BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 June, 2004, 00:06 GMT 05:06 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
خارجہ پالیسی، بش انتظامیہ پر تنقید
 
یہ تنقید مسٹر بش کے لئے انتخابی مشکلات پیدا کر سکتی ہے
امریکہ کے چھبیس سابق سفارت کاروں اور فوجی افسروں کے ایک گروپ نے جن کا مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق سے بش انتظامیہ پر الزام لگایا ہے کہ اس نے واشنگٹن کے خارجہ تعلقات کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔

اس سلسلے میں ان سفارتکاروں نے عراق کی مثال دی ہے اور کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے دنیا میں امریکی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اب امریکہ کے کئی قریبی حمایتی اس سے دور ہوگئے ہیں اور نتیجتاً دنیا میں خطرات بڑھ گئے ہیں۔

انہوں نے اپنے ایک خط میں جو بدھ کو شائع ہوگا بش انتظامیہ میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔

اس گروپ میں شامل زیادہ تر افراد کا تعلق رونالڈ ریگن اور صدر بش کے والد کی انتظامیہ سے رہا ہے۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس گروپ میں ریپبلیکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کے ارکان شامل ہیں۔

امریکہ میں اسے پشہ ور افراد کی بغاوت قرار دیا جا رہا ہے۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ لوگ امریکہ میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں اور خدشہ ہے کہ یہ خط صدر بش کے خلاف ان کی انتخابی مہم میں استعمال کیا جائے گا۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد