں حکام کا کہنا ہے کہ اس احتجاجی دھرنے میں شرکت کے خواہشمند تحریک انصاف کے 1900 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔