بی بی سی اردو کے نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق دن کا آغاز خاصا بوجھل تھا۔ ناشتے کی میز پر میری بارہ سالہ بیٹی نے پوچھا کہ صرف بات کرنے پر کسی کو کیوں گولی ماری جا سکتی ہے؟ اور وہ بھی ایک چودہ سالہ بچی کو!
قومی اسمبلی میں موجود نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق اسمبلی میں معمول کی کارروائی معطل کر کے ملالہ پر ہونے والے حملے پر بحث کی گئی ہے۔ اس معاملے پر آج متفقہ قرارداد لائے جانے کا بھی امکان ہے
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر یاسین آزاد نے نامہ نگار شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملالہ یوسف زئی پر حملے سے پاکستان کا تشخص دنیا بھر میں ایک بار پھر مجروح ہوا ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر اس حملے میں ملوث افراد گرفتار نہ ہوئے تو ایسوسی ایشن کوئی دوسرا لائحہ عمل بھی اختیار کر سکتی ہے۔
سوات سے صحافی انور شاہ کے مطابق بدھ کو ملالہ یوسف زئی کی صحت یابی کے لیے مساجد میں خصوصی دعائیں کی گئیں۔ نجی سکولوں کی تنظیم کے اعلان کے مطابق آج تمام نجی تعلیمی ادارے بند ہیں تاہم سرکاری سکولوں میں حاضری معمول کے مطابق ہے۔ شہر میں حالات بظاہر معمول پر آ چکے ہیں اور گذشتہ روز بڑھائی جانے والی سکیورٹی بھی اب معمول کے مطابق کر دی گئی ہے۔
معروف وکیل اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ یہ عمل خواتین کے ساتھ دشمنی ہے۔ یہ علم کے ساتھ دشمنی ہے۔ یہ ہماری آئندہ نسلوں کے ساتھ دشمنی ہے۔ اب ان دشمنوں کے ساتھ ہم سب کو آنکھیں کھول کے کچھ کرنا پڑے گا۔ اب ہمیں سوچنا پڑے گا۔ اُس (ملالہ) قوم کی بیٹی کے لیے دعائیں نکلتی ہیں۔ مجھے رات بھر نیند نہیں آئی۔ 
پاکستان کی قومی اسمبلی نے ملالہ یوسف زئی پر طالبان کے حملے کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔ پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ملالہ یوسف زئی پر حملہ کرنے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے سی ایم ایچ پشاور جاکر ملالہ یوسف زئی اور ان کے خاندان سے ملاقات کی۔ انہوں نے اس حملے کو قابلِ نفرت دہشتگرد کارروائی قرار دیا اور کہا کہ ملالہ اور اس کی ساتھی طالبات پر حملہ کرنے والوں نے ایک بار پھر ظاہر کیا ہے کہ ان کے نزدیک انسانیت کس قدر ارزاں ہے اور وہ اپنا طرزِ فکر نافذ کرنے کے لیے ظالمانہ ارادے رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے غیر انسانی فعل اس شدت پسندانہ ذہنیت کو بے نقاب کرتے ہیں جس کا سامنا پاکستانی قوم کر رہی ہے۔
سوات سے صحافی انور شاہ نے بتایا کہ تھانہ سیدو شریف کے حوالدار محمد عالم کے مطابق پولیس نے سرچ آپریشن کے دوران گزشتہ شام اکتالیس افراد کو ملالہ حملے میں ملوث ہونے کے شبے میں گرفتار کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان افراد کو آج صبح عدالت میں پیش کیا گیا۔ پولیس اہلکار کے مطابق عدالت نے سب کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا جس کے بعد سب گرفتار شدگان کو چھوڑ دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ ملالہ یوسفزئی کو تین بار سکیورٹی فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی لیکن ان کے والد نے سکیورٹی لینے سے انکار کردیا۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے پشاور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جس شخص نے ملالہ پر گولی چلائی اس کی اور اس کے گینگ کی شناخت ہو گئی ہے۔ میں وعدہ کرتا ہوں قوم سے کہ ان کو پکڑیں گے اور بھاگنے نہیں دیں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ’میں نے فضائی ایمبولینس اور بیرون ملک منتقل کرنے کے تمام احکامات معطل کر دیے ہیں۔ ایک نیورو سرجن امریکہ اور ایک برطانیہ میں سٹینڈ بائی پر ہیں اور جب بھی ضرورت پڑی تو ان کو پاکستان بلا لیا جائے گا۔‘
BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔
ملالہ پرحملہ دراصل ايک سوچ پرحملہ ہے اورحملہ کرنےوالے نے يہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ايسے لوگ جو اس ملک ميں امن کی خواہش رکھتے ہيں وہ اپنی سوچ تبديل کر لے-