یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
20 مارچ کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران جنگ کے حوالے سے اسرائیل کے تین اہداف ظاہر کیے ہیں، یعنی ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ، بیلسٹک میزائلوں کے خطرے کا خاتمہ اور ایرانی عوام کے لیے ’آزادی حاصل کرنے کے لیے‘ حالات پیدا کرنا۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
20 مارچ کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
اس سوال کے جواب میں کہ آیا اسرائیل نے ایرانی گیس فیلڈز پر حالیہ حملے کے بارے میں ٹرمپ کو پہلے سے بتایا تھا، نیتن یاہو کہتے ہیں کہ ’اسرائیل نے اکیلے کارروائی کی۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’صدر ٹرمپ نے ہم سے آئندہ حملوں میں رُکنے کی درخواست کی تھی اور ہم ایسا ہی کر رہے ہیں۔‘
ایرانی حکومت کے ’ٹوٹنے‘ کے کیا آثار نظر آتے ہیں، اس سوال پر نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ’ایسے بہت سے آثار موجود ہیں‘۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم ایسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے وہ (ایرانی حکومت) گر جائے، لیکن ہو سکتا ہے وہ قائم رہے، ہو سکتا ہے نہ رہے۔‘
’اگر وہ قائم رہی تو اپنی کمزور ترین حالت میں ہو گی۔‘
وزیراعظم نیتن یاہو کسی بھی ایسے تاثر کو زائل کرنا چاہتے تھے کہ اسرائیل نے ٹرمپ کو جنگ میں دھکیلا۔
امریکہ میں اس بات پر خاصی بحث جاری ہے کہ آخر امریکہ اس جنگ میں کیوں داخل ہوا اور اس میں اسرائیل کا کیا کردار تھا۔
یہ بحث اس ہفتے اس وقت اپنے عروج پر پہنچ گئی جب نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے استعفیٰ دے دیا۔
اپنے استعفے کے خط میں کینٹ نے لکھا کہ ’یہ واضح ہے کہ ہم یہ جنگ اسرائیل اور اس کی طاقتور امریکی لابی کے دباؤ کے نتیجے میں شروع کر بیٹھے ہیں۔‘ کینٹ طویل عرصے سے ٹرمپ کے اتحادی رہے ہیں اور امریکی سپیشل آپریشنز کمیونٹی کے تجربہ کار رکن ہیں۔
بعد ازاں قدامت پسند مبصر ٹکر کارلسن کو دیے انٹرویو میں کینٹ نے اپنے مؤقف کی مزید وضاحت کی۔ انھوں نے کہا کہ ’اسرائیل نے اس فیصلے کو آگے بڑھایا‘ اور یہ کہ اسرائیلی حکام امریکی قانون سازوں کو جنگ پر آمادہ کرنے کے لیے معمول کے سرکاری ذرائع کو بائی پاس کر رہے تھے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر یہ تردید کی کہ امریکہ کو ایران کے ساؤتھ پارس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کی پیشگی اطلاع تھی، جسے بعض حلقوں نے امریکی صدر کی جانب سے ناراضی کا اشارہ سمجھا۔
اپنے تازہ بیان میں نیتن یاہو بظاہر یہ کوشش کر رہے ہیں کہ کسی بھی ایسے اشارے کو، خواہ بالواسطہ ہی کیوں نہ ہو، دبایا جائے کہ امریکہ اور اسرائیل کے جنگی مقاصد میں ہم آہنگی نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ 20 روز کی جنگ کے بعد اب ایران کے پاس نہ تو یورینیئم کو افزودہ کرنے کی صلاحیت باقی رہی ہے اور نہ ہی بیلسٹک میزائل بنانے کی۔
اپنے پیغام میں وہ ابتدا میں عبرانی زبان میں بات کرتے ہیں جسے بعد میں انگریزی میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ہم ان کی تمام صلاحیتوں کو مکمل طور پر کچل دیں گے۔‘
نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایران کی صلاحیت کو ’اس حد تک تباہ کر دیا ہے‘ کہ وہ ’اپنے منصوبوں کو پورا نہیں کر سکے گا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ایران کا منصوبہ اسرائیل میں ہزاروں عمارتوں کو منہدم کرنا تھا۔ ’لیکن اس کے بجائے عمارتیں لبنان اور خود ایران میں گر رہی ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم مشرقِ وسطیٰ کو بدل دیں گے، میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں۔‘
ان کے مطابق ایران ’اپنی تاریخ میں کبھی اتنا کمزور نہیں رہا‘ جبکہ اسرائیل ’پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔‘
اس سوال کے جواب میں کہ جنگ کب تک چلے گی، نیتن یاہو کہتے ہیں کہ ’یہ اتنی ہی دیر چلے گی جتنی دیر ضروری ہو۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ہم مل کر کام کریں گے اور مل کر ہی جیتیں گے۔‘
نیتن یاہو نے ایران جنگ میں اسرائیل کے تین اہداف ظاہر کیے ہیں: ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ، بیلسٹک میزائلوں کے خطرے کا خاتمہ اور ایرانی عوام کے لیے ’آزادی حاصل کرنے کے لیے‘ حالات پیدا کرنا۔
نیتن یاہو کہتے ہیں کہ وہ ایک اور ’جعلی خبر‘ کو بھی رد کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا اشارہ اس دعوے کی طرف تھا کہ اسرائیل نے امریکہ کو ایران کے ساتھ تصادم کے لیے گھسیٹا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’کیا کوئی شخص صدر ٹرمپ کو بتا سکتا ہے کہ انھیں کیا کرنا ہے؟‘
ان کے بقول ٹرمپ ’ہمیشہ وہی فیصلے کرتے ہیں جو اُن کے خیال میں امریکہ کے لیے اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر ہوں۔‘
ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ایرانی مسلح افواج امریکہ اور اسرائیل سے متعلق ’تمام تنصیبات کو نشانہ بنائیں گی‘ اور وہ اس کی ’باضابطہ ذمہ داری قبول کرتی ہیں‘۔
ایرانی میڈیا نے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ اسرائیل پر الزام عائد کرتے ہیں کہ اس کا ارادہ خطے میں توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا ہے جن میں سعودی عرب کی آرامکو تنصیبات بھی شامل ہیں۔
ذوالفقاری کے بقول اسرائیل کی ’ماضی کی اشتعال انگیزیوں کی تاریخ رہی ہے۔ یہ کارروائیاں ایران پر الزام لگانے اور خطے کے ممالک کے درمیان انتشار پیدا کرنے کے لیے کی جاتی رہی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہChris Partridge/BBC
کچھ دیر قبل امریکی فضائیہ کے دو بی 52 سٹریٹجک بمبار طیاروں نے گلوچسٹرشائر میں برطانوی اڈے فیرفورڈ سے اڑان بھری ہے۔
یہ طیارے اے جی جیم 158 جے اے ایس ایس ایم / جی اے ایس ایس ایم-ای آر کروز میزائلوں سے لیس ہیں جس کا مطلب ہے کہ غالباً یہ ایک ڈیپ سٹرائیک مشن پر ہیں۔
یہ میزائل تقریباً 500 میل تک مار کر سکتے ہیں اور جی پی ایس سیٹلائٹ اور آئی این ایس سسٹم کے ذریعے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔
یہ اپنے ہدف پر 1000 پاؤنڈ کے دھماکہ خیز وار ہیڈ کو چند میٹر کی درستگی کے ساتھ پہنچاتے ہیں۔
بی 52 طیارے آزمودہ اور قابلِ اعتماد ہیں۔ ان میں سے کئی کی عمر 65 سال سے بھی زیادہ ہے مگر ’گلاس کاک پٹ‘ جیسی جدید اپ گریڈز کے بعد یہ کئی دہائیوں سے امریکی فضائیہ کی ریڑھ کی ہڈی رہے ہیں اور بے شمار لڑائیوں میں استعمال ہو چکے ہیں۔
ان کے نئے ہم منصب بی ون بی لینسرز بھی گذشتہ چند ہفتوں میں فیرفورڈ سے روانہ ہوتے رہے ہیں۔ تازہ ترین طیارہ آج صبح 8 بجے اُڑا۔ یہ غالباً جی بی یو 31 جے ڈی اے ایم بنکر بسٹرز سے لیس تھا۔
امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی آپریشنز پر روزانہ ایک ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کیے جانے کے اندازوں کے بعد اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ ہے کہ پینٹاگون نے اخراجات پورے کرنے کے لیے کانگریس سے 200 ارب ڈالر کے فنڈز کی درخواست کی ہے۔
یہ رقم دفاعی محکمے کے سالانہ بجٹ یعنی 838.7 ارب ڈالر کے علاوہ ہے۔ اس بجٹ کو کانگریس نے جنوری میں منظور کیا تھا۔
اس درخواست کی ابھی وائٹ ہاؤس سے باضابطہ توثیق نہیں ہوئی۔ مگر اس پر نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے محض آٹھ ماہ قبل قانونی لڑائی چھڑ سکتی ہے۔
اگرچہ فوجی فنڈنگ کو عام طور پر دونوں جماعتوں کی حمایت حاصل ہوتی ہے لیکن رائے عامہ کے سروے بتاتے ہیں کہ امریکی عوام کی اکثریت ایران جنگ کی حمایت نہیں کرتی۔ سیاست دانوں پر اس بڑے اضافی خرچ کا جواز پیش کرنے کا دباؤ بڑھ جائے گا۔
ڈیموکریٹس نے فوری طور پر اس وسیع فوجی اخراجات کے پیکج کا تناظر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
مثال کے طور پر، صحت انشورنس سبسڈیز میں ایک سال کی توسیع جس کے لیے انھوں نے گذشتہ سال ناکام جدوجہد کی کا تخمینہ 35 ارب ڈالر تھا۔
حکومت نے پہلے کہا تھا کہ گذشتہ سال محکمۂ گورنمنٹ ایفیشنسی کی بجٹ کٹوتیوں سے مجموعی طور پر 175 ارب ڈالر کی بچت ہوئی۔ گذشتہ سال وفاقی حکومت نے کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے خوراک کی امداد پر 100 ارب ڈالر خرچ کیے تھے۔
آخرکار کانگریس میں ریپبلکنز کے پاس اضافی فنڈنگ منظور کرانے کے لیے درکار ووٹ موجود ہونے چاہییں۔
لیکن اگر جنگ اور اس کے ساتھ آنے والی معاشی ابتری طویل ہوئی تو یہ سیاسی طور پر بہت بھاری قیمت بن سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ امریکی جنگی طیارہ ایف 35 نے ایران کے خلاف مشن میں اڑان بھرنے کے بعد مشرق وسطیٰ کے ایک امریکی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کی ہے۔
ادھر ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق اس نے امریکی جنگی طیارے کو نشانہ بنایا اور اسے ’بہت نقصان‘ پہنچا ہے۔
اس نے کہا ہے کہ جنگی طیارے کے ساتھ کیا ہوا یہ تاحال معلوم ہے اور اس پر تحقیقات جاری ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اس بات کے کافی امکان ہیں کہ طیارہ گِرا دیا گیا ہے۔
تاہم سینٹکام کے ترجمان نے کہا ہے کہ طیارے نے باحفاظت لینڈ کیا ہے اور پائلٹ کی حالت ٹھیک ہے۔ اس نے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی زمینی فوج بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ امریکی کارروائی ’شیڈول سے آگے‘ ہے۔
قطر کے راس لفّان انرجی کمپلیکس پر حملے کے بعد برطانیہ اور یورپ میں گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
قطر کے وزیرِاعظم کا کہنا ہے کہ اس تنصیب پر حملہ ایران کی جانب سے کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ انھوں نے فوراً حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اسرائیل کی حیفا آئل ریفائنری کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اس کے بارے میں اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کے بعد گرتے ہوئے شریپنل سے ہوا۔ بی بی سی ویری فائی اس فوٹیج کا جائزہ لے رہا ہے۔
برطانیہ، فرانس، جرمنی اور ان کے اتحادیوں نے ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے، جن میں شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔ انھوں نے تہران سے مطالبہ کیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کو دھمکانا بند کرے۔
اس سے قبل ایک سخت بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر میں مزید ایرانی حملوں کے خلاف خبردار کیا تھا جہاں تنصیبات کو ’نمایاں نقصان‘ پہنچا ہے۔
ایران کے وزیرِ خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی تنصیبات پر مزید حملے ہوئے تو تہران ’بالکل بھی تحمل‘ سے کام نہیں لے گا۔

بی بی سی ویریفائی کی جانب سے جغرافیائی محل وقوع کی لی گئی فوٹیج میں جمعرات کی صبح ایرانی ڈرون حملے کی اطلاع کے بعد کویت میں مینا الاحمدی آئل ریفائنری میں لگنے والی آگ سے سیاہ دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔
ہم نے سڑک کی رکاوٹوں اور ریفائنری کی سہولیات کو سڑک کے منظر اور علاقے کی سیٹلائٹ تصویروں کے ساتھ ملا کر مقام کی تصدیق کی۔
کویت نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ ریفائنری کو ایرانی ڈرون نے نشانہ بنایا۔ کویت پیٹرولیم کارپوریشن نے کہا کہ ’محدود آگ‘ پر قابو پا لیا گیا ہے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
مینا الاحمدی کویت کی سب سے بڑی آئل پروسیسنگ کی سہولت ہے اور خطے میں سب سے اہم ہے جو یومیہ سات لاکھ 30 ہزار بیرل تیل ریفائن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
پاکستان میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ جمعرات کو ملک میں شوال کا نظر نہیں آیا ہے۔ رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ مولانا عبدالخبیر آزاد نے دیگر مذہبی شخصیات کے ہمراہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں عید الفطر سنیچر کو ہوگی۔
انھوں نے بتایا کہ پاکستان کے کسی بھی مقام سے شوال کے چاند کے نظر آنے کی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ملی۔

،تصویر کا ذریعہFrank Gardner/BBC
قطر کے وزیرِ اعظم محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی نے کہا ہے کہ راس لفان میں حملہ کر کے ایران نے کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ کر دیا ہے۔
دوحہ میں ترک وزیرِ خارجہ کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے قطری وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ خطے میں ایرانی حملوں کو فوری طور پر رُکنا چاہیے۔
سفارت کاری کی گنجائش سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں قطر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس کی گنجائش ہمیشہ ہوتی ہے اور قطر اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ کسی بھی تنازع کا ’پہلا اور آخری حل‘ سفارت کاری ہی ہے۔
لیکن اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم ہروز حملوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور جب قطر کو نشانہ بنایا گیا تو یہ ہمارے لیے بہت بڑا دھچکہ تھا۔
اُن کا کہنا تھا کہ سفارت کاری جارحیت کے بجائے باہمی احترام پر مبنی ہونی چاہیے۔ ایرانیوں پر اعتماد ’اس جارحیت‘ سے تباہ ہو گیا ہے۔
قطری وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ یہ جنگ اسرائیل کی طرف سے شروع کی گئی اور ایران نے جوابی کارروائی میں اپنے پڑوسیوں پر حملہ کرنے کا انتخاب کیا۔
اس موقع پر ترک وزیر خارجہ حکان فیدان نے کہا ہے کہ ایران جنگ کی وجہ سے ہماری توجہ فلسطین اور غزہ سے نہیں ہٹنی چاہیے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اُن کا قطر کا دورہ اظہار یکجہتی کے لیے ہے۔ ہم ان حملوں کی مذمت کرتے ہیں جو شہریوں کی زندگیوں کو نظرانداز کرتے ہیں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے وزیرِِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ قطر کے راس لفان توانائی کمپلیکس پر حملے کے لیے ایران نے اپنی طاقت کا صرف ایک حصہ استعمال کیا۔
ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ کشیدگی مزید نہ بڑھانے کی درخواست پر ہم نے اس معاملے میں تحمل دکھایا۔
بظاہر امریکہ، اسرائیل اور خلیجی ممالک کو دھمکی دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے انفراسٹرکچر کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا تھا تو پھر تحمل کو مظاہرہ نہیں کیا جائے گا۔
اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے شہری مقامات کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرنا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے اہداف واضح ہیں اور ان میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
جمعرات کو نیوز کانفرنس کرتے ہوئے پیٹ ہیگستھ کا کہنا تھا کہ ’امریکہ نے آج تک ایران میں سات ہزار سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جمعرات کو اب تک کا سب سے بڑا سٹرائیک پیکج ہو گا، جیسا بدھ کو تھا۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ایران کے میزائل لانچرز، دفاعی صنعت اور اس کی بحریہ کو تباہ کرنا امریکی اہداف میں شامل ہے جبکہ اس بات کو بھی یقینی بنانا ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔
امریکی وزیرِ دفاع کا مزید کہنا تھا کہ ایران نے سرنگوں، راکٹوں، میزائلوں اور ڈرونز میں پیسہ بہایا ہے۔ لیکن امریکہ ان کا بے رحمی سے شکار کر رہا ہے، جیسا کہ دُنیا کی کوئی دوسری فوج نہیں کر سکتی۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہماری صلاحتیں مسلسل بن رہی ہیں اور ایران مسلسل تنزلی کا شکار ہے اور اس کے فضائی دفاعی نظام کو زمین بوس کر دیا گیا ہے۔
امریکی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بیلسٹک میزائل اور امریکی افواج کے خلاف یک طرفہ ڈرون حملوں میں ’تصادم کے آغاز کے بعد سے 90 فیصد کمی‘ ہوئی ہے۔
پیٹ ہیگستھ کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ نے ایرانی بحریہ کے کم از کم 120 بحری جہازوں کو نقصان پہنچایا ہے یا غرق کر دیا ہے۔
جنگ کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے بتایا کہ امریکہ ایرانی ڈرونز کو ناکارہ بنانے کے لیے ایران کے اندر مشرق اور جنوب کے علاقوں میں کارروائیاں کر رہا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس لڑائی میں شامل اپاچی ہیلی کاپٹر جنوبی ایران میں حملے اور ڈرونز کو نشانہ بنا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہPunjab Government
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت نے ملکی فضاؤں کو ڈرونز سے محفوظ رکھنے کے لیے جدید اینٹی ڈرون گن ای-ایم-جی 150 متعارف کرا دی ہیں۔
یہ گن پنجاب سول ڈیفنس کے حوالے کی گئی ہے اور یہ دو سے تین کلو میٹر کی رینج میں دُشمن کے ڈرون کو باآسانی فضا میں ناکارہ بنا سکتی ہیں۔
اس حوالے سے پہلی اینٹی گن راولپنڈی ڈویژن کے حوالے کر دی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ صوبے بھر میں سول ڈیفنس کو اینٹی ڈرون گنز فراہم کرے گا۔
سکریٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کے مطابق یہ گن ہائی گین ڈائریکشنل اینٹینا کے ذریعے درست نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ گن کی مدد سے دشمن ڈرون کے کنٹرول سگنل میں مداخلت کر کے اسے فوری لینڈ یا ناکارہ بنایا جا سکتا ہے۔

بدھ کو رات گئے آن لائن شیئر کی گئی کچھ ویڈیوز میں ایرانی حملوں کے بعد سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں دو مقامات پر آگ کے شعلے بلند ہوتے دکھائے گئے تھے۔
بی بی سی نے ایسی ویڈیوز کی تصدیق کی ہے کہ ریاض کے جنوب مشرق میں ایک صنعتی علاقے میں آتشزدگی کے بعد ہونے والے دھماکے اور تیل کی کمپنی سعودی آرامکو سے تعلق رکھنے والی قریبی آئل ریفائنری کی سمت میں لگنے والی آگ کو دکھایا گیا ہے۔
سعودی عرب کی وزارت دفاع نے بدھ کے روز کہا تھا کہ اس نے ریاض کی طرف داغے گئے چار بیلسٹک میزائلوں کو روک کر تباہ کر دیا اور میزائل کا ملبہ ریاض کے جنوب میں ایک ریفائنری کے قریب گرا۔
جمعرات کو ایک نئے بیان میں، وزارت نے کہا کہ ایک ڈرون بحیرہ احمر کی بندرگاہ یانبو میں سمریف ریفائنری سے ٹکرا گیا۔ حکام کا کہنا ہے یہاں ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
ایران نے کہا ہے کہ اگر اس کی توانائی کی تنصیبات کو مزید نشانہ بنایا گیا تو وہ خلیج میں امریکی اور اسرائیلی اتحادیوں کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو ’مکمل طور پر تباہ‘ کرنے تک حملہ کرے گا۔
اسرائیل کی جانب سے ایران کی پارس گیس فیلڈز پر حملے کے بعد تہران نے خلیجی خطے میں گیس اور تیل کی تنصیبات کے خلاف ایک نئی لہر شروع کر دی ہے۔
پاسدران انقلاب فورس سے وابستہ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کی ملٹری سینٹرل کمانڈ کے ترجمان نے کہا کہ ’ہم دُشمن کو خبردار کرتے ہیں کہ آپ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کر کے ایک بڑی غلطی کی ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ اگر ایسا دہرایا گیا تو آپ کے اور آپ کے اتحادیوں کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر اس کے بعد ہونے والے حملے اُس وقت تک نہیں رُکیں گے جب تک ان کی مکمل تباہی نہیں ہو جاتی۔
اُنھوں نے مزید کہا ایرانی ردِعمل اب تک کے حملوں سے ’بہت زیادہ شدید‘ ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ایرانی پارلیمنٹ میں حکومتی نمائندہ سمعیہ رفیعی نے کہا ہے کہ قانون ساز آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول ٹیکس نافذ کرنے کی تجویز پر غور کر رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے ’اسنا‘ کے مطابق رفیعی نے تہران کے والیاسر اسکوائر میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس ’آبنائے ہرمز کی حفاظت اور ملکی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے‘ کا پورا اختیار ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اپنے دشمنوں کو ان کی سابقہ آسائشوں سے محروم کر دیا ہے، اور وہ اب اس حقیقت کو قبول کرنے سے قاصر ہیں۔‘
سمعیہ رفیعی کا کہنا تھا کہ ’یہ جنگ ایران کی فیصلہ کن اور یقینی فتح پر ختم ہو گی اور اس کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنا ہمارے دُشمنوں کے لیے چیلنجز کا باعث بنے گا۔‘
امریکی افواج کی جانب سے لگ بھگ آٹھ ہزار اہداف کو نشانہ بنانے کے باوجود ایران کی جانب سے اب بھی پڑوسی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
فضائیہ اور بحریہ کی عدم موجودگی میں ایران میزائل اور ڈرونز کے ذریعے مختلف ممالک میں حملے کر رہا ہے۔
ایران کی زمینی ساخت اور کئی دہائیوں کی منصوبہ بندی کا مطلب یہ ہے کہ ان ہتھیاروں کے ذخیرے زمین کے نیچے یا پہاڑوں کے اطراف میں زمین سے کہیں نیچے ہیں۔
ان اہداف کو نشانہ بنانا مشکل ہے اور اسی لیے مختلف قسم کے بنکر بسٹرز کا استعمال اور چند روز قبل امریکہ کی جانب سے پانچ ہزار ٹن پاؤنڈ وزنی طاقتور بم استعمال کیا گیا۔
گذشتہ جمعے کو امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا تھا کہ ’ایران کی پوری بیلسٹک میزائل کی پیداواری صلاحیت، ہر وہ کمپنی جو ان میزائلوں کے ہر پرزے کو تیار کرتی ہے، مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ پورے ایران میں عمارتیں، کمپلیکس اور فیکٹری لائنیں تباہ ہو گئی ہیں۔‘

اگر ان میزائلوں کی تیاری کے ذرائع ختم کر دیے گئے ہیں، لیکن اس کے باوجود جو باقی رہ گئے ہیں، انھیں استعمال میں لایا جا رہا ہے۔
لہٰذا امریکہ اور اسرائیل موبائل لانچرز کو بھی ختم کرنے پر توجہ مرکوز کریں گے اور اس کے لیے وہ انٹیلی جنس معلومات اور فضائیہ کے ذریعے ’تلاش کریں اور اس تباہ کریں‘ کی پالیسی پر گامزن ہیں۔
عراق کے خلاف سنہ 1991 کی خلیجی جنگ میں امریکی فضائیہ کے ایف-15 ای سٹرائیگ ایگلز اور ایف-16 طیاروں کو صدام حسین کی فوج کے باعث موجود سکڈ میزائلوں کو ناکارہ بنانے کی ذمے داری سونپی گئی تھی، جو اسرائیل کے لیے خطرہ تھے۔
ان طیاروں کو ’سکڈ ہنٹنگ‘ کہا جاتا تھا، یہی حربے آج بھی استعمال ہو رہے ہیں۔