یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں ہو رہا
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو سیالکوٹ میں پسرور چھاؤنی کے دورے کے موقع پر اپنے خطاب میں انڈیا کے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’مسٹر مودی اگر دوبارہ یہ رستہ اختیار کرو گے تو منھ کی کھاو گے، اگر دوبارہ حملے کا سوچا تو جو تمھارا بچا ہے وہ بھی ختم ہو جائے گا۔‘ انھوں نے کہا ’سندھ طاس معاہدے سے متعلق سوچنا بھی نہ‘ اور کشمیر سمیت تمام امور پر جامع مذاکرات ہوں گے۔
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کی فرنٹ لائن پسرور چھاؤنی سیالکوٹ کا دورہ کیا۔ اس دورے میں ان کے ساتھ خارجہ، دفاع، منصوبہ بندی اور اطلاعات کے وفاقی وزرا بھی تھے۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق اس دورے میں وزیراعظم کے ہمراہ فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر اور پاکستان فضائیہ کے ایئرمارشل سربراہ ظہیر احمد بابر سدھو بھی تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس دورے کے دوران وزیراعظم کو آپریشن کو تفصیلات اور تیاریوں پر بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم شہباز نے فوجی جوانوں اور افسران سے اپنے خطاب میں کہا کہ ’مسٹر مودی اگر دوبارہ یہ رستہ اختیار کرو گے تو منھ کی کھاو گے، اگر دوبارہ حملے کا سوچا تو جو تمھارا بچا ہے وہ بھی ختم ہو جائے گا۔‘
انھوں نے انڈین قیادت سے کہا کہ ’سندھ طاس معاہدے سے متعلق کبھی سوچنا بھی نہ۔ اگر آپ نے پانی بند کرنے کا سوچا بھی تو وہ ریڈ لائن ہے تو واقعی پھر خون اور پانی اکھٹا نہیں بہے گا۔ پھر یہ کڑیل جوان پانی کا اپنا حق واپس لیں گے اور اس کو موجودہ صورتحال میں اسی طرح قائم رکھیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہISPR
شہباز شریف نے کہ کہ ’ہم نے پہلگام واقعے کی شفاف تحقیقات کا کہا تھا اور پاکستان کے تعاون کا یقین دلایا مگر آپ نے ہمارے اس سنجیدہ اور خلوص کی آفر کو چوروں کی طرف رات کے اندھیرے میں پاکستان پر حملہ کیا۔ ‘ وزیراعظم نے کہا ’ہماری فوج اور فضائیہ کے جہازوں نے پلٹ پلٹ کر اور جھپٹ جھپٹ کے اس اندھیری رات کو چاندنی رات بنا دیا۔ کس طرح رافیل کو فیل کر دیا، جھپٹ جھپٹ کرطیاروں کو تباہ کیا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’جس طرح ہمارے شاہنیوں نے دشمن کے جہازوں کو برباد کیا، یہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں۔ آپ کے رفال تباہ کیے، بری فوج نے پورا بریگیڈ تباہ کیا۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ ’انڈیا یہ سمجھتا تھا کہ روایتی جنگ میں پاکستان بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ مگر جس طرح اس محاذ پر ہماری فوج نے مقابلہ کیا اب اس پر ماہرین کی طرف سے کالم لکھے جائیں گے۔‘ وزیراعظم نے فوجی جوانوں اور افسران سے اپنے خطاب میں کہا کہ ’آپ نے انڈیا سے 1971 کا بدلہ اس جنگ میں لے لیا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میں آج یہاں ایک ایک افسر کوسلام پیش کرنے آیا ہوں، جس طرح آپ نے پاکستان کا وقار بڑھایا، اس کے لیے میرے پاس موزوں الفاظ نہیں ہیں۔ ‘ شہباز شریف نے کہا کہ ’اس پوری جنگ کی منصوبہ بندی جس دلیری اور دانشمندی سے آرمی چیف سید عاصم منیر نے کی میں اس کا ذاتی گواہ ہوں۔ میری اس دوران ان سے فون پر بھی بات ہوتی تھی اور براہ راست بھی ملاقات ہوتی تھی۔‘
اس کے بعد شہباز شریف نے فضائیہ اور بحریہ کے سربراہان کی بھی خصوصی تعریف کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ’مجھے ان پر فخر ہے۔ یہ قوم کا فخر ہیں۔ قوم کے بیٹے ہیں اور آج پاکستان کی بری، فضائیہ اور بحریہ پاکستان کا فخر بن چکے ہیں۔‘ وزیراعظم نے انڈین وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’مسٹر مودی ان کو دہشتگرد کہتے ہو۔ آپ کو کچھ خدا کا خوف آنا چاہیے۔ ہم مکمل طور پر یکسو ہیں۔ اگر دہشتگردی کی آڑ میں یہ چاہتے ہیں کہ افراتفری پیدا کی جائے اور پاکستان افواج کو مغربی سرحدوں سے نکال کر مشرقی سرحدوں پر انگیج کر دیں تو پھر سے دہشتگردی لوٹ آئے تو ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہISPR
’ہم امن اور جنگ دونوں کے لیے تیار ہیں‘
وزیراعظم شہباز شریف نے انڈیا کے وزیراعظم کو مخاطب ہو کر کہا کہ ’ہم تیار ہیں امن کے لیے بھی اور جنگ کے لیے بھی، چوائس آپ کی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’تم نے نیلم جہلم کو تباہ کرنے کی کوشش کی، اس کا زیادہ نقصان نہیں ہوا مگر آپ اگر اسے تباہ کرتے تو ہم تمھارے بگلہیار سمیت دیگر اثاثے تباہ کر دیتے۔‘
شہباز شریف نے وزیراعظم مودی کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہم صرف دہشتگردی پر بات کریں گے۔
پاکستان کے وزیراعظم نے کہا کہ مودی کو مخاطب ہو کر کہا کہ 1971 میں مکتی باہنی کو کس نے تربیت دی، کس نے انھیں بغاوت پر اکسایا۔ سمجھوتہ ٹرین پر کس نے حملہ کیا تھا۔ بلوچستان میں جو ٹرین اغوا کا افسوسناک واقعہ ہوا اس میں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے تانے بانے آپ سے ملتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہISPR
اس کے بعد شہباز شریف نے استفسار کیا کہ ’کلبھوشن کون ہے۔ وہ کہاں سے بلوچستان میں نمودار ہوا۔ وہ کس کی نمائندگی کر رہا تھا۔‘ شہباز شریف نے کہا ’مسٹر مودی یہ بھاشن اپنے پاس رکھیں۔ ہم خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں۔ امن کی خواہش کو کمزوری مت سمجھنا۔ کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہونا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آج فوج اور پوری قوم دہشتگروں سے نبرد آزما ہیں۔ ہم اپنا 150 ارب کا معاشی نقصان برداشت کر چکے ہیں اور اب بھی ہم دہشتگردی کا ماضی کی طرح ہمیشہ ہمیشہ کی طرح خاتمہ کریں گے۔‘
’مربوط ڈائیلاگ ہو گا‘
شہباز شریف نے انڈین وزیراعظم سے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ ’آپ کی تھانیداری کا بت پاش پاش ہو کر تباہ ہو چکا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم تھانیدار نہیں ہیں ہم خطے میں امن چاہتے ہیں۔ آؤ آگ کو ختم کریں۔‘ شہباز شریف نے کہا کہ مربوط ڈائیلاگ ہوگا۔ اس کے بغیر میٹھا میٹھا ہپ ہپ ہم نہیں ہونے دیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے خلیجی ممالک کے چار روزہ دور پر سعودی عرب سے قطر پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کا استقبال قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے کیا۔
شاہی محل ’لوسیل پیلس‘ میں اس وقت امریکی صدر کی امیر قطر سے ملاقات جاری ہے۔
صحافیوں کے سامنے اس لگژری محل میں امیر قطر نے ٹرمپ سے کہا کہ ’مجھے معلوم ہے کہ آپ امن کے داعی ہیں۔‘
انھوں نے قطر میں سنہ 2022 میں فٹ بال کے عالمی ٹورنامنٹ فیفا ورلڈ کپ کے بارے میں بتایا کہ اور کہا کہ اس دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
ٹرمپ نے اس پر انھیں کہا کہ ’یہ آپ کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
ٹرمپ نے کہا کہ وہ اور امیر قطر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کر چکے ہیں اور ’اب ہم مزید بڑے پیمانے پر یہ کر سکتے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم امن واپس لائیں گے، نہ صرف یہاں بلکہ مجھے معلوم ہے کہ آپ دیگر خطوں میں امن کے لیے ہماری مدد کرتے آئے ہیں جیسے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ہے۔‘
اس کے بعد امریکی صدر نے کچھ توقف کیا اور شاہی محل کے شاندار طرز تعمیر سے حیران ہو کر ادھر ادھر دیکھا۔
اس کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ ’آپ نے لاجواب کام کیا ہے۔ اسے دیکھیں یہ بہت خوبصورت ہے۔ تعمیر کے شعبے سے تعلق کی وجہ سے مجھے یہ بہت سنگ مر مر کا کام بہت خوب ہے۔ اس کام میں کوئی نقص نہیں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت خلیجی ممالک کے چار روزہ دورے پر قطر میں موجود ہیں۔ اس سے قبل دو دن دن سے وہ سعودی عرب کے دورے پر تھے۔ سعودی عرب میں معاہدات کے بارے میں ہم نے آپ تک تفصیلات پہنچائی ہیں۔ اب قطر میں جو معاہدات یا پیشرفت ہوگی اس کی تفصیلات بھی قارئین کے لیے یہاں شیئر کی جائیں گی۔
آئیں پہلے اس طیارے پر بات کرتے ہیں جو قطر کی طرف سے صدر ٹرمپ کو تحفے میں دیے جانے کے امکانات ہیں اور یہ قیمتی تحفہ اس وقت موضوع بحث بھی ہے۔
وائٹ ہاؤس اور قطر کے شاہی خاندان کے درمیان حالیہ بات چیت کا موضوع ایک لگژری جمبو جیٹ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اس پرتعیش طیارے کا دفاع کیا ہے جس کے تحت قطر سے ملنے والے طیارے کو صدارتی جہاز ایئر فورس ون کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ (قطر) ایک تحفہ دے رہے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ اگر وہ اسے لینے سے انکار کریں تو ’یہ بیوقوفی ہو گی۔‘
تاہم ایک بیان میں قطر نے کہا کہ یہ طیارہ کوئی تحفہ نہیں مگر ’عارضی طور پر‘ اس طیارے کی منتقلی دونوں ملکوں کے بیچ زیرِ بحث ضرور ہے۔
امریکہ میں بی بی سی کے شراکت دار سی بی ایس نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ کی مدت کے خاتمے پر یہ طیارہ صدارتی لائبریری کو عطیہ کر دیا جائے گا۔
یہ خبر ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب ٹرمپ قطر کا دورہ کرنے جا رہے ہیں۔ یہ ان کے دوسرے صدارتی دور کا پہلا بڑا غیر ملکی دورہ ہو گا۔
امریکہ کے لیے قطر کے میڈیا اثاشی علی الانصاری نے کہا ہے کہ یہ مذاکرات قطر کی وزارت دفاع اور امریکی محکمۂ دفاع کے بیچ جاری ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر دونوں ملکوں میں قانون کے محکمے نظر ثانی کر رہے ہیں اور تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
امریکہ میں صدارتی تحائف سے متعلق قانون

،تصویر کا ذریعہReuters
لندن میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے آئینی ماہر پروفیسر اینڈریو مورن کا کہنا ہے کہ ’یہ تحفہ آئینی حدود سے بڑھ کر ہے اور ہم نے اس سے قبل اتنا قیمت تحفہ نہیں دیکھا۔‘
واضح رہے کہ کانگریس نے غیرملکی تحائف قبول کرنے سے متعدد قوانین کی منظوری دے رکھی ہے۔ ان قوانین میں 1966 کا ’فارن گفٹس اینڈ ڈیکوریشنز ایکٹ‘ بھی شامل ہے۔ اس قانون کے مطابق ایک خاص مالیت سے زائد تحفے کو وصول کرنے کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہوتی ہے۔
امریکی قانون کے تحت اس وقت امریکی حکام 48 کروڑ ڈالر سے کم مالیت کا تحفہ وصول کر سکتے ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح کر رکھا ہے کہ قطر سے ملنے والا یہ طیارہ بالآخر صدارتی لائبریری کا حصہ بن جائے گا جس سے ان کا مطلب ان کی میوزیم فاؤنڈیشن ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ میں ایک روایت ہے کہ صدر ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی دستاویزات پر مبنی ایک لائبریری اور یادداشتوں سے بھرا ایک میوزیم قائم کرتے ہیں، جو نجی عطیات سے چلایا جاتا ہے اور یہ عوام کے لیے بھی کھلا ہوتا ہے۔
بی بی سی ویریفائی کو ماہرین نے بتایا ہے کہ یہ طیارہ براہ راست صدر کی بجائے امریکی انتظامیہ کو دیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے میوزیم کے لیے اسے عطیہ کر سکتے ہیں اور یوں وہ آئین کی ممکنہ خلاف ورزی سے بچ سکتے ہیں۔
واشنگٹن میں ذمہ دار شہریوں اور اخلاقیات سے متعلق ایک تنظیم کے سربراہ جورڈن لبووٹز کا کہنا ہے کہ دور صدارت کے بعد ٹرمپ کی طرف سے اس طیارے کا استعمال (آئینی) حدود کی خلاف ورزی ہو گی۔
اطلاعات کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے ایک میمو تیار کیا ہے جس میں اس طیارے کو بطور تحفہ قبول کرنے کی اجازت کے ساتھ وجوہات تحریر کی گئی ہیں تاہم ابھی یہ میمو عام نہیں کیا گیا۔
اس طیارے سے متعلق تفصیلات جاننے کے لیے بی بی سی اردو کی اس خبر پر کلک کیجیے۔

،تصویر کا ذریعہISPR
انڈیا کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران زخمی ہونے والے افواج پاکستان کے مزید دو فوجی اہلکار حوالدار محمد نوید اور پاکستان فضائیہ کے سینیئر ٹیکنیشن محمد ایاز دم توڑ گئے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک ہونے والے پاکستانی فوجی اہلکاروں کی تعداد 13 ہو گئی ہے جبکہ زخمی اہلکاروں کی تعداد 78 بنتی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق چھ اور سات مئی کو شروع کی گئی انڈین افواج کی ’جارحیت‘ میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں خواتین، بچے، اور معمر افراد بھی شامل تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ’شہدا کی عظیم قربانی ان کے حوصلے، فرض سے وفاداری، اور غیر متزلزل حب الوطنی کی ہمیشہ رہنے والی علامت ہے۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق ’یہ قربانیاں قوم کی اجتماعی یادداشت میں ہمیشہ زندہ رہیں گی اور آنے والی نسلوں کے لیے جرات اور قربانی کی روشن مثال بنی رہیں گی۔‘

،تصویر کا ذریعہANI
پاکستانی رینجرز نے بدھ کے روز بی ایس ایف یعنی انڈین رینجرز کے جوان پرنم کمار ساؤ کو انڈیا کے حوالے کر دیا ہے۔ نیوز ایجنسی اے این آئی نے ان کی اہلیہ رجنی ساو سے بات کی ہے جن کے شوہر کو 23 اپریل کو پاکستانی حکام نے پنجاب کی سرحد سے گرفتار کر لیا تھا۔
رجنی ساؤ نے کہا کہ ’آج صبح ہمیں فون آیا کہ پی کے ساؤ انڈیا پہنچ گئے ہیں اور وہ محفوظ ہیں۔‘ رجنی کے مطابق ’میرے شوہر نے مجھے ویڈیو کال بھی کی، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’سب نے میری مدد کی ہے، پورا ملک میرے ساتھ کھڑا ہے۔ سب کا شکریہ، آپ سب کی وجہ سے میرے شوہر انڈیا واپس آئے ہیں۔ مودی جی یہاں ہیں تو سب کچھ ممکن ہے۔‘
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’مجھے اس خبر پر خوشی ہوئی کہ ہمارے بی ایس ایف کے جوان پرنم کمار کو رہا کر دیا گیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہANI
انڈیا کے ادارے بارڈر سکیورٹی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ بدھ کے روز بی ایس ایف کے کانسٹیبل پرنم کمار شو کو پاکستان نے واپس انڈیا کے حوالے کر دیا ہے۔
بارڈر سکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پرنم کمار کو پاکستانی رینجرز نے 23 اپریل کو پنجاب کے بارڈر سے گرفتار کیا تھا۔ جنھیں آج صبح تقریباً 10.30 بجے جوائنٹ چیک پوسٹ اٹاری، امرتسر پر انڈیا کے حوالے کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ جس وقت انڈیا نے پرنم کمار کو پاکستانی رینجرز کی جانب سے تحویل میں لینے کا الزام عائد کیا تھا اس وقت بھی پاکستان نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی تھی اور اب ان کی رہائئ کی خبر پر بھی تاحال پاکستان نے رد عمل نہیں دیا ہے۔
بی ایس ایف بیان کے مطابق ’بی ایس ایف کے جوان پرنم کمار 23 اپریل 2025 سے پاکستان رینجرز کی تحویل میں تھے اور ان کی رہائی طے شدہ پروٹوکول کے مطابق پرامن طریقے سے کی گئی۔‘
بیان کے مطابق پرنم کمار کی رہائی پاکستان رینجرز کے ساتھ مستقل فلیگ میٹنگز اور دیگربات چیت کے چینلز پر معاملہ اٹھانے کے بعد عمل میں آئی۔
عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو ایک ارب دو کروڑ ڈالر سے زائد رقم کی قسط موصول ہوگئی ہے۔
سٹیٹ بینک کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے دی گئی رقم ای ایف ایف پروگرام کے تحت دی گئی ہے اور یہ رقم 16 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے میں ذخائر میں شامل کی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہ@StateBank_Pak
یاد رہے کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے رقم جاری کرنے کی منظوری نو مئی کو دی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’انڈیا کے ساتھ حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ پاکستانی ایک بہادر اور خوددار قوم ہیں۔ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ فوج بھی میری ہے اور یہ ملک بھی میرا ہے۔‘
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر عمران خان کے آفیشل اکاؤنٹ سے جاری بیان میں پاکستان اور انڈیا کشیدگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’جس طرح ہمارے جوانوں نے فضائی اور زمینی سرحدوں پر مودی کو شکست دی ویسے ہی پاکستانی عوام خصوصاً سوشل میڈیا نے مودی اور آر ایس ایس کے بیانیے کو دنیا بھر میں شکست دی-‘
عمران خان کے بیان کے مطابق ’مودی نے پاکستان میں سویلین بچوں، عورتوں، بزرگوں اور تنصیبات کو ٹارگٹ کر کے بزدلی کا مظاہرہ کیا جس کا ہماری فورسز نے بہترین جواب دیا- ہم ان بزدلانہ حملوں میں شہید ہونے والے سویلینز اور ملٹری آفیشلز کی فیملیز کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہ@ImranKhanPTI/ScreenShot
عمران خان نے پاکستان کی فضائیہ سمیت تمام فوجی جوانوں کو پروفیشنلزم اور بہترین کارکردگی دکھانے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’مودی کی پوری کوشش ہو گی کہ پاکستان کو معاشی سطح پر بھی نقصان پہنچائے۔ کسی بھی نئے حملے کی صورت میں قوم کو تیار اور متحد رہنا ہو گا۔‘
عمران حان کے بیان کے مطابق ’جنگیں 60 فیصد تک اعصاب سے لڑی جاتی ہیں اور اسی لیے ایسی لیڈر شپ کا ہونا انتہائی اہم ہے جسے قوم کی حمایت حاصل ہو اور جو فوری طور پر بڑے فیصلے کرنے اور کسی بھی حملے کا جواب دینے کی طاقت رکھتی ہو۔ اس لیے میں مسلسل اس بات پر زور دیتا آیا ہوں کہ ہمیں اپنے لوگوں کو ’آئیسولیٹ‘(تنہا) نہیں کرنا چاہیے اور نظام انصاف کو زندہ کرنا چاہیے-‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کی قیادت غیر متزلزل اور طاقتور اور ذہین ہے، دونوں ممالک نے موجودہ کشیدہ صورتحال کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے دانشمندی کا مظاہرہ کیا اور امید ہے یہ جنگ بندی مستقل ہو گی۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ بات گزشتہ روز ریاض میں سعودی امریکن انویسٹمنٹ فورم سے خطاب کے دوران کہی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں نے پاکستان اور انڈیا پر میزائل رکھنے اور مل کر تجارت کرنے پر زور دیا ہے اور امید ہے ہم دونوں ممالک کے رہنماؤں کو ایک بہترین ڈنر پر اکھٹا کر سکیں گے۔
یاد رہے کہ کئی دنوں سے جاری میزائل اور ڈرون حملوں کے الزامات کے بعد گزشتہ ہفتے پاکستان اور انڈیا کے درمیان فوجی کارروائیوں کا تبادلہ اس وقت تھم گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کی شب اعلان کیا تھا کہ امریکہ کی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ملک 'فوری اور مکمل سیز فائر' پر مان گئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’مجھے جنگیں پسند نہیں اور میں دنیا بھر میں امن کا خواہاں ہوں، دو روز قبل میری انتظامیہ نے پاکستان اورانڈیا کے درمیان فوری جنگ بندی کروائی اور کشیدگی ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔
خطاب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے نائب صدر جے ڈی ونس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ لوگوں نے ٹیم کے ساتھ ملکر بہترین کام کیا، کیونکہ یہ کشیدگی دن بدن بڑھتی جارہی تھی جس میں لاکھوں اموات ہوسکتی تھیں۔‘
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ انھوں نے انڈیا اور پاکستان کو متنبہ کیا تھا کہ اگر لڑائی نہ روکی گئی تو امریکہ دونوں ملکوں سے تجارت روک دے گا۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام پر عائد امریکی پابندیاں اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ سعودی عرب میں اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ وہ شام کو عظیم ملک بننے کا موقع دینا چاہتے ہیں۔