BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت:
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
مذہبی فسادات، چودہ ہلاک
 
1999 کے بعد تقریباً 5000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں
انڈونیشیا کے مولوکس جزائر میں پولیس کا کہنا ہے کہ مسلمانوں اور عیسائیوں میں ہونے والے نئے فسادات میں کم از کم چودہ افراد ہلاک اور ایک سو سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

موکولس انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتا کے مشرق میں دو ہزار چھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

لوگ چھری، چاقو اور پتھروں سے لڑتے رہے، عمارتوں کو نذر آتش کیا گیا اور خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے رپورٹر نے بتایا کہ انہوں نے ایک سڑک پر دیکھا کہ دو افراد کو ٹکڑے کر کے ہلاک کر دیا گیا۔

یہ فسادات اس وقت شروع ہوئے جب علیحدگی پسند عیسائی پچاس برس پہلے کی گئی آزادی کی ناکام کوشش کی یاد میں دارالحکومت امبون میں داخل ہوئے۔

انڈونیشیا میں انیس سو ننانوے کے بعد شروع ہونے والے فرقہ ورانہ فسادات میں اب تک پانچ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

امبون پولیس

سن دو ہزار دو میں فریقین نے حکومت کی وساطت سے ایک امن معاہدے پر دستخط کئے تھے جو بظاہر اب تک قائم تھا۔

موقعہ پر موجود لوگوں کا کہنا ہے کہ نوجوانوں پر مشتمل مسلمانوں اور عیسائیوں کے گروہوں نے اتوار کو صوبائی دارالحکومت کے وسط میں ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا۔ اس کے علاوہ فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دیں۔

خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے شہر میں واقع فتح اسپتال کے ڈائریکٹر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آٹھ لاشیں اسپتال لائی گئیں جن میں سے بیشتر کو گولیاں لگی تھیں۔

خبر رساں ایجنسی کے رپورٹر نے کہا ہے کہ انہوں نے تلواروں اور ڈنڈوں سے مسلح تقریباً پچاس افراد کے ایک گروہ کو پتیمورہ یونیورسٹی کے قریب دو افراد کے ٹکڑے کر کے ہلاک کرتے دیکھا ہے۔

اس واقعہ میں تین عمارتوں کو بھی نذر آتش کیا گیا جن میں اقوام متحدہ کا سابق دفتر بھی شامل ہے۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد