BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 14 February, 2005, 21:53 GMT 02:53 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’ کشمیر، دہشت گردی کا جواز‘
 

 
 
برطانوی وزیر خارجہ نے وزیراعظم شوکت عزیز سے بھی ملاقات کی
برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا نے کہا ہے کہ کشمیر کے تنازعہ کوبنیادبنا کر دہشت گردی کاجواز پیدا نہیں کیا جا سکتا لیکن ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک پرامن اور مستحکم کشمیر اور کشمیریوں کے جائز حق کے لیے ہونے والی کوششوں سے خطے میں سلامتی کا ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بات انہوں نے آج لاہور میں برٹش کونسل اور برطانوی ہائی کمشن کے زیر اہمتام ہونے والی ایک تقریب سے خطاب اور اس کے بعد شرکاء کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہی

انہوں نے کہا کہ برطانیہ اس سمت ہونے والے اقدامات کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے بھارت اور پاکستان پر زور دیا کہ وہ مل کام کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے۔

پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دنیا نے اس بارے میں جس تشویش کا اظہار کیا ہے اس کے اسباب بڑی حد تک واضح ہیں لیکن اگر کشمیر کا مسئلہ حل ہوجائے تو پاکستان اور بھارت کو ایٹمی اسلحہ کی نئی کھیپ کی کوئی ضرورت نہیں رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ اب سے تین سال پہلے دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ کی شدت اس قدر بڑھ گئی تھی کہ بھارت اور پاکستان کی فوجیں آمنے سامنے آگئی تھیں اور یہ خطرہ پیدا ہو چکا تھا کہ لاکھوں کشمیری اس لڑائی میں ہلاک ہوجائیں گے لیکن شکر ہے کہ یہ معاملہ ٹل گیا اور اب پاکستان اور بھارت کے درمیان مربوط مذاکرات ہو رہے ہیں اور کشمیر کا مسئلہ بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔

انہوں نے عراق اور مشرق وسطی کے بارے میں برطانوی موقف پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ دنیا چاہتی ہے مشرق وسطی بھی ایٹمی ہتھیاروں سے پاک علاقہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ مغربی ذرائع ابلاغ میں اسلام کے بارے میں یہ غلط تصور پایا جاتا ہے کہ یہ جارحیت کا مذہب ہے حالانکہ یہ بات غلط ہے اور حقیقیت یہ ہے کہ یہ اسلام امن اور سلامتی کا مذہب ہے اور دہشت گردی کو اس سے جوڑنا بالکل غلط ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ جان بوجھ کر ایسے نظریات کو ہوا نہ دی جائے جس سے تہذیبوں کے ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہونے خطرہ ہو اس کی بجائے مشترکہ اقدار اور ورثہ کی فروغ کے لیے کوشش کرنا چاہیے۔

برطانوی وزیرخارجہ ان دونوں پاکستان کے تین روزہ دورے پر ہیں۔ پاکستان کا یہ ان کا پانچواں دورہ ہے لیکن لاہور وہ پہلی مرتبہ آئے ہیں۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد