BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 August, 2005, 00:43 GMT 05:43 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
طوفان، سینکڑوں ہلاکتوں کا خدشہ
 
طوفان کے بعد سیلاب
صرف نیو آرلینز کے شہر میں مرنے والوں کی تعداد سو سے زیادہ ہو گئی ہے
امریکی تاریخ کے شدید ترین سمندری طوفان ’ہریکین قطرینہ‘ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب سینکڑوں میں پہنچ گئی ہے تا ہم سرکاری طور پر ہلاکتوں کی حتمی تعداد نہیں بتائی جا رہی ہے۔

اس طوفان سے اربوں ڈالر مالیت کی املاک کو نقصان بھی پہنچا ہے۔ اس طوفان کے بعد سے تیل کی قیمت اب ستر ڈالرز فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس طوفان کی وجہ سے خلیج میکسیکو کی تیل کی تنصیبات بند کر دی گئی ہیں۔ اور اب خدشہ ہے کہ تیل کی قیمت جو ابھی ستر ڈالر فی بیرل ہے، سو ڈالر فی بیرل تک نہ جا پہنچے گا۔

امریکی صدر جارج بش اپنی چھٹیوں کو منسوخ کر کے دارالحکومت واشنگٹن پہنچ رہے ہیں اور انہوں نے اپنے عوام سے امدادی رقم کے لئے اپیل کردی ہے۔

نیو آرلینز کے مئیر رے ناگن نے بتایا ہے کہ شہر کا اسی فیصد علاقہ زیر آب ہے

امریکہ کے جنوب میں خلیج میکسیکو کے ساحلی علاقوں میں ہریکین قطرینہ کی تباہی کے بعد بجلی کی سپلائی مکمل طور پر منقطع ہو گئی ہے۔ مسیسپی، الاباما اور لوئزیانا کے کئی ساحلی علاقوں میں شدید تباہی میں سینکڑوں افراد کے ہلاک ہوجانے کا خدشہ ہے۔ صرف مسیسپی کے شہر ہیری کاؤنٹی میں کم از کم اسی افراد کے ہلاک ہوجانے کی تصدیق ہو گئی ہے۔ ان میں وہ تیس افراد بھی شامل ہیں جو فلیٹوں کے ایک بلاک گرنے سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس شہر کی انتظامیہ کے ایک افسر کا دعوی ہے کہ ہلاکتیں سینکڑوں میں پہنچ جانے کا خطرہ ہے۔ مسیسپی کے ساحلی قصبے بلاکسی اور گلف پورٹ طوفان سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق امریکہ کے ساحلوں سے ٹکرانے والا یہ سب سے طاقتور سمندری طوفان ہے۔ طوفان کے بعد اب متاثرہ علاقوں سے لوٹ مار کی بھی اطلاعات آرہی ہیں۔ مسیسپی کے گورنر ہیلی باربر نے نیم فوجی دستوں کو حکم جاری کردیا ہے کہ جوشخص بھی لوٹ مار کرتا نظر آئے اسے موقع پر ہی گولی مار دی جائے۔

تباہی کے بعد امدادی کام جاری ہے

کئی علاقوں میں لوٹ مار سے نمٹنے کیلئے مارشل لا نافذ کردیا گیا ہے۔

ادھر ریاست لوئیزیانا کے شہر نیو آرلینز میں حفاظتی پشتے ٹوٹ جانے کے بعد شہر میں مزید پانی بھرنا شروع ہو گیا ہے۔ امریکی فوج نے اس پشتے سے پانی کے بہاؤ کو روکنے کے لئے فضا سے مٹی سے بھری بوریاں پھینکنا شروع کردی ہیں۔

لوئیزیانا کی گورنر کیتھلین بلانکو نے شہر میں پھنسے ہوئے لوگوں کا باہر نکالنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ یہ شہر پہلے ہی خالی ہو چکا ہے۔ نیو آرلینز کے ایک فٹ بال سٹیڈیم میں پناہ لیے ہوئے ہزاروں لوگوں کی زندگی بھی اب خطرے میں ہے۔

نیو آرلینز کے مئیر رے ناگن نے بتایا ہے کہ شہر کا اسی فیصد علاقہ زیر آب ہے اور پانی میں بہتی ہوئی لاشیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد