دہشتگردی اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں ہو سکتے، پانی اور خون ایک ساتھ نہیں بہہ سکتا: نریندر مودی

انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ صرف دہشتگردی اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر پر بات ہوگی۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے انڈیا اور پاکستان کو متنبہ کیا تھا کہ اگر لڑائی نہ روکی گئی تو امریکہ دونوں ملکوں سے تجارت روک دے گا۔

خلاصہ

  • امریکی صدر ٹرمپ کو امید ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایک مستقل سیزفائر ہوا ہے
  • پاکستان اور انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کے درمیان ہاٹ لائن پر بات چیت کا پہلا راؤنڈ مکمل ہو چکا ہے
  • پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے پاس سیز فائر کے بعد ایک سنہری موقع ہے کہ کشمیر سمیت دیگر معاملات پر مذاکرات کریں
  • پاکستان سٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز زبردست تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور ملکی سٹاک مارکیٹ کی تاریخ میں انڈیکس پہلی بار 10123 پوائنٹس اضافے کے بعد بند ہوا
  • آپریشن سندور کے حوالے سے انڈین مسلح افواج کی پریس بریفنگ میں دعویٰ کیا گیا کہ انڈیا کے مضبوط فضائی دفاعی نظام نے پاکستان کے کئی ڈرونز اور میزائل حملے ناکام بنائے، جس میں چینی ساختہ پی ایل 15 شامل ہے

لائیو کوریج

پیشکش: اعظم خان

  1. پاکستان-انڈیا تنازعہ: سیز فائر کے بعد دونوں ملکوں کی افواج کی جانب سے کیے جانے والے دعوے

    انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائی

    ،تصویر کا ذریعہPIB

    ،تصویر کا کیپشنانڈیا کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائی

    کئی روز سے جاری تنازعے کے بعد سنیچر کے روز پاکستان اور انڈیا سیز فائر پر متفق ہو گئے جس کے بعد اتوار کے روز دونوں ممالک کی افواج کے ترجمانوں نے تفصیلی پریس بریفنگ کی۔

    • انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آپریشن سندور کے بعد پاکستانی ڈی جی ایم او سے رابطے کی کوشش کی گئی تاکہ انھیں دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں سے آگاہ کیا جائے تاہم اس درخواست کو فوراً رد کر دیا گیا اور یہ پیغام دیا گیا کہ کڑا جواب ناگزیر ہے جس کے لیے ہم تیار تھے۔‘
    • لیفٹیننٹ جنرل راجئیو گھائی نے دعوی کیا کہ آپریشن سندور میں ’ہم نے دہشتگردوں کے نو ٹھکانوں پر حملوں میں 100 سے زیادہ ’دہشتگردوں‘ کو ہلاک کیا جن میں یوسف اظہر، عبدالملک رؤف اور مدثر احمد جیسے ہائی ویلیو ٹارگٹ شامل ہیں۔‘
    • پریس کانفرنس میں موجود انڈیا کے ایئر مارشل اے کے بھارتی نے کہا کہ انھوں نے آپریشن سندور کے تحت بہاولپور اور مریدکے سمیت دیگر مقامات پر فضائی حملوں کے مناظر شیئر کیے۔
    • ایک صحافی کی جانب سے رفال طیارے ’گرائے جانے‘ سے متعلق سوال پر انڈین ایئرمارشل اے کے بھارتی کا کہنا تھا کہ ’ ہم لڑائی کی حالت میں ہیں۔ نقصانات لڑائی کا حصہ ہیں۔ آپ کو ہم سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ کیا ہم نے اپنے اہداف حاصل کیے ہیں؟ کیا ہم نے دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کرنے کا ہدف حاصل کیا ہے؟‘ اس کا جواب ہاں ہے۔‘
    • کیا انڈیا نے پاکستانی فضائیہ کے طیارے گرائے ہیں، اس سوال پر بریفنگ کے دوران انڈین ایئر مارشل اے کے بھارتی نے کہا کہ ’ان کے طیاروں کو ہماری حدود میں آنے سے روکا گیا۔ ہمارے پاس ان کا ملبہ نہیں۔‘
    پاکستان بحریہ کے وائس ایڈمرل رب نواز، ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹینیٹ جنرل احمد شریف اور پاکستان فضائیہ کے ترجمان ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    ،تصویر کا کیپشنپاکستان بحریہ کے وائس ایڈمرل رب نواز، ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹینیٹ جنرل احمد شریف اور پاکستان فضائیہ کے ترجمان ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد

    اتوار کی شب پاکستان بحریہ کے وائس ایڈمرل رب نواز اور پاکستان فضائیہ کے ترجمان ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد کے حمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹینیٹ جنرل احمد شریف نے دعویٰ کیا کہ دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے دو مقامات پر انڈیا کے ایس 400 بیٹری سسٹم کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

    • لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے انڈیا میں پاکستانی فوج کے جوابی حملے سے متعلق اپنے دعوے میں کہا کہ ’پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے 26 انڈین اہم فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔‘
    • ڈی جی آئی ایس پی آر نے دعوی کیا کہ پاکستانی شہریوں پر حملوں میں استعمال ہونے والے بیاس اور نگروٹا میں موجود براہموس میزائل کے ذخائر کو تباہ کیا گیا جبکہ کے جی ٹاپ، نشہرہ کی 10 بریگیڈ اور 80 بریگیڈ کی کمانڈ تنصیبات کو بھی تباہ کیا گیا ہے۔
    • وائس ایڈمرل رب نواز نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان نیوی نے تمام بندرگاہوں کو آپریشنل رکھا، پاکستان کی سمندری حدود سے انڈیا کا جہاز 400 ناٹیکل میل دور تھا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’پاکستان کی بحری فوج کو تیار دیکھ دشمن کی آگے بڑھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔‘
    • پاکستان کی فوج کے ترجمان لیفٹینیٹ جنرل احمد شریف نے انڈیا کی پائلٹ کے پاکستان کی حراست میں ہونے کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ خبریں سوشل میڈیا پر ہی ہیں تاہم واضح کرتا ہوں کہ کوئی انڈین پائلٹ پاکستان کی حراست میں نہیں۔
    • ڈی جی آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا کہ سیز فائر کی درخواست پاکستان نے نہیں کی تھی بلکہ جنگ بندی کی خواہش کا اظہار انڈیا کی جانب سے کیا گیا تھا۔
    • ائیر وائس مارشل اورنگزیب احمد نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی فوج نے انڈین فوجی تنصیبات اور دہشت گردی کے تربیتی مراکز کو تباہ کیا، اور اس دوران انڈیا کی فضائیہ کے مقابلے میں پاکستان کو چھ صفر سےکامیابی ملی۔
    • پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کے اپنے وعدے پر پاکستان کی افواج سختی سے عمل پیرا ہیں۔ ’تاہم فریق محالف اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرے گا تو ہم جواب دیں گے اور ہمارا جواب بھرپور ہو گا۔‘
  2. امریکہ کا چین کے ساتھ تجارتی معاہدے کا اعلان، اختلافات اتنے گہرے نہیں جتنا سوچا جا رہا تھا: سکاٹ بیسنٹ

    امریکہ اور چین کے صدور

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکہ اور چین کے درمیان اہم تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ جنیوا میں طے پانے والے اس معاہدے کا اعلان وائٹ ہاؤس نے کیا ہے جس کے مطابق اس معاہدے کی معلومات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دی گئی ہیں اور اس کی تفصیلات کل جاری کی جائیں گی۔

    وائٹ ہاؤس سے جاری اعلامیے میں امریکی سیکریٹری آف ٹریژری سکاٹ بیسنٹ کابیان موجود ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم نے امریکہ اور چین کے درمیان تہائی اہم تجارتی مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت کی ہے۔‘

    اپنے بیان میں انھوں نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی تفصیلات سے اگلے روز آگاہ کیا جائے گا۔

    دوسری جانب امریکی تجارتی نمائندے کے سفیر جیمیسن گریر نے کہا کہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہم کتنی جلدی معاہدے پر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ شاید اختلافات اتنے بڑے نہیں تھے جتنا اس کے بارے میں خیال کیا جا رہا تھا۔

    جیمینن گریر کے بیان کے مطابق مطابق ’ان دو دنوں میں بہت ساری بنیادیں کام کی گئی ہیں۔ بس یاد رکھیں کہ ہم نے پہلی بار تجارت میں دو ہزار ڈالر کی پہلی پوزیشن کیوں حاصل کی ہے۔‘

    ان کے مطابق خسارے کے باعث صدر نے قومی ہنگامی حالت کا اعلان کیا اور محصولات عائد کیے، اور ہمیں یقین ہے کہ ہم نے اپنے چینی شراکت داروں کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے وہ اس قومی ہنگامی صورتحال کو حل کرنے کے لیے کام کرنے میں ہماری مدد کریں گے۔

    جیمیسن گریر نے کہا،’امریکہ اس وقت 1200 بلین ڈالر کے تجارتی خسارے میں ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر نے ٹیرف لگانے کا اعلان کیا تھا۔‘

  3. بریکنگ, ’کنٹرول لائن پر جنگ بندی کے وعدے پر سختی سے عمل پیرا ہیں، تاہم فریق مخالف نے خلاف ورزی کی تو بھرپور جواب دیں گے‘

    پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف

    ،تصویر کا ذریعہ@PTV

    پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے انڈیا کے خلاف جوابی کارروائی سے متعلق مشترکہ اور تفصیلی پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ کنٹرول لائن پر جنگ بندی کے اپنے وعدے پر پاکستان کی افواج سختی سے عمل پیرا ہیں۔ ہم ایک پیشہ ور فوج ہیں اور اپنے وعدے پر پوری طرح عمل کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’تاہم فریق محالف اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرے گا تو ہم جواب دیں گے اور ہمارا جواب بھرپور ہو گا۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’جب پاکستان جواب دیتا ہے تو وہ ٹکا کر دیا گیا جواب ہوتا ہے۔ ہم میچحور پلیئر ہیں اور ہم کشیدگی کو کم کر رہے تھے۔‘

    ترجمان افواج پاکستان نے دعویٰ کیا کہ ’ہم امن سے محبت کرنے والے لوگ ہیں صرف جارحیت کا جواب دیتے ہیں۔ یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان کی فوج سیز فائر کی خلاف ورزی نہیں کرے گی۔‘

    ’کئی صلاحیتیں آئندہ کے لیے محفوظ رکھی گئی ہیں: آئی ایس پی آر

    دو گھنٹے کے دورانیے کی اس تفصیلی بریفنگ کے دوران انھوں نے کہا کہ پاکستانی افواج کے پاس ایسی کئی جدید جنگیں صلاحیتیں موجود ہیں جن میں کچھ کا استعمال انڈیا کے خلاف محدود سطح پر کیا گیا ہے۔

    ترجمان کے مطابق ’پاکستانی افواج نے انڈیا کے خلاف جوابی کارروائی میں بھرپور سائبر حملے بھی کیے جس کے نتیجے میں انڈیا کی اہم مواصلاتی اور انفرسٹرکچر نظام کو مفلوج کیا گیا جنھیں انڈیا کی افواج استعمال کررہی تھیں۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ یہ یاد رہے کہ پاکستان کی افواج کے پاس ایسی کئی جدید جنگیں صلاحیتیں موجود ہیں جن میں کچھ کا استعمال محدود سطح پر کیا گیا جب کہ کئی صلاحیتیں آئندہ کے لیے محفوظ رکھی گئی ہیں۔‘

    ’انڈیا پاکستان کے درمیان ایٹمی جنگ محض حماقت ہو گی‘

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی مفصل بریفنگ میں ایک سوال کے جواب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک ایٹمی قوتیں ہیں اور ان کے درمیان ایٹمی جنگ محض حماقت ہو گی۔

  4. بریکنگ, ’کوئی انڈین پائلٹ پاکستان کی حراست میں نہیں، جنگ بندی کی خواہش کا اظہار انڈیا کی جانب سے کیا گیا‘

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں واضح کیا ہے کہ کوئی انڈین پائلٹ پاکستان کی حراست میں نہیں ہے۔

    پاکستان کی فوج کے ترجمان لیفٹینیٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ انڈیا کی پائلٹ کے پاکستان کی حراست میں ہونے کی خبریں سوشل میڈیا پر ہی ہیں تاہم واضح کرتا ہوں کہ کوئی انڈین پائلٹ پاکستان کی حراست میں نہیں۔

    انھوں نے سوال و جواب کے سیشن میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ سیز فائر کی درخواست پاکستان نے نہیں کی تھی بلکہ جنگ بندی کی خواہش کا اظہار انڈیا کی جانب سے کیا گیا تھا۔

    پاکستان کی فضائیہ کو انڈیا کی فضائیہ کے مقابلے میں چھ صفر سے کامیابی ملی:ائیر وائس مارشل اورنگزیب

    پاکستان کی فضائیہ کے ائیر وائس مارشل اورنگزیب احمد نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران الزام عائد کیا ہے کہ انڈیا نے ڈرون طیاروں سے پاکستانی شہری آبادی کو نشانہ بنایا، انڈین فضائیہ کی جارحیت پر اس کے طیارے مار گرائے۔

    ان کا دعویٰ تھا کہ ڈرونز سویلین کی جگہ آتے تھے تو اسے احتیاط سے گراتے تھے۔

    ائیر وائس مارشل اورنگزیب احمد نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی فوج نے انڈین فوجی تنصیبات اور دہشت گردی کے تربیتی مراکز کو تباہ کیا، اور اس دوران انڈیا کی فضائیہ کے مقابلے میں پاکستان کو چھ صفر سےکامیابی ملی۔

  5. پاکستان نیوی نے تمام بندرگاہوں کو آپریشنل رکھا: وائس ایڈمرل رب نواز

    پاکستان کی بحری فوج کے سربراہ وائس ایڈمرل رب نواز نے ڈی جی آیی ایس پی آر کے ہمراہ ہونے والی پریس بریفنگ میں بتایا ہے کہ انڈیا کے خلاف جوابی کارروائی کے دوران پاکستان کی بحری فوج نے انڈین نیوی کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے تھی۔

    ایڈمرل رب نواز نے کہا کہ چھ اور سات مئی کی درمیانی شب انڈیا کی فوج کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان نیوی مکمل طور سے تیار تھی۔

    وائس ایڈمرل رب نواز نے بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان نیوی نے تمام بندرگاہوں کو آپریشنل رکھا، پاکستان کی سمندری حدود سے انڈیا کا جہاز 400 ناٹیکل میل دور تھا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’پاکستان کی بحری فوج کو تیار دیکھ دشمن کی آگے بڑھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔‘

  6. انڈیا کی سرپرستی میں اس دوران خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی میں غیر معمولی اضافہ ہوا: ڈی جی آئی ایس پی آر

    ترجمان آئی ایس پی آر لیفٹینیٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ انڈیا کے حملوں کی جوابی کارروائی کے دوران مسلح افواج نے زمین، فضا، سمندر اور سائبر سپیس میں مکمل ہم آہنگی سے اہم اہداف کو تباہ کیا گیا ہے۔

    ان کے مطابق نشانہ بنانے والے مقامات میں صورت گڑھ ، آدم پور، اونتی پورہ، اودھم پور، نالیہ، بٹھنڈہ، الواڑا، سری نگر، جموں، امبالا اور پٹھان کوٹث اور دیگر علاقے شامل تھے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی شہریوں پر حملوں میں استعمال ہونے والے بیاس اور نگروٹا میں موجود براہموس میزائل کے ذخائر کو تباہ کیا گیا ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’کے جی ٹاپ، نشہرہ کی 10 بریگیڈ اور 80 بریگیڈ کی کمانڈ تنصیبات کو بھی تباہ کیا گیا ہے۔‘

    ان کے مطابق یہ وہ تنصیاب ہیں جہاں سے بلااشتعال فائرنگ کرکے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ اتوار کے روز انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ ’سات مئی کی شام پاکستانی ڈرونز نے دراندازی کی اور ہمارے شہری اور فوجی علاقوں میں داخل ہوئے جنھیں ناکام بنایا گیا۔‘

    جنرل راجیو گھائی نے دعویٰ کیا تھا کہ بہاولپور اور مریدکے کے ’ٹریننک کیمپ‘ بین الاقوامی سرحد سے زیادہ دور تھے ہم نے وہاں دہشتگردوں کو نشانہ بنایا مگر انھوں نے شہری علاقوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔‘

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں دعویؤ کیا کہ ’ان اقدامات کے باوجود میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ انڈیا کی مسلسل اشتعال انگیزی کے مقابلے میں پاکستان کا ردعمل نہایت درست، متوازن اور محدود نوعیت کا رہا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جب مشرقی سرحد پر افواج پاکستان دفاع میں مصروف تھی تو خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں انڈیا کی سرپرستی میں دہشت گردی میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انڈیا پاکستان میں دہشت گردی کو اپنی پراکسیز کے ذریعے فروغ دے رہا ہے۔‘

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جب کبھی ہماری خود مختاری یا سرحدوں کی خلاف ورزی کی گئی، ہمارا رد عمل جامع، جوابی اور فیصلہ کن ہوگا۔

  7. ’سیاسی جماعتوں نے اختلافات سے بالاتر ہو کر افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا بہترین مظاہرہ کیا‘

    آئی ایس پی آر

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    پاکستان کی فوج کے ترجمان لیفٹینینٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ’ہم بلا تفریق تمام سیاسی جماعتوں کے قیادت کے ممنون ہیں جنھوں نے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر، وطن کےدفاع میں متحد ہوکر افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا بہترین مظاہرہ کیا۔‘

    لیفٹینینٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پاکستان ایئرفورس اور پاکستان نیوی کے افسران کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انڈیا کی جارحیت کے نتیجے میں آپریشن بنیان مرصوص شروع کیا گیا اور پاکستان کی مسلح افواج نے قوم سے کیا ہوا وعدہ نبھایا جس پر ہم اللہ کے شکر گزار ہیں۔

    ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ’پاکستان کی مسلح افواج، پوری قوم خصوصاً نوجوانوں کے جذبے، حوصلے اور بھرپور حمایت پر دل کی گہرائیوں سے شکرگزار ہیں، جنھوں نے مشکل وقت میں ہمارے حوصلے بڑھائے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کے ان نوجوانوں کے بھی شکر گزار ہیں جو سائبر اور انفارمیشن کے محاذ پر صف اول کے سپاہی بنے جبکہ پاکستان کا متحرک اور بہادر میڈیا انڈیا کے پروپیگنڈہ اور جنگی جنون کے خلاف آہنی دیوار کی طرح کھڑے ہوئے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مسلح افواج بالخصوص پاکستان کے وزیراعظم اور ان کی کابینہ کی قائدانہ صلاحیتوں اور جرت مندانہ فیصلوں کی بھی قدر دان ہیں جنھوں نے ملک کو اس نازک موڑ پر درست سمت میں رہنمائی فراہم کی۔

  8. بریکنگ, پاکستان نے دو مقامات پر انڈیا کے ایس 400 بیٹری سسٹم کو کامیابی سے نشانہ بنایا: آئی ایس پی آر

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹینیٹ جنرل احمد شریف نے پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے دو مقامات پر انڈیا کے ایس 400 بیٹری سسٹم کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    اتوار کی شب پریس کانفرنس میں دیگر فوجی حکمران کے ہمراہ پریس کانفرنس میں انڈیا کے خلاف آپریشن بنیان مرصوص کی تفصیلات بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے کنٹرول لائن پر ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے جو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل آج شام انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائی نے پریس کانفرنس کرتےدعوی کیا تھا کہ ’سات مئی کی شام پاکستانی ڈرونز نے دراندازی کی اور ہمارے شہری اور فوجی علاقوں میں داخل ہوئے جنھیں ناکام بنایا گیا۔

    جنرل راجیو گھائی نے دعویٰ کیا تھا کہ بہاولپور اور مریدکے کے ’ٹریننک کیمپ‘ بین الاقوامی سرحد سے زیادہ دور تھے ہم نے وہاں دہشتگردوں کو نشانہ بنایا مگر انھوں نے شہری علاقوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔‘

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹینیٹ جنرل احمد شریف نے پریس کانفرنس میں انڈیا میں پاکستانی فوج کے جوابی حملے سے متعلق اپنے دعوے میں کہا کہ ’پاکستان نے کامیابی کے ساتھ اڑی نیٹ ورکس سسٹم اور اور پونچھ ریڈارز کو نشانہ بنایا ہے ۔ پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے 26 انڈین اہم فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

    انھوں نے یہ دعوی بھی کیا کہ پاکستان نے تمام حملے انتہائی مہارت کے ساتھ کیے تاکہ عام آبادی کو نقصان نہ پہنچے۔ ان تنصیبات کو نہ صرف انڈیا کے زیر انتظام جموں و کمشیر بلکہ انڈیا کے اندر بھی نشانہ بنایا ہے۔

  9. پشاور میں دھماکہ، دو پولیس اہلکار ہلاک: حکام, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو/پشاور

    خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور کے حکام کے مطابق چمکنی میں ایک دھماکے سے دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت ہوئی ہے۔

    پشاور کے پولیس افسر قاسم علی خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ ایک خودکش دھماکہ تھا جس میں دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت ہوئی ہے۔

    وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے پشاور میں پولیس موبائل کے قریب دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’خیبر پختونخوا پولیس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیاں دی ہیں۔ پولیس کے جوانوں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔‘

    صوبے کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ’اس طرح کے بزدلانہ حملوں سے پولیس کے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔‘

    انھوں نے پولیس کے اعلی حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کی ہے۔

  10. کیا انڈیا نے پاکستانی طیارے گرائے؟

    کیا انڈیا نے پاکستانی فضائیہ کے طیارے گرائے ہیں، اس سوال پر بریفنگ کے دوران انڈین ایئر مارشل اے کے بھارتی نے کہا کہ ’ان کے طیاروں کو ہماری حدود میں آنے سے روکا گیا۔ ہمارے پاس ان کا ملبہ نہیں۔‘

    ’ہم نے کچھ (پاکستانی) طیارے گرائے ہیں، اس کے اعداد و شمار ہم فی الحال نہیں بتا رہے۔ میرے پاس اعداد و شمار ہیں، ہم اس کے تعین کے لیے تکنیکی تفصیلات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ یقیناً ہم نے ان کی طرف کچھ نقصانات کیے ہیں۔‘

    جب انڈین ایئر مارشل سے پوچھا گیا کہ انڈیا نے پاکستانی فضائیہ کے کون کون سے فائٹر طیارے گرائے ہیں تو انڈین ایئر مارشل کا کہنا تھا کہ ’آنے والے دنوں میں آپ کو خود ہی پتا چل جائے گا۔ ایسی باتیں چھپی نہیں رہتی ہیں۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ فورتھ جنریشن کے طیارے تھے، تو انھوں نے جواب دیا کہ ’آپ میرے منھ میں اپنے الفاظ مت ڈالیں۔ اس کو فورتھ جنریشن نہیں، ہائی ٹیک کہا جا سکتا ہے۔‘

    دریں اثنا ایئر مارشل اے کے بھارتی نے دعویٰ کیا کہ انڈین افواج نے پاکستان میں چکلالہ (اسلام آباد)، رفیقی، رحیم یار خان، سکھر، سرگودھا، بھولاری، مرید اور جیکب آباد میں فضائی اڈوں، ایئر فیلڈز، کمانڈ سینٹرز اور دیگر دفاعی تنصیبات پر حملہ کیا۔

    ’یہ دشمن کو جواب تھا کہ تناؤ میں مزید اضافے سے اجتناب کرے۔‘

  11. پاکستان اور انڈیا کے درمیان جو کچھ ہوا، وہ جنگ سے کم نہیں تھا: انڈین ڈی جی ایم او

    انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائی

    ،تصویر کا ذریعہPIB

    ،تصویر کا کیپشنانڈیا کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائی

    انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائی سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ ’کیا اگلی بار انڈیا میں دہشتگردی کے کسی واقعے کو اقدام جنگ سمجھا جائے گا؟

    انڈین ڈی جی ایم نے کہا کہ ’ہم نے اپنی کارروائی کی۔ اس کے بعد (پاکستانی فوج کے ڈی جی ایم او کو) یہ بتانے کی کوشش کی کہ ہم نے سٹرائیکس کیوں کی۔ لیکن جو ہمارا دشمن ہے، اس نے جو مناسب سمجھا کارروائی کی۔‘

    ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائی نے کہا کہ ’آپ نے دیکھا کہ جو تین، چار دن سے کارروائیاں چل رہی ہیں یہ جنگ سے کم نہیں۔ عام حالات میں ایک دوسرے ملک کی فضائیہ ہوا میں نہیں اڑتی اور ایک دوسرے پر سٹرائیکس نہیں کرتیں۔ ہر رات دراندازی نہیں ہوتی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی سے سیز فائر کا (2021 کا) سمجھوتہ بھی ختم ہوچکا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے دوران گھسنے کی کوشش ہو رہی ہے۔‘

    ڈی جی ایم او نے کہا کہ ’عام طور پر یہ دہشتگرد کرتے ہیں، لیکن ہمیں معلومات ملی ہیں کہ ہوسکتا ہے یہ پاکستانی فوج کی ٹولیاں ہوں جو ہماری چوکیوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہوں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ ساری کارروائیاں جنگ میں شامل ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ آگے کیا ہوگا۔ میں قیاس آرائیاں نہیں کرنا چاہتا۔ ہر صورتحال مختلف ہوتی ہے اور اس سے ایک طریقے سے ڈیل کیا جاتا ہے۔‘

    پاکستان اور انڈیا کے درمیان سیز فائر کا مستقبل کیا ہوگا؟

    انڈیا کے ڈی جی ایم او لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائی کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے سیزفائر کی خلاف ورزی کی تو کڑا جواب دیا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’پاکستانی فوج نے اس مفاہمت کی خلاف ورزی کیوں کی جس پر گذشتہ روز اتفاق کیا گیا تھا، اس کا جواب پاکستانی ڈی جی ایم او کو دینا چاہیے۔ میں اس پر تبصرہ نہیں کرسکتا۔‘

    ’کبھی کبھار گراؤنڈ پر مفاہمت کے عملدرآمد میں وقت لگتا ہے۔ اس کی وجوہات میں جائے بغیر ہم تیار تھے۔ ایسا نہیں کہ سمجھوتہ ہوا تو ہم تیار نہیں تھے۔ مسلح افواج ہائی الرٹ پر تھیں اور اب بھی ہیں۔‘

  12. رفال طیارے ’گرائے جانے‘ سے متعلق سوال پر انڈین ایئر مارشل کا جواب: ’نقصانات لڑائی کا حصہ ہیں‘

    PIB

    ،تصویر کا ذریعہPIB

    ،تصویر کا کیپشنایئرمارشل اے کے بھارتی

    انڈیا کے ایئرمارشل اے کے بھارتی سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ ’کیا ہم اس حوالے سے اعداد و شمار دے سکتے ہیں کہ ہم نے کتنے اثاثے کھوئے ہیں؟‘ صحافی نے کہا کہ انٹرنیشنل میڈیا پر لکھا جا رہا ہے کہ رفال طیارے گرائے گئے ہیں۔ کیا آپ اس کی وضاحت کر سکتے ہیں؟

    ان سوالات کے جواب میں انڈین ایئرمارشل اے کے بھارتی نے کہا کہ ’مجھے خوشی ہے کہ آپ نے یہ سوال کیا ہے، ہم لڑائی کی حالت میں ہیں۔ نقصانات لڑائی کا حصہ ہیں۔ آپ کو ہم سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ کیا ہم نے اپنے اہداف حاصل کیے ہیں؟ کیا ہم نے دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کرنے کا ہدف حاصل کیا ہے؟‘ اس کا جواب ہاں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’نتائج پورے دنیا دیکھ سکتی ہے۔ جہاں تک بات ہے نقصانات کی، اس وقت میں اس بارے میں تبصرہ نہیں کروں گا کیونکہ ہم لڑائی کی حالت میں ہیں۔ اگر میں نے تبصرہ کیا تو اس سے دشمن کا فائدہ ہوگا۔‘

    ایئرمارشل نے کہا کہ ’ہم انھیں اس وقت کوئی فائدہ نہیں دینا چاہتے۔ میں صرف یہی کہوں گا کہ ہم نے اپنے اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ ہمارے تمام پائلٹ گھر واپس پہنچ گئے ہیں۔‘

  13. ہماری لڑائی دہشتگردوں سے تھی، پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ سے نہیں: انڈین ایئر مارشل

    ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائی

    ،تصویر کا ذریعہPIB

    ،تصویر کا کیپشنڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائی

    انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آپریشن سندور کے بعد پاکستانی ڈی جی ایم او سے رابطے کی کوشش کی گئی تاکہ انھیں دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں سے آگاہ کیا جائے تاہم اس درخواست کو فوراً رد کر دیا گیا اور یہ پیغام دیا گیا کہ کڑا جواب ناگزیر ہے جس کے لیے ہم تیار تھے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’نو مئی کی شب پاکستان نے سرحد پار اپنے ڈرون اور طیاروں سے انڈین فضائی حدود میں دراندازی کی اور فوجی انفراسٹرکچر پر حملوں کی ناکام کوششیں کیں۔ ان کے مطابق ’پاکستان کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں کی گئیں جس پر جوابی کارروائی کی گئی۔‘

    لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائی نے کہا کہ ’انٹیلیجنس ایجنسیوں نے تصدیق کی کہ نو کیمپوں میں اب بھی ’دہشتگرد‘ موجود ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارا عزم تھا کہ ’کولیٹرل ڈیمج‘ سے بچتے ہوئے صرف دہشتگردوں کو نشانہ بنانا ہے۔ ’مجھے کوئی شک نہیں کہ ہم نے دہشتگردوں کے نو ٹھکانوں پر حملوں میں 100 سے زیادہ ’دہشتگردوں‘ کو ہلاک کیا جن میں یوسف اظہر، عبدالملک رؤف اور مدثر احمد جیسے ہائی ویلیو ٹارگٹ شامل ہیں۔‘

    ایئرمارشل اے کے بھارتی

    ،تصویر کا ذریعہPIB

    ،تصویر کا کیپشنایئرمارشل اے کے بھارتی

    لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائی نے کہا کہ ’یہ افراد آئی سی 814 کی ہائیجیکنگ اور پلوامہ دھماکے میں ملوث تھے۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان آرمی اور فضائیہ نے جنگ بندی معاہدے کی متعدد خلاف ورزیاں کی ہیں۔ ان کے مطابق اس حوالے سے ’ہم نے پاکستان کے ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کو مراسلہ بھی بھیجا ہے۔‘

    انڈیا کے ایئر مارشل اے کے بھارتی نے کہا کہ انھوں نے آپریشن سندور کے تحت بہاولپور اور مریدکے سمیت دیگر مقامات پر فضائی حملوں کے مناظر شیئر کیے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارا مقصد ان کیمپوں کا نشانہ بنانا تھا، کسی دوسرے انفراسٹرکچر یا پاکستانی فوج کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔‘

    وائس ایڈمرل

    ،تصویر کا ذریعہANI

    ،تصویر کا کیپشنوائس ایڈمرل اے این پرامود

    انھوں نے کہا کہ ’سات مئی کی شام پاکستانی ڈرونز نے دراندازی کی اور ہمارے شہری اور فوجی علاقوں میں داخل ہوئے جنھیں ناکام بنایا گیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’بہاولپور اور مریدکے کے ’ٹریننک کیمپ‘ بین الاقوامی سرحد سے زیادہ دور تھے ہم نے وہاں دہشتگردوں کو نشانہ بنایا مگر انھوں نے شہری علاقوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔‘

    ایئرمارشل اے کے بھارتی نے کہا کہ ’ہم نے اسی رات لاہور اور گوجرانوالہ کے قریب ریڈار انسٹالیشن کو نشانہ بنایا تاکہ یہ اشارہ دیں کہ ہم تیار ہیں مگر ہم تناؤ میں اضافہ نہیں چاہتے۔ ہماری لڑائی دہشتگردوں سے ہے، پاکستانی فوج کی اسٹیبلشمنٹ سے نہیں۔‘

    ایئرمارشل اے کے بھارتی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’ہمارا کام ہدف کو نشانہ بنانا تھا، پاکستانی فوجیوں کی لاشیں گننا نہیں۔‘

  14. مودی ’آپریشن سندور‘ اور سیز فائر پر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلائیں: راہل گاندھی

    Rahul Gandhi

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنراہل گاندھی کا پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ

    کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    انڈیا اور پاکستان کے درمیان سنیچر کی شام جنگ بندی معاہدہ طے پانے کے بعد یہ خط لکھا گیا۔

    اس خط میں راہل گاندھی نے لکھا کہ ’میں ایک بار پھر اپوزیشن کی متفقہ حمایت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس فوری بلایا جائے۔‘

    پارلیمنٹ میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے لکھا کہ ’عوام اور ان کے نمائندوں کے لیے پہلگام دہشت گردانہ حملے، آپریشن سندور اور جنگ بندی پر بات کرنا بہت ضروری ہے، جس کا اعلان سب سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک موقع بھی ہو گا کہ ہم ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اپنے عزم کا مظاہرہ کریں جن کا ہمیں مل کر سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

    راہل گاندھی نے مودی کے نام خط میں کہا کہ مجھے یقین ہے کہ آپ اس مطالبے پر سنجیدگی سے غور کریں گے اور جلد ہی اس پر عملدرآمد کریں گے۔

  15. ’آپریشن سندور کامیاب رہا‘، انڈین آرمی چیف کی نئی ہدایات مگر پاکستان جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کے لیے پرعزم

    @adgpi

    ،تصویر کا ذریعہ@adgpi

    انڈین فضائیہ نے کہا ہے کہ اس نے آپریشن سندور میں اپنے اہداف کو انتہائی کامیابی، درستگی اور پیشہ ورانہ مہارت سے انجام دیا ہے۔

    ایکس پر ایک پوسٹ میں انڈین فضائیہ نے یہ لکھا کہ قومی مقاصد کے عین مطابق خوب سوچ سمجھ کر اور دانشمندانہ طریقے سے آپریشن کیا گیا ہے۔ انڈین فضائیہ نے بھی کہا ہے کہ چونکہ ابھی یہ آپریشنز ابھی بھی جاری ہیں اس لیے مناسب وقت پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔

    انڈین فضائیہ تمام لوگوں سے قیاس آرائیوں اور غیر تصدیق شدہ معلومات کو پھیلانے سے گریز کرنے کا کہنا ہے۔

    انڈین فوج اور سرکاری ٹی وی دوردرشن کے مطابق 10 اور 11 مئی کی رات کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد مغربی سرحدوں کے کمانڈرز کے ساتھ مل کر آرمی چیف نے سکیورٹی صورتحال کا از سر نو جائزۃ لیا۔

    فوج کے مطابق انڈین آرمی چیف نے فوجی کمانڈرز کو یہ اختیار دیا ہے کہ اگر ڈی جی ایم او کے درمیان 10 مئی کو طے پانے والے جنگ بندی کی اگر خلاف ورزی کی جاتی ہے تو پھر اپنے دائرے میں رہتے ہوئے اس کا جواب دیں۔

    پاکستان کا جنگ بندی پر مؤقف کیا ہے؟

    ترجمان کا بیان انڈیا کے سیکریٹری خارجہ کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے دیے گئے بیان کے حوالے سے میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ’پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ بندی پر عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے، جس کا آج پہلے اعلان کیا گیا تھا۔‘

    انڈیا کی جانب سے بعض علاقوں میں خلاف ورزیوں کے باوجود ہماری افواج کسی بھی صورت حال کو ذمہ داری کے ساتھ نبھا رہی ہیں اور ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اس پر دوبارہ عملدرآمد کیا جائے گا۔

    جنگ بندی کو مناسب سطح پر بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، زمین پر موجود فوجیوں کو بھی تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

  16. امریکہ کی کشمیر پر ثالثی کی پیشکش، پاکستان کا خیرمقدم

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مسئلہ کشمیر کے حل کی حمایت کا خیر مقدم کیا ہے۔ تاہم اسلام آباد نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ’مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے اور کشمیریوں کو خودارادیت کا ناقابلِ تنسیخ حق ملنا چاہیے۔‘

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ انڈیا اور پاکستان کی قیادت کے ساتھ مل کر ’ہزار سال‘ پرانے مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انھیں پاکستان اور انڈیا کی مضبوط اور غیر متزلزل طاقتور قیادت پر فخر ہے جنھوں نے دانشمندی اور ہمت سے کام لیا اور یہ سمجھا کہ یہ موجودہ جارحیت کو روکنے کا وقت ہے جو بہت سے لوگوں کی موت اور تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔

    ’لاکھوں اچھے اور معصوم لوگوں کی جانیں جا سکتی تھیں۔‘

    پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنگ بندی میں امریکہ اور دیگر دوست ممالک کا تعمیری کردار قابلِ تعریف ہے۔

    امریکی صدر نے دونوں ممالک کے ساتھ اپنی تجارت کو کافی حد تک بڑھانے کا بھی اعلان کیا۔

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’میں صدر ٹرمپ کی شاندار قیادت اور عالمی امن کے لیے وابستگی اور جنوبی ایشیا میں دیرپا امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے ان کی انتہائی قیمتی پیشکش کے لیے بے حد مشکور ہوں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’کئی دہائیوں سے، پاکستان اور امریکہ ایسے شراکت دار رہے ہیں جنھوں نے ہمارے باہمی مفادات کے تحفظ اور فروغ کے ساتھ ساتھ دنیا کے اہم حصوں میں امن اور سلامتی کے لیے مل کر کام کیا۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ صدر ٹرمپ کی صورت پاکستان کو ایک عظیم پارٹنر مل گیا ہے، جو ہماری سٹریٹجک شراکت داری کو دوبارہ درسمت سمت پر استوار کر سکتے ہیں اور پاکستان امریکہ تعلقات کو نہ صرف تجارت اور سرمایہ کاری میں بلکہ تعاون کے دیگر تمام شعبوں میں مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔

    اس سے قبل دفترخارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان، امریکہ کے ساتھ امن و استحکام کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔ پاکستان، امریکہ کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون مزید بڑھانے کا خواہاں ہے۔

    خیال رہے کہ سنیچر کے روز پاکستان اور انڈیا کے درمیان سیز فائر کا اعلان سب سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا۔

    امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ’میں دونوں ممالک کو ذہانت اور تدبر کا مظاہرہ کرنے پر مبارکباد دیتا ہوں۔‘

    دفتر خارجہ نے کہا کہ ’ہم صدر ٹرمپ کی جانب سے جموں و کشمیر تنازع کے حل کی کوششوں کی حمایت کے لیے آمادگی کے اظہار کی بھی تعریف کرتے ہیں-‘

    پاکستان کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک دیرینہ مسئلہ ہے جس کے جنوبی ایشیا اور اس سے باہر کے امن و سلامتی کے لیے سنگین مضمرات ہیں۔

  17. مودی نے واضح کر دیا ’نیا بھارت‘ دہشتگردی کے خلاف سرحد کے دونوں جانب کارروائی کرے گا: انڈین وزیر دفاع

    انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی اور وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنانڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی اور وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ

    انڈیا کے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے واضح کر دیا ہے کہ یہ ’نیا بھارت‘ ہے جو دہشتگردی کے خلاف سرحد کے دونوں جانب کارروائی کرے گا۔

    اتوار کے روز انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی کی جانب سے جاری ایک ویڈیو میں انڈین وزیرِ دفاع کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ آپریشن سندور محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ انڈیا کی سیاسی، سماجی اور سٹریٹیجک قوت ارادی کی علامت بھی ہے۔

    ’دہشتگردی کے خلاف کیا جانے والا یہ آپریشن انڈیا کی قوت ارادی اور فوجی طاقت اور صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘

    ’ہم نے ثابت کیا ہے کہ جب بھی انڈیا دہشت گردی کے خلاف کوئی کارروائی کرے گا، تو سرحد کے پار کی زمین بھی دہشت گردوں اور ان کے سربراہان کے لیے محفوظ نہیں رہے گی۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ انڈین افواج نے پاکستان میں مبینہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے آپریشن سندور شروع کیا اور شہریوں کو کبھی نشانہ نہیں بنایا۔

    انڈین وزیرِ دفاع نے الزام لگایا کہ پاکستان نے نہ صرف انڈیا میں شہری علاقوں کو نشانہ بنایا بلکہ مندروں، گوردواروں اور گرجا گھروں پر بھی حملوں کی کوشش کی۔

    انھوں نے دعوی کیا کہ انڈیا نے نہ صرف سرحد کے قریب واقع پاکستان کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا بلکہ راولپنڈی میں بھی انڈین افواج کے حملوں کی گونج سنائی دی جہاں پاکستانی فوج کا ہیڈکوارٹر واقع ہے۔

    انڈیا کے وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ پہلگام حملے کے بعد پوری دنیا نے دیکھا کہ انڈیا نے پاکستان میں گھس کر متعدد حملے کیے۔

    راج ناتھ سنگھ کا کہنا ہے کہ انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی نے واضح کر دیا ہے کہ یہ ’نیا بھارت‘ ہے جو دہشتگردی کے خلاف سرحد دونوں جانب کارروائی کرے گا۔

  18. ’کاش کسی دوسرے ملک کے صدر کے بجائے مودی جنگ بندی کا اعلان کرتے‘: انڈیا میں اپوزیشن اور کشمیری رہنماؤں کا سیز فائز پر ردِعمل

    نریندر مودی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کئی روز سے جاری کشیدگی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں انڈیا اور پاکستان دس مئی کی شام سے فوری اور مکمل جنگ بندی پر راضی ہو گئے۔ لیکن پاکستان یا انڈیا کی جانب سے اس سیز فائر کا اعلان ہونے سے قبل ہی امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر اس اعلان کر دیا۔

    اس جنگ بندی کو سرحد کے دونوں جانب عام طور پر سراہا جا رہا ہے اور انڈیا میں حزب اختلاف نے جس طرح حکومت اور فوج کا جنگ کی صورت میں ساتھ دینے کی بات کہی تھی کچھ اسی طرح کے جذبات کا اظہار جنگ بندی پر بھی کیا جا رہا لیکن کچھ اگر مگر کے ساتھ۔

    اسی دوران دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں۔ ایسی صورت میں بعض انڈین رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ ’کوئی جنگ بندی نہیں‘۔

    انڈیا کے سوشل میڈیا پر ’سیز فائر‘ یعنی جنگ بندی ٹرینڈز میں سر فہرست ہے۔

    انڈیا میں مسلمانوں کی آواز سمجھے جانے والے مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے سوشل میڈیا پلیٹفارم ایکس پر اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’جب تک پاکستان اپنی سرزمین کو انڈیا کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرتا رہے گا، اس وقت تک مستقل امن نہیں ہو سکتا۔ جنگ بندی ہو یا جنگ بندی نہ ہو ہمیں پہلگام حملے کے ذمہ دار دہشت گردوں کا پیچھا کرتے رہنا چاہیے۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان پر ردِ عمل دیتے ہوئے انھوں وزیر اعظم مودی کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا: ’کاش کسی دوسرے ملک کے صدر کے بجائے ہمارے وزیراعظم نریندر مودی جنگ بندی کا اعلان کرتے۔ ہم شملہ (1972 کے سمجھوتے) کے بعد سے ہمیشہ تیسرے فریق کی مداخلت کے مخالف رہے ہیں۔ اب ہم نے اسے کیوں قبول کیا؟ مجھے امید ہے کہ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی نہیں بنایا جائے گا کیونکہ یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے۔

    اسد الدین اویسی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنمجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور رکن پارلیمان اسد الدین اویسی

    انھوں نے مزید لکھا: ’ہم ایک غیر جانبدار مقام پر بات کرنے پر رضامند کیوں ہوئے ہیں؟ ان مذاکرات کا ایجنڈا کیا ہو گا؟ کیا امریکہ اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں کرے گا؟‘

    ’کیا ہم نے پاکستان کو مستقبل میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں سے روکنے کا اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے؟ کیا ہمارا مقصد ٹرمپ کی ثالثی سے جنگ بندی کروانا تھا یا پاکستان کو ایسی پوزیشن پر لانا تھا کہ وہ مزید کسی دہشت گرد حملے کا خواب بھی نہ دیکھ سکے؟‘

    اسی طرح کانگریس کے ترجمان اور سابق وزیر جے رام رمیش نے ایکس پر اپنے ایک پیغام وزیر اعظم مودی سے ایک آل پارٹیز میٹنگ بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    انھوں نے لکھا: ’واشنگٹن ڈی سی کے تاریخی اعلانات کے پیش نظر، اب پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے کہ وزیر اعظم ایک آل پارٹی اجلاس کی صدارت کریں اور سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیں۔ اور پارلیمنٹ کا ایک خصوصی اجلاس فوری طور پر بلایا جائے جس میں پچھلے اٹھارہ دنوں کے واقعات پر تفصیلی بحث کی جائے، خاص طور پر پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد کی صورتحال اور مستقل کی راہ طے کی جائے تاکہ ملک متحد ہو کر اپنے اجتماعی عزم کا مظاہرہ کر سکے۔‘

    کانگریس رہنما ششی تھرور نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’امن ضروری ہے۔۔۔ میں بہت خوش ہوں۔ انڈیا کبھی بھی طویل المدتی جنگ نہیں چاہتا تھا۔ انڈیا دہشت گردوں کو سبق سکھانے کے لیے جنگ چاہتا تھا اور یہ سبق سکھا دیا گیا ہے۔‘

    اسی طرح کے خیالات کا اظہار سماجوادی پارٹی کے رہنما اور انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے کیا۔ انھوں نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ ’امن سب سے اہم ہے اور اسی طرح خودمختاری بھی!‘

    جموں کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے پہلے تو جنگ بندی کی تعریف کی لیکن پھر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد ایکس پر اپنے کئی متواتر ٹویٹس میں کہا کہ یہ کوئی جنگ بندی نہیں ہے۔‘

    دوسری جانب کشمیر کی سابق وزیر اعلی اور پی ڈی پی رہنما محبوبہ مفتی نے ایکس پر لکھا: ’امریکی صدر کی مداخلت کے نتیجے میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان فوری جنگ بندی ایک خوش آئند قدم ہے۔ مجھے امید ہے کہ دونوں ممالک اس خطے کے لیے دیرپا امن کے لیے کام کریں گے۔‘

    ریاست بہار کی سیاسی پارٹی راشٹریہ جنتا دل کے ترجمان اور رکن پارلیمان منوج جھا نےکہا: ’تاریخی طور پر انڈیا نے کبھی جنگ نہیں چاہی، ہمیشہ ہم پر جنگ مسلط کی گئی ہے، لیکن جب بھی ہم نے جنگ لڑی ہے، ہم نے بہادری سے لڑی ہے، میں مسلح افواج کی بہادری کو سلام پیش کرتا ہوں۔۔۔ وزیراعظم سے اپیل ہے کہ قوم کو متحد ہونے کا پیغام دینے اور مسلح افواج کی بہادری کو سلام پیش کرنے کے لیے خصوصی اجلاس بلائیں۔‘

    انھوں نے خبررساں ادارے پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا جنگ بندی کا اعلان کرنا انھیں پریشان کرتا ہے اس لیے وزیر اعظم اس پر پارلیمان کا اجلاس بلائیں۔

  19. انڈیا اور پاکستان درمیان سیز فائر کے بعد نریندر مودی کی اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت

    انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہPMO India

    انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز اپنی رہائشگاہ پر ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی۔

    انڈین وزیرِ اعظم کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان کے مطابق، اجلاس میں انڈیا کے وریرِ خارجہ ایس جے شنکر، وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول اور چیف آف ڈیفینس سٹاف جنرل انیل چوہان کے علاوہ تینوں افواج کے سربراہان نے شرکت کی۔

    کئی روز سے جاری کشیدگی کے بعد سنیچر کے روز انڈیا اور پاکستان نے سیز فائر پر اتفاق کر لیا تھا۔

    گذشتہ روز انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان معاہدے کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے، تاہم اس کی جانب سے اس کی تردید کی گئی تھی۔

    تب سے لے کر اب تک لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کے آس پاس صورتحال کافی بہتر ہو چکی ہے۔

    انڈین فضائیہ

    ،تصویر کا ذریعہX/Indian Air Force

    دوسری انڈین فضائیہ نے دعوی کیا ہے کہ آپریشن سندور کے تحت تفویض کردہ کاموں کو پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دیا ہے۔

    انڈین فضائیہ کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن اب بھی جاری ہے اور اس بارے میں ایک تفصیلی بریفنگ کی جائے گی۔

  20. سیز فائر کے بعد انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر اور لائن آف کنٹرول کے قریب صورتحال کیسی ہے؟, دیویا آریہ، بی بی سی

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کئی روز کی کشیدگی کے بعد اتوار کے روز انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں صورتحال معمول پر آنے لگی۔ لوگ گھروں سے باہر نکلے ہیں جبکہ کچھ دوکانیں بھی کھلی ہیں اور سڑکوں پر آمدورفت بھی نظر آ رہی ہے۔

    سنیچر کے روز انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی جموں کے سرحدی علاقوں کے بہت سے مقامیوں کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے گھروں کے آس پاس ڈرون اڑتے دیکھے۔

    راجوری کے کچھ رہائشیوں نے بھی لائن آف کنٹرول کے قریب ڈرون دیکھنے کی تصدیق کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ڈرون کافی دیر تک آسمان پر منڈلاتے رہے۔ تاہم ان کے مطابق سیز فائر کے چند گھنٹوں کے بعد یہ سرگرمیاں رک گئیں۔

    پاکستان کے ساتھ بین الاقوامی سرحد کے قریب واقع دیہات سے لوگوں نے بتایا کہ جنگ بندی کے کچھ دیر بعد بھی ہلکی ہلکی فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔

    انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے رات گئے ایک پریس بریفنگ میں پاکستان پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ڈرون اور ہلکی فائرنگ کے کچھ واقعات ہوئے ہیں جس کی پاکستان کی جانب سے تردید کی گئی۔ تاہم اس کے بعد حالات پرسکون ہو گئے۔

    جب ہم نے اتوار کی صبح دوبارہ مقامی باشندوں سے بات کی تو انھوں نے بتایا کہ پوری رات سکون سے گزری۔

    سرحد کے قریب گولہ باری کے بعد اب تک کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

    اس وقت جموں اور آس پاس کے علاقوں میں حالات معمول پر ہیں اور لوگ اپنی روزمرہ کی زندگی کی طرف لوٹتے دکھائی دے رہے ہیں۔