BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 May, 2004, 06:37 GMT 11:37 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
گردن زدنی، وڈیو پر شدید ردعمل
 
برگ کے اہل خانہ کو سر کاٹے جانے کے پہلے سے علم تھا
امریکی یرغمالی نِک برگ کی گردن زدنی پر امریکہ میں شدید ردِ عمل کا اظہار کیا گیا ہے اور بش انتظامیہ نے نِک کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

نک برگ کے خاندان نے ان کے قتل کی جزوی ذمہ داری عراق میں اتحادی افواج پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے وہاں ایسے حالات پیدا کر دیئے تھے جن کا نتیجہ برگ کے قتل کی صورت میں نکلا۔ برگ وہاں کام کی تلاش میں گئے تھے۔

امریکہ میں لوگوں نے ایک عربی ویب سائٹ پر پیش کی گئی اس ویڈیو پر شدید حقارت کا اظہار کیا ہے جس میں ایک امریکی یرغمالی کی گردن کو چھری سے کاٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

یہ وڈیو عربی زبان کی ایک ویب سائٹ پر دکھائی گئی ہے۔

نِک برگ امریکی شہری تھے جو عراق میں ٹیلی مواصلات کی ایک کمپنی کے لئے کام کرتے تھے اور تقریباً ایک ماہ قبل لاپتہ ہوگئے تھے۔

ویڈیو میں پانچ افراد نظر آ رہے ہیں جن کے چہروں پر ڈھاٹے بندھے ہوئے ہیں اور وہ مذکورہ امریکی کو گھیرے کھڑے ہیں۔

ان میں سے ایک شخص کہہ رہا ہے کہ عراقی قیدیوں پر تشدد کا بدلہ لینے کے لئے اس یرغمالی کو ہلاک کر دیا جائے گا۔

برگ کی لاش آٹھ مئی کو بغداد کے مضافات سے ملی تھی

اس کے بعد کے منظر میں ایک دوسرے شخص کو دکھایا گیا ہے جو آگے بڑھ کر یرغمالی کو ذبح کر رہا ہے۔

اس تصویر سے پہلے ایک عبارت سکرین پر ابھرتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ: ’ابو مصاب الزرقاوی گلا کاٹیں گے‘۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ الزرقاوی ایک تنظیم کے سربراہ ہیں جس کا تعلق القاعدہ سے ہے۔

امریکی ترجمان نے اس بہیمانہ قتل کے ذمہ داروں کو آزادی کا دشمن قرار دیا ہے جنہیں معصوم زندگیوں کا کوئی لحاظ نہیں ہے۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو میں دکھائے جانے والے قتل کی مذمت میں تمام امریکی متفق ہیں۔ حالانکہ عراقی قیدیوں پر ہونے والے تشدد کی تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد وہاں سیاسی اختلاف کافی وسیع ہو گئے تھے۔

نِک برگ کے گھروالوں کا کہنا ہے کہ انہیں دو ماہ قبل عراقی پولیس نے گرفتار کیا تھا اور تیرہ روز تک حراست میں رکھنے کے بعد بغیر کسی الزام کے اتحادی حکام کے حوالے کر دیا تھا۔

برگ کے والد مائیکل کا کہنا ہے کہ برگ وطن لوٹنے کی کوشش میں تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ویڈیو میں بولنے والے افراد نے اسلام کو خطرہ لاحق ہونے کی بات کی ہے۔ اور ان کا بیٹا یہودی تھا۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد