BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 August, 2005, 15:07 GMT 20:07 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
پولیو کی دوا: سنگین غلط فہمیاں
 

 
 
یہ غلط فہمی کہاں سے آئی ہے کہ پولیو کے قطرے بچوں کن نقصان پہنچا سکتے ہیں
بدھ کو ’یوم پولیو‘ تھا۔ اس دن بچوں کو پولیو کی دوا پلائی جاتی ہے لیکن اس بار بھی بعض لوگوں نے اپنے بچوں کو پولیو کی خوراک پلانے سے انکار کر دیاہے۔ عام تصور یہ ہے کہ اس کا انکار کم پڑھے لکھے اور دیہاتی لوگ کرتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ لکھنؤ جیسے شہر میں بھی کچھ لوگ پولیودوا کے مخالف ہیں۔

پولیوکی خوراک پلانے کے لیے کیمپ لگائے جاتے ہیں۔ لیکن جو لوگ کیمپ تک نہیں پہونچ پاتے انکے لیے طبّي ٹیمیں انکےگھرجاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک ٹیم جب جامی میاں کے گھر پنچی تو انہوں سوال کیا ’یہ دو بوند زندگی دینگے یا پھر ہماری نسل کا ہی خاتمہ کر دیں گے؟‘۔

جامی کے مکان کے پاس ہی ایک باشندے پّنا لال طبّی ٹیم پرآگ بگولہ ہوکر کہنے لگے ’اگر دوبارہ آئے تو بھگوان قسم اپاہج نہ کر دیا تو میرا نام بدل دینا‘۔ اسی طرح جب ٹیم فریدہ کی گلی کے پاس پہونچی تواس نے طبی ٹیم کو آتے دیکھ کر جھٹ سے اپنے گھرکا دروازہ بند کرلیا۔

یہ تینوں افراد لکھنؤ کےان پینتیس گھروں ميں سے ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کو پولیو خوراک پلانے سے انکار کیا ہے۔

ماؤں بچوں کو بیمار نہیں دیکھنا چاہتیں لیکن مردو کی لائی ہوئی افواہوں کا جواب کیادیں

حکومت نے پولیو کے خاتمے کے لیے ایک زبردست مہم شروع کی ہوئی ہے۔ اسکے لیے ہرطرح کے ذرائع ابلاغ میں اشتہارات دیے جاتے ہیں لیکن بعض لوگوں کو غلط فہمی ہے کہ پولیو کی خوراک لینے سے بانجھ پن کی شکایت ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ اس سے گریز کرتے ہیں۔ اس مہم کے پچھلے دور میں لکھنؤ کے تقریبا ایک سو سترہ گھروں نے اس سے انکار کردیا تھا۔

علاقے کے میونسپل اسپتال میں پولیوں مہم کے سپر وائزر ڈاکٹر پرشانت واجپئی کہتے ہیں کہ ’معلوم نہیں ان لوگوں کی سمجھ میں یہ بات کب آئےگی کہ یہ اپنے ہی بچوں کے لیے خطرہ مول لے رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہیں دوا نا پلانے سے پولیو کے وائرس کو کھلی دعوت مل جاتی ہے‘۔

ہر ماں کا خواب ہوتا ہے کہ اس کا بچہ صحت مند ہو

اسی اسپتال کی ایک ڈاکٹر سیما کا کہنا تھا کہ اسے کسی مذہبی نقطہ نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ یہ محض جہالت ہے۔ انکا کہنا ہے کہ انکی نگرانی میں جن آٹھ علاقوں میں اس طرح کی مشکلیں پیش آئیں ان میں سے چار علاقے مسلمانوں کے تھے۔ اور چار میں صرف ساٹھ فیصدہی مسلمان ہیں۔

بچوں کی صحت کے متعلق اقوام متحدہ کا ادارہ یونیسیف ریاست اتر پردیش کے بنارس شہر میں کام کر رہا ہے۔ وہاں پولیوں کے مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اس ادارے کے ایک کارکن پرینکا کھّنہ نے بتایا کہ ’ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ پولیو دوا بچوں کو نامرد بناتی ہے اور حکومت نےیہ مہم مسلمانوں کی آبادی کم کرنے کے لیے شروع کی ہے‘۔

خاندنی فلاح و بہبودکے ریاستی وزير احمد کا کہنا ہے کہ وہ اس طرح کی مشکلوں سے پریشان نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم نے پولیو کی جنگ تقریبا جیت لی ہے۔ اس وقت ریاست میں ایسے مریضوں کی تعداد صرف بارہ رہ گئی ہے‘۔ انکا کہنا تھا کہ جوگھر بچ گئے ہیں وہاں طبی ٹیمیں دوبارہ جائيں گی اور اس جان لیوا بیماری کے خطرآت سے آگاہ کرینگی۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد