پاکستان-انڈیا تنازعہ: سیز فائر کے بعد دونوں ملکوں کی افواج کی جانب سے کیے جانے والے دعوے

،تصویر کا ذریعہPIB
کئی روز سے جاری تنازعے کے بعد سنیچر کے روز پاکستان اور انڈیا سیز فائر پر متفق ہو گئے جس کے بعد اتوار کے روز دونوں ممالک کی افواج کے ترجمانوں نے تفصیلی پریس بریفنگ کی۔
- انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آپریشن سندور کے بعد پاکستانی ڈی جی ایم او سے رابطے کی کوشش کی گئی تاکہ انھیں دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں سے آگاہ کیا جائے تاہم اس درخواست کو فوراً رد کر دیا گیا اور یہ پیغام دیا گیا کہ کڑا جواب ناگزیر ہے جس کے لیے ہم تیار تھے۔‘
- لیفٹیننٹ جنرل راجئیو گھائی نے دعوی کیا کہ آپریشن سندور میں ’ہم نے دہشتگردوں کے نو ٹھکانوں پر حملوں میں 100 سے زیادہ ’دہشتگردوں‘ کو ہلاک کیا جن میں یوسف اظہر، عبدالملک رؤف اور مدثر احمد جیسے ہائی ویلیو ٹارگٹ شامل ہیں۔‘
- پریس کانفرنس میں موجود انڈیا کے ایئر مارشل اے کے بھارتی نے کہا کہ انھوں نے آپریشن سندور کے تحت بہاولپور اور مریدکے سمیت دیگر مقامات پر فضائی حملوں کے مناظر شیئر کیے۔
- ایک صحافی کی جانب سے رفال طیارے ’گرائے جانے‘ سے متعلق سوال پر انڈین ایئرمارشل اے کے بھارتی کا کہنا تھا کہ ’ ہم لڑائی کی حالت میں ہیں۔ نقصانات لڑائی کا حصہ ہیں۔ آپ کو ہم سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ کیا ہم نے اپنے اہداف حاصل کیے ہیں؟ کیا ہم نے دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کرنے کا ہدف حاصل کیا ہے؟‘ اس کا جواب ہاں ہے۔‘
- کیا انڈیا نے پاکستانی فضائیہ کے طیارے گرائے ہیں، اس سوال پر بریفنگ کے دوران انڈین ایئر مارشل اے کے بھارتی نے کہا کہ ’ان کے طیاروں کو ہماری حدود میں آنے سے روکا گیا۔ ہمارے پاس ان کا ملبہ نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہPTV
اتوار کی شب پاکستان بحریہ کے وائس ایڈمرل رب نواز اور پاکستان فضائیہ کے ترجمان ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد کے حمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹینیٹ جنرل احمد شریف نے دعویٰ کیا کہ دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے دو مقامات پر انڈیا کے ایس 400 بیٹری سسٹم کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
- لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے انڈیا میں پاکستانی فوج کے جوابی حملے سے متعلق اپنے دعوے میں کہا کہ ’پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے 26 انڈین اہم فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔‘
- ڈی جی آئی ایس پی آر نے دعوی کیا کہ پاکستانی شہریوں پر حملوں میں استعمال ہونے والے بیاس اور نگروٹا میں موجود براہموس میزائل کے ذخائر کو تباہ کیا گیا جبکہ کے جی ٹاپ، نشہرہ کی 10 بریگیڈ اور 80 بریگیڈ کی کمانڈ تنصیبات کو بھی تباہ کیا گیا ہے۔
- وائس ایڈمرل رب نواز نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان نیوی نے تمام بندرگاہوں کو آپریشنل رکھا، پاکستان کی سمندری حدود سے انڈیا کا جہاز 400 ناٹیکل میل دور تھا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’پاکستان کی بحری فوج کو تیار دیکھ دشمن کی آگے بڑھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔‘
- پاکستان کی فوج کے ترجمان لیفٹینیٹ جنرل احمد شریف نے انڈیا کی پائلٹ کے پاکستان کی حراست میں ہونے کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ خبریں سوشل میڈیا پر ہی ہیں تاہم واضح کرتا ہوں کہ کوئی انڈین پائلٹ پاکستان کی حراست میں نہیں۔
- ڈی جی آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا کہ سیز فائر کی درخواست پاکستان نے نہیں کی تھی بلکہ جنگ بندی کی خواہش کا اظہار انڈیا کی جانب سے کیا گیا تھا۔
- ائیر وائس مارشل اورنگزیب احمد نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی فوج نے انڈین فوجی تنصیبات اور دہشت گردی کے تربیتی مراکز کو تباہ کیا، اور اس دوران انڈیا کی فضائیہ کے مقابلے میں پاکستان کو چھ صفر سےکامیابی ملی۔
- پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کے اپنے وعدے پر پاکستان کی افواج سختی سے عمل پیرا ہیں۔ ’تاہم فریق محالف اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرے گا تو ہم جواب دیں گے اور ہمارا جواب بھرپور ہو گا۔‘

















