BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت:
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
پانی اتر گیا، بھیانک تباہی سامنے آ گئی
 
 لاشیں
سمندری طغیانی کی بے رحمی کا ایک منظر
جنوب مشرقی ایشیا میں اتوار کو قیامت خیز زلزلے کے بعد سمندری طغیانی سے تباہ حال لاکھوں متاثرین کی امداد کے لیے عالمی سطح پر بہت بڑی امدادی کارروائی شروع ہو گئی ہے۔

قدرتی آفتوں کا اندازہ لگانے والی عالمی ٹیمیں متاثرین تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں اور مقامی امدادی اداروں نے بے حال لوگوں میں ہنگامی طور پر امداد پہنچانے کا آغاز کر دیا ہے۔

اتوار کو انڈونیشا میں ریکٹر سکیل پر نو کی شدت سے آنے والے اس زلزلے نے جس طرح خطے میں ہر طرف موت بہائی اس سے خدشہ ہے کہ تیس ہزار سے زیادہ افراد لقمۂ اجل بن گئے ہیں، لا تعداد افراد کا مستقبل اندھیروں میں کھو گیا ہے،
ان گنت معصوم بچے سمندری طغیانی کی نذر ہو گئے ہیں، لاکھوں افراد کا اوڑھنا بچھونا اب کھلے آسمان کے نیچے خالی زمین ہے جہاں بیماریاں ہر طرف سے ان لوگوں پر حملہ آور ہو رہی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ ایک ہی وقت میں دس قوموں کے لاکھوں متاثرین میں امداد کی فراہم کی تقسیم کو مربوط کرنا ایک ایسا چیلنج ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔

سری لنکا، انڈونیشیا، بھارت اور تھائی لینڈ میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی ہے۔

زلزلے کا مرکز انڈونیشیا کے صوبہ آچے کا شمالی علاقہ سمارٹا کے قریب تھا جہاں اب تک پندرہ ہزار افراد کے ہلاک ہو جانے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ حکام کہتے ہیں کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ریچل ہاروی کا کہنا ہے کہ انہوں نے آچے کے شہر بانڈا کی سڑکوں پر سیکنڑوں کی تعداد میں لاشیں بکھری دیکھی ہیں جن کے جسم پانی کی وجہ سے پھولے ہوئے ہیں۔

سمندری طوفان سے ان گنت بچے بھی ہلاک ہوئے ہیں

وہ نامہ نگار جو آچے پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہتے ہیں کہ بیشتر ساحلی علاقہ ابھی تک پانی میں ڈوبا ہوا ہے اور شہر اور قصبے صفحۂ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔

سری لنکا میں حکومت نے اٹھارہ ہزار سے زیادہ افراد کی موت کی تصدیق کر دی ہے لیکن وہاں اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچیس ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔ سری لنکا میں دس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔

بھارت میں سات ہزار افراد مارے گئے ہیں جبکہ تھائی لینڈ میں چودہ سو افراد کے ہلاک ہوجانے کی اطلاع ہے جن میں اکثریت غیر ملکی سیاحوں کی ہے۔ متاثرہ ہونے والے ممالک میں ملیشیا، مالدیپ، بنگلہ دیش، برما اور مشرقی افریقہ بھی شامل ہیں۔

تباہی کے بعد۔ لیکن اب بچا کیا ہے؟

سری لنکا میں امدادی کارکنوں پر دباؤ ہے کہ وہ دس لاکھ کے قریب متاثرین کو پینے کا صاف پانی فراہم کریں اور بیمایوں سے روک تھام کے اقدامات کریں۔

اقوامِ متحدہ نے مقامی طور پر امدادی مراکز کھول دیے ہیں تاہم بی بی سی کے نامہ نگار رونلڈ بیورک کہتے ہیں کہ ملک کے جنوب مغرب میں ابھی تک امدادی اشیاء پہنچنے کا کوئی نشان تک نہیں۔

بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے ایک فوجی ہیلی کاپٹر پر کولمبو کے جنوبی علاقوں کے دورے کے بعد اطلاع دی ہے کہ طوفان نے ریل کی ایک پٹری کو مکمل طور پر اکھاڑ دیا جب کہ مسافر گاڑی کا ایک ڈبہ تباہ شدہ حالت میں پٹری سے کئی سو گز کے فاصلہ پر پڑا تھا۔

بھارت
بھارت کے دو ہزار کلو میٹر طویل جنوب مشرقی ساحلی علاقہ طوفانی لہروں کی زد میں آیا جن میں تامل ناڈو، آندھرا پردیش، کیرالہ اور پانڈیچیری کا قبائلی علاقہ شامل ہے۔ تامل ناڈو کا دارالحکومت چنئی سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں ڈھائی ہزار سے زائد ماہی گیروں کی جھونپڑیاں تباہی کی نذر ہوگئیں اور صرف چنئی میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔

بھارت میں مرنے والوں کی تعداد تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سات ہزار کے قریب ہے۔ ان میں نکو بار اور اینڈمان کے جزائر میں مرنے والے تین ہزار افراد بھی شامل ہیں۔

 بین کرتی عورتیں
لہریں جن کے پیاروں کو لے گئیں

اینڈمان میں تعینات ایک پولیس اہلکار نے کہا ہے کہ بہت سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں اور ایک جزیرے پر رہنے والے لوگوں سے کوئی رابط نہیں ہو سکا۔

مالدیپ
مالدیپ کے کئی جزیرے جو سطح سمندر سے چند فٹ کی بلندی پر تھے، اس سمندری طغیانی سے تباہ ہو گئے ہیں۔ مالدیپ کے دوسو جزائر سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔

تھائی لینڈ
جنوبی تھائی لینڈ کے مغربی ساحلی علاقے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، جن میں پوکھٹ اور فیفی جزیرے اور کرابی اور فانگ نگا کے تفریحی مقامات تباہ ہو گئے ہیں۔

ملایشیا
ملائیشیا کے ساحل پیناگ پر کئی لوگ طوفانی لہروں میں بہہ گئے۔

صومالیہ
اس طوفان کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بر اعظم افریقہ کے مشرقی ساحل پر واقع ملک صومالیہ کا شمالی حصہ بھی اس سے متاثر ہوا جو کہ زلزلے کے مرکز سے چھ ہزار کلو میٹر دور واقع ہے۔ وہاں سینکڑوں کی تعداد میں ماہی گیروں کے ڈوب جانے کا اندیشہ ہے۔

فطرت اگر اپنی بے رحمی دکھائے تو زندگی کی ایک بنیادی ضرورت ہی زندگی کو چھین لیتی ہے

امریکی جیولاجیکل سروے نے جس نے پہلے ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 8.9بتائی تھی، اس میں تبدیلی کی ہے اور کہا کہ زلزلے کی شدت 9 تھی جو گزشتہ چالیس برس کے دوران دنیا بھر میں کہیں بھی آنے والا شدید ترین زلزلہ ہے۔

اس سمندری زلزلے کے اثرات براعظم افریقہ میں محسوس کیے گئے ۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق صومالیہ میں نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں ۔

پاکستان کے ساحلی علاقے بحرہند کے کنارے پر ہونے کے باوجود اس کی تباہی سے بچ گئے ہیں۔ پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ امدادی کاموں میں بھرپور مدد کرے گا۔

اس سلسلے میں یورپی یونین نے متاثرین کی امداد کے لیے فوری طور پر تیس لاکھ یورو فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اور دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات کی بھرمار شروع ہو گئی ہے۔

پوپ جان پال دوئم نے کہا ہے کہ وہ اس شدید سانحہ کی زد میں آنے والے افراد کے لیے دعا گو ہیں۔

 
 
سنامی سے متاثر شخصماہرین کی رائے
سنامی کی قبل از وقت خبر کیوں نہ ہوئی؟
 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد